سعودی عرب کے پاس عالم اسلام کی قیادت کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں یا اگر ہے تو کس قدر ہے اس کا تعین کرنے سے پہلے ہمیں پوری دنیا میں سعودی عرب کی حیثیت کا جائزہ لینا ہوگا کیونکہ ایک طرف جہاں عالم اسلام کی جغرافیائی حدود انتہائی وسیع ہیں تو دوسری طرف گلوبلائزیشن کے دور میں عالم اسلام پوری دنیا کے ساتھ بڑی گہرائی کے ساتھ جڑ گیا ہے۔اس لیے ہمیں سب سے پہلے سعودی عرب کو طاقت و قوت کے بین الاقوامی میزان پر پرکھنا ہوگا۔
سعودی عرب طاقت و قوت کے بین الاقوامی میزان پر:
بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی حیثیت سمجھنے کے لیے ہمیں اس میزان پر سعودی عرب کو پرکھنا ہوگا جس کا استعمال 'بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی ملک کی طاقت و قوت کو پرکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔اس میزان کے کئی عناصر ہیں جنھیں 'ملکی طاقت و قوت کے عناصر (Elements of National Power ) کہا جاتا ہے۔یہ عناصر مختلف و متعدد ہیں لیکن مجموعی طور پر انھیں چند خانوں میں رکھا جا سکتا ہے۔یہ خانے ہیں: جیو اسٹریٹجک اہمیت،
سعودی عرب کی جیوسٹریٹجک اہمیت
سعودی عرب مغربی ایشیا میں واقع جزیرہ نما عرب کے بیشتر حصہ پر مشتمل ہے۔اس کا رقبہ 2,150,000 مربع کلومیٹر کو محیط ہے۔جغرافیائی طور پر،
١-اسلام کے نزدیک دو مقدس ترین شہر مکہ و مدینہ سعودی عرب ہی میں واقع ہیں،
٢-یہ نہ صرف علاقائی قائد رہا ہے بلکہ آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (OIC) اور اوپیک کا کلیدی رکن ہے۔
٣-کافی عرصہ سے امریکہ کا حلیف ہونے کے ناطے بھی اس کی علاقائی حیثیت مزید اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔
٤-خلیج عربی اور بحر احمر پر لمبا ساحلی علاقہ ہونے کی وجہ سے اسے خلیج عربی اور نہر سویز کے راستے سامان کی ترسیل میں خاصی سہولیات میسر ہیں۔
٥-تیل اور گیس کے بڑے ذخائر کا مالک ہونے کی وجہ سے،
٦-سعودی عرب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں اچھی خاصی مقدار میں سرمایہ کاری کر رہا ہے،
سعودی عرب کی معیشت
سعودی عرب کی معیشت تیل پر منحصر ہے۔ایک اندازہ کے مطابق،
ایک اندازہ کے مطابق،
پیٹرولیم سیکٹر سے سعودی بجٹ کی آمدنی کا تقریبا ٨٧%،
سعودی حکومت نے اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ،
سعودی گریجویٹس کی ملازمت کی صلاحیتوں اور پرائیویٹ جاب مارکیٹ کی ضرورتوں کے درمیان موجود خلیج معاشی تنوع اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔تقریبا ٤.٦ ملین غیر ملکی سعودی عرب میں ملازمت کر رہے ہیں۔
تیل اور گیس کے علاوہ،
سعودی عرب کا زرعی شعبہ بہت چھوٹا ہے۔حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کی کوششوں کے باوجود،
گرچہ تقریبا دو ملین حاجیوں کی آمد کی وجہ سے پیدا شدہ ملازمتیں زیادہ دنوں تک نہیں ٹھہرتیں،
آبادیات
ایک اندازہ کے مطابق،
١٩٧٠ کی دہائی تک،
سعودی عرب کی آبادی میں جوانوں کی کثرت ہے۔ایک اندازہ کے مطابق،
فوجی قوت
سعودی افواج بری،
مشرق وسطی میں سعودی عرب کی فوج سب سے زیادہ فنڈ رکھنے والی فوج ہے۔مملکت اپنے بجٹ کا ٢٥% دفاع پر خرچ کرتی ہے جو تقریبا ٨٨ بلین امریکی ڈالر ہے۔
افرادی قوت کے حساب سے،
بحری فوج میں ٦٠ ہزار لوگ ہیں۔ایئر ڈیفنس فورسز اور اسٹریٹجک راکیٹ فورسیز میں تقریبا ٤٠ ہزار فوجی ہیں۔
فضائی فوج میں ٦٣ ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں۔فوج کے پاس اپنی انٹلیجنس سروس بھی ہے،
سعودی عرب اپنا زیادہ تر فوجی اسلحہ یوروپی اور امریکی سپلائرس سے درآمد کرتا ہے،
ٹکنالوجیکل طاقت
ٹیکنالوجی کے میدان میں سعودی عرب کوئی خاص مقام نہیں رکھتا۔البتہ حالیہ سالوں میں اس طرف کافی توجہ دی جا رہی ہے۔سعودی عرب نے سائنس اور ٹکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھائی ہے۔یونیورسٹیاں اور یونیورسٹیوں میں سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبے کھولے جا رہے ہیں،
سیاسی تنظیم اور قیادت
سعودی عرب میں بادشاہت ہے۔عموما،
کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کی عوام اپنے حکمرانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
خارجہ پالیسی
فی الحال،
نتیجہ:
مذکورہ بالا جائزہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سعودی عرب مجموعی طور پر بلا شبہ مشرق وسطی میں ایک علاقائی طاقت ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسلام کے دو مقدس ترین شہروں کے یہاں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی مذہبی حیثیت دو چند ہو جاتی ہے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اس کے پاس تیل اور گیس کے بڑے ذخائر ہیں جس کی وجہ سے دولت کی فراوانی ہوئی ہے اور عالمی سطح پر بھی اقتصادی اہمیت حاصل ہوئی ہے،
سعودی عرب کو اگر عالم اسلام کا قائد بننا ہے تو اسے علاقائی طاقت سے آگے بڑھ کر عالمی طاقت یا کم از کم بڑی طاقت بننے کے بارے میں سوچنا،
١-سعودی عرب کو اپنی خارجہ پالیسی بلکہ تمام قسم کی پالیسیوں کی از سر نو اس نہج پر تشکیل کرنی چاہیے کہ وہ آگے چل کر ایک عالمی طاقت بنے۔
٢-اپنی جیو اسٹریٹجک اہمیت کو نظر میں رکھتے ہوئے اس کا فائدہ اس طرح اٹھانا کہ عالم اسلام کی قیادت ملنے کی راہ ہموار ہو۔
٣-اپنی روایتوں کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی تنوع پر کام کرنا اور تیل پر انحصار کم کرنا۔وژن 2030 اچھا منصوبہ ہے۔خیال رکھیں کہ یہ منصوبہ عملی جامہ بھی پہنے۔
٤-تعلیم کے شعبہ کو مزید بار آور بنانا تاکہ سعودی فارغین ملکی معیشت میں حصہ لے سکیں اور اسے ترقی کی نئی اونچائیوں تک لے جائیں۔
٥-سعودی عرب کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی غذائی ضروریات کے معاملہ میں خود کفیل ہو سکے۔اگر یہ ممکن نہ ہو تو انتہائی قریبی مسلم ممالک کا تعاون لینا چاہیے۔
٦-سعودی عرب کی موجودہ آبادی یا آبادی کی کوالٹی اس کو صرف ایک علاقائی طاقت بنائے رکھنے کے لیے کافی ہے۔سعودی عرب کی توجہ ایک عالمی طاقت بننے کی طرف ہونی چاہیے اور اس کے لیے اسے اپنی آبادی میں اضافہ کے ساتھ آبادی کی کوالٹی میں بھی بہتری لانی ہوگی۔
٧-سعودی عرب کے پاس خاطر خواہ تعداد میں فوج ہے،
٨-دفاعی شعبہ میں عالمی طاقتوں کے دوش بدوش ہونا اور ساز وسامان کے تعلق سے مکمل خود انحصاری حاصل کرنا سعودی عرب کا اولین مقصد ہونا چاہیے۔
٩-میزائل پروگرام،
١٠-مسلم ممالک کو متحد کرنے،
یہ چند خطوط ہیں جنھیں میں یہاں ذکر کر سکا۔یہ نہ تو حصری ہیں اور نہ ہی حتمی۔سعودی حکومت کو اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کرکے منصوبہ بنانا چاہیے اور اس پر بار آور انداز میں عمل کرنا چاہیے تاکہ سعودی عرب کو ایک عالمی طاقت کے روپ میں دیکھنے کا ہمارا خواب شرمندۂ تعبیر ہو۔
واللہ ولي التوفيق!!!





