سید مصطفی لطفی بن محمد لطفی بن حسن لطفی صوبہ اسیوط کے شہر منفلوط میں ۱۲۹۳ھ (1876) میں ایک شریف گھرانے میں پیدا ہوئے جو دینی عظمت اور فقہی میراث کا مالک تھا۔ان کے گھرانے میں تقریبا دوسوسال تک شرعی قضاء کا عہدہ اور صوفیاء کی گدی وراثت میں چلی آرہی تھی۔ان کے والد عربی تھے جن کا نسب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے اور ماں ترکیہ تھیں۔گاؤں کے دیگر بچوں کی طرح وہ مکتب میں داخل ہوئے اور نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا۔پھر گیارہ سال کی عمر میں جامعہ ازہر پہنچے۔وہاں انھوں نے دس سال تک مختلف علوم وفنون کی تعلیم حاصل کی۔وہاں پہنچ کر انھوں نے شیخ محمد عبدہ کو قرآن مجید کی تفسیر اور عبدالقاہر جرجانی کی ’’دلائل الاعجاز‘‘ اور ’’اسرارالبلاغہ‘‘ کا درس دیتے ہوئے دیکھا تو ان کے درس میں پابندی سے شریک ہونے لگے۔
منفلوطی دینی تعلیم میں تعمق پیدا کرنے کے بجائے ادب کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔اسی لیے وہ شیخ محمد عبدہ کے دروس میں شرکت کے ساتھ ساتھ قدماء کی کتابوں اور ان کے دواوین کا مطالعہ کرنے لگے۔چنانچہ انھوں نے شامی شعراء: ابو تمام،
منفلوطی بکثرت مطالعہ کرتے،
منفلوطی کی زندگی کے یہی روز وشب ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی آسان نہیں تھی۔انھیں حصول رزق کے لیے بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی تھیں۔جیل میں ڈالے جانے کے بعد انھیں وہاں کی صعوبتوں کا اندازہ ہوا۔مصائب و مشکلات اور ان کی ناکام زندگی نے ان کے اندر غرباء ومساکین کے دردوالم کا شدید احساس پیدا کردیا تھا۔یہ وہ دور تھا جب مصر انگریزی استعماریت کی چکی میں پس رہاتھا اور انگریز مصریوں کو تنگ کرنے کی کوشش کرتے۔جس کی وجہ سے وہ غیر معمولی یاس اور دکھ درد کا احساس کرتے۔جب منفلوطی کے ذاتی دردوغم کے ساتھ ان کی قوم کے درد کا امتزاج ہوا تو وہ ان ادباء کے مثل ہوگئے جو اپنی تحریروں میں اپنی قوم کے لیے روتے اور کراہتے ہیں۔
اسلوب نگارش اور ادب:
مؤرخین ادب نے منفلوطی کے ادب پر ناقدانہ نگاہ ڈالنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس میں لفظی کمزوری اور معنوی تنگی پائی جاتی ہے۔نیزان کے اندر کہانی نویسی کی صلاحیت کم اور کہانیوں میں سسپنس کا فقدان ہے البتہ ان کا صاف شفاف اسلوب ان کی وہ امتیازی خوبی ہے جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔
اس سلسلے میں احمد حسن زیات رقمطراز ہیں:
’’منفلوطی فطرتا ادیب پیدا ہوئے تھے۔ان کے ادب میں آمد آورد سے بہت زیادہ ہے۔وہ پہلے افسانہ نویس ہیں اور انھوں نے اس فن کو اس حد تک عمدہ اور کامل بنایا جس کی توقع اس جیسے ماحول میں پیدا ہونے والے اور اس دور کے لکھنے والوں سے نہیں کی جاسکتی تھی۔منفلوطی کے ادب کے پھیلنے کا راز یہ ہے کہ وہ اس زمانے میں رونما ہوا جب خالص ادب پر جمود واضمحلال طاری تھا اور اس عالم میں اچانک لوگوں کو ان کے یہ دلچسپ افسانے نظر آئے جو پاکیزگی اسلوب،
ڈاکٹر شوقی ضیف لکھتے ہیں: ’’ منفلوطی کا علمی افق محدود تھا۔غیر ملکی زبانوں کا علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ ترجمہ شدہ کتابوں کا مطالعہ کرتے اور اپنی فکری افق کو وسعت دینے کی کوشش کرتے۔ان کے دل میں بڑی امنگ تھی لہذا انھوں نے بعض مغربی کہانیوں اور ڈراموں کا ترجمہ کرنا چاہا مگر فرانسیسی یا دیگر غیر ملکی زبانوں پر انھیں عبور نہ تھا لہذا انھوں نے اپنے چند دوستوں سے غیر ملکی ادبی شہ پاروں کے ترجمے کا مطالبہ کیا جنھیں بعد میں انھوں نے اپنے فصیح وبلیغ اسلوب میں عربی کا جامہ پہنایا۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے مقصد سے اپنے دوستوں کو آگاہ کردیا تھا اسی لیے انھوں نے رومانی رجحان کی حامل بعض تحریروں کا ترجمہ کیا کیونکہ یہ رجحان مسکینوں کی مدد اور مالداروں کی تنقید کے ساتھ جذباتیت سے معمور اسلوب کا اہتمام کرتا ہے۔منفلوطی کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ترجمہ شدہ نمونوں کو پوری آزادی کے ساتھ مصری رنگ وآہنگ میں اس طرح ڈھال دیتے جیسے نئے سرے سے ان کی تالیف کی گئی ہو۔
منفلوطی نے فرانسیسی کہانیوں اور افسانوں کو مصری اسلوب میں ڈھال کر انھیں خراب کردیا کیونکہ انھوں نے انھیں ان کی اصل سے ہٹا دیا۔انھیں مضامین کا مجموعہ سمجھ لیا اور ان میں ایسی تبدیلیاں کیں جنھیں وہ آخر تک نہ نبھاسکے کیونکہ ان میں کہانی نویسی کی صلاحیت کی کمی تھی۔اس امر کی وضاحت خود ان کی تخلیق کردہ کہانیوں سے بخوبی ہوتی ہے جن میں خیال،
منفلوطی سے لوگ یہ پوچھتے کہ وہ مضمون نویسی اور مقالہ نگاری کے لیے کیا طریقہ اپناتے ہیں؟ اس سوال کا جواب انھوں نے ’’النظرات‘‘ کے مقدمہ میں بڑی خوبصورتی سے دیا ہے جس میں تصنیف وتالیف کا ذوق رکھنے والوں کے لیے بڑی مفید اور کار آمد باتیں ہیں۔لکھتے ہیں:
يسألني كثير من الناس كشأنهم في سؤال الكتاب والشعراء،
یعنی ’’ دیگر ادباء سے سوال کرنے کی طرح لوگ مجھ سے بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ میں اپنے مقالات ومضامین کس طرح لکھتا ہوں؟ گویا وہ میرے طریقہ تحریر کو جان کر میری راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ایسا نہ کریں۔کیونکہ میں ان کے لیے اور ادبی رجحان رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ میرے یا کسی اور ادیب کے طرز تحریر کا اپنے آپ کو پابند کریں-اور انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے-اگر ان کے دل میں میرے طریقہ تحریر سے متعلق کوئی بات بیٹھی ہو _ کہ جس اسلوب میں میں اپنے رسائل ومقالات لکھتا ہوں جس میں انھیں میرا امتیاز نظر آتا ہے میں اس میں نقالی اور تقلید کی قیود سے آزاد ہوں-میرے ذہن و دماغ میں جو باتیں گردش کرتی ہیں اور چند مفردات جو خانہ حفظ میں محفوظ رہتے ہیں وہی میرے لیے سب سے زیادہ مفید ہوتے ہیں۔اللہ تعالی جتنا چاہتا ہے میں منثور و منظوم کلام پڑھتا ہوں پھر جلد ہی وہ سب بھول جاتا ہوں صرف اس کلام کی خوبصورتی،
تصانیف و تراجم:
(۱) النظرات (مجموعہ مقالات ومضامین ۳؍اجزاء)
(۲) العبرات (طبع زاد اور ماخوذ افسانے) (۱)
(۳) مختارات المنفلوطی (یہ قدیم شعراء و ادباء کے اشعار ومضامین کا انتخاب ہے جس کا صرف ایک جزء طبع ہوا ہے)
(۴) فی سبیل التاج (دراصل انیسویں صدی کے ایک فرانسیسی ادیب فرانسوا کوبیہ کے ذریعہ شعری قالب میں ڈھالے گئے رنج والم کی تصویر پیش کرنے والا ایک ڈرامہ ہے)
(۵) الفضیلۃ (انیسویں صدی کے فرانسیسی ادیب برنارڈین ڈی سان بییر کی لکھی ہوئی کہانی ’’پول اور ورجینی ‘‘ ہے)
(٦) او سیرا نودی برجراک (شاعری) (فرانسیسی ادیب اڈمون روستان کی تالیف ہے)
(۷) تحت ظلال الزیزفون (زیزفون درختوں کے سائے تلے ) یا ’’ماجد ولین‘‘ (فرانسیسی ادیب الفونس کار کی تالیف ہے)
(۸) الانتقام (ایک فرانسیسی کہانی جو ’’النظرات ‘‘ کے تیسرے حصے میں شامل ہے)۔
مؤخر الذکر پانچوں کتابیں وہ ہیں جنھیں ان کے بعض دوستوں نے اولا ان کے لیے فرانسیسی سے ترجمہ کیا پھر انھوں نے پورے تصرف کے ساتھ اپنے مخصوص اسلوب میں انھیں ایسا ڈھالا کہ وہ ان کی طبع زاد تالیف معلوم ہوتی ہیں۔منفلوطی کا یہ وہ کارنامہ ہے جس نے عربی ادب کے سرمایے میں نہ صرف یہ کہ گرانقدر اضافہ کیا بلکہ جدید افسانہ نگاری کو بڑی قوت بخشی اور قابل اقتدا نمونہ فراہم کیا۔
’’النظرات‘‘ پر ایک نظر
تین حصوں پر مشتمل اس کتاب میں منفلوطی کے وہ تمام مضامین جمع کردیے گئے ہیں جو بیسویں صدی کی ابتدا میں شیخ علی یوسف کی ادارت میں شائع ہونے والے اخبار ’’المؤید‘‘ میں شائع ہوتے رہے۔ان میں کچھ تو دینی وسیاسی اور تنقیدی مضامین ہیں اور کچھ اجتماعیات اور وصف سے متعلق ہیں اور کچھ کہانیاں ہیں۔شوقی ضیف کے بقول: ان مضامین کی دو بنیادی خصوصیات ہیں۔پہلی خصوصیت شکلی اور دوسری موضوعاتی ہے۔شکلی اعتبار سے یہ مضامین صاف شفاف اسلوب میں لکھے گئے ہیں۔ان میں عامیانہ بولی یا مقفع مسجع عبارتیں شاذونادر ہی کہیں دکھائی دیتی ہیں۔
موضوعاتی اعتبار سے منفلوطی سماجی زندگی کو اپنی فکر کا سر چشمہ بناتے ہیں اور اپنے استاد محمد عبدہ کی مانند ایک ایسے سماجی مصلح کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جو اپنے گروپیش کے اصلاح پسندوں کے افکار ونظریات کو ایسی فصیح و بلیغ زبان اور ایسے شیریں اسلوب میں بیان کرتے ہیں جو سامع کے دل ودماغ کو اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔
’’النظرات‘‘ میں انھوں نے سماجی برائیوں اور مخرب اخلاق حرکتوں مثلا قماربازی،
قابل ذکر امر یہ ہے کہ منفلوطی نہ صرف موضوع کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ منتخب الفاظ کے ذریعے اسے ادبی اسلوب میں ڈھال کر قاری کے وجدان پر چھا جانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس میں وہ ان قدماء سے متاثر نظر آتے ہیں جنھیں کلام میں موسیقیت اور نغمگی کے اہتمام نے سجع بندی کی حد تک پہنچا دیا،
منفلوطی اپنی تحریروں میں خطیبوں کی طرح معانی ومطالب کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔’’اے انسانو‘‘ جیسے خطاب کے صیغے استعمال کرتے ہیں۔’’رحم کرو،
اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں وہ طویل گفتگو کرتے ہیں۔ان کی پسماندگی اور خواہشات نفسانی میں غرق رہنے پر آنسو بہاتے ہیں۔انھیں دین کے احکام کو پس پشت ڈالنے کا اتہام لگاتے ہیں۔ان کی تحریروں کے مطالعے اور اس کے اسلوب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وہ پند ونصیحت کرنے والے واعظ ہوں۔وہ اپنی موعظت میں کبھی کبھی اس قدر مبالغے سے کام لیتے ہیں کہ راہ حقیقت سے بھٹک جاتے ہیں۔اس کی ترجمانی ان کے اس نظریے سے ہوتی ہے جس میں وہ مغربی تہذیب کو نوجوانوں کی برائیوں اور غلط کاریوں کا مرجع اور سبب قرار دیتے ہیں اور اس تہذیب میں انسانیت کے لیے پائی جانے والی اچھائیوں کو وہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔جب کہ اس میں خیر وشر دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔لہذا ہمارے لیے مناسب یہ ہے کہ ہم اس تہذیب میں پائے جانے والے خیر کے پہلو کو اخذ کریں اور شر سے انکار و اجتناب کا راستہ اپنائیں۔
یہ بات متحقق ہے کہ منفلوطی کی محدود ثقافت کی وجہ سے ان کی فکر میں تنوع نہیں تھا۔کیونکہ جدید ادبیات سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ذہنی افق میں وسعت پیدا نہیں ہوئی۔
’’النظرات‘‘ میں ادبی تنقید کے بہت سے گوشے پائے جاتے ہیں مگر منفلوطی کے عملی افق کے وسیع نہ ہونے کی بنا پر ان میں گہرائی و گیرائی اور تجزیہ نگاری کا فقدان ہے۔اس میں چند ادیبوں کے پرلطف مرثیے بھی شامل ہیں جن میں سب سے اچھا مرثیہ ان کے بیٹے کے بارے میں ہے۔اس مرثیے میں وہ اپنے بیٹے کو ایسے وقت دوا پلانے کا نقشہ کھینچتے ہیں جب کہ موت اس کی زندگی کو بکھیرنے پر مصر ہوتی ہے اور وہ یوں گویا ہوتے ہیں:
لقد كان خيرًا لي ولك يا بني أن أكل إلى الله أمرك في شفائك ومرضك،
’’اے میرے بیٹے تمھارے لیے اور میرے لیے یہی بہتر ہے کہ میں تمھاری موت وحیات اور مرض وشفا کے معاملے کو اللہ کے سپرد کردوں۔میری تمنا ہے کہ اس دنیا کو تمھارے الوداع کہنے کا دن وہ گھڑی نہ ہو جب میں تمھیں درد والم عطا کررہا ہوں۔میرا خیال ہے کہ میں تمھاری موت کا ذمہ دار ہوں۔موت کا وہ جام جو تمھاری تقدیر اپنے ہاتھوں میں لیے کھڑی ہے۔دوا کے اس گھونٹ سے زیادہ کڑوا نہیں جسے میں اپنے ہاتھوں میں لیے کھڑا ہوں ‘‘
(النظرات: ج ۱؍۷۶)۔(ط:دارالصحوۃ ۱۴۳۶= ۲۰۱۵م)
منفلوطی کا پورا مضمون اسی مؤثر اسلوب میں ہے جس پر انھیں مکمل عبور حاصل تھا۔آپ کو ان کی تحریروں میں ہمیشہ ہی وہ فصیح وبلیغ الفاظ نظر آئیں گے جو دل پر اثر انداز ہونے والی شیریں موسیقیت اور نغمگی سے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔انسانی ذہن وفکر میں وہی لذت پیدا کرتے ہیں جس کا ہم ادبی تخلیقات سے مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔
’’العبرات‘‘ پر ایک نظر:
اس مجموعے کی نو کہانیوں میں سے تین کہانیاں (الیتیم،
پروفیسر عبدالحلیم ندوی اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’العبرات‘‘ کہانیوں کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے کے اکثر افسانے فرانسیسی زبان سے ترجمہ کرکے ان کو دیے گئے جنھیں انھوں نے اپنی رومانی انداز میں عربی میں منتقل کیا۔زبان بہت سلیس اور شیریں لکھتے تھے اس لیے ان میں شاید اصل زبان سے بھی زیادہ اثر اندازی پیدا کردی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اب بھی ان کی یہ کہانیاں پڑھ کر رنج وغم اور کرداروں کے المناک انجام سے آدمی کا دل بھر آتا ہے۔اور وہ ان کرداروں کے ساتھ خود بھی رنج وغم کے اتھاہ سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔منفلوطی کے اس انداز تحریر اور طریقہ تحریر پر بعض نقاد نے بڑا اعتراض کیا ہے کہ رومانی مکتب فکر کے فرانسیسی ادیبوں کی تحریروں سے متأثر ہوکر بعض جگہ ترجمہ میں خرابی کی وجہ سے منفلوطی نے غلط تأثر لے کر غلط انداز سے خود ہی افسانہ یا ایسی کہانی لکھ دی ہے جس سے نوجوانوں میں فرط غم یا تاثر کی زیادتی سے قنوطیت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جس سے وہ بزدل کم دلے اور کم ہمت ہوجاتے ہیں اور اس طرح ان میں کام کرنے،
ان کی نثر کے دو نمونے:
مسلم معاشرہ کی خستہ حالی،
"ما أنا بآسف علی الموت یوم یأتینی الموت فالموت غایۃ کل حی،
منفلوطی کے محسنین کی چار قسمیں ہیں اور ہر ایک کے احسان کرنے کے الگ الگ مقاصد پر روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ وہ اس بات کو بڑ ے دلچسپ انداز میں لکھتے ہیں:
لا أستطيع أن أتصور أن الإنسان إنسان حتى أراه محسنًا؛
****
(۱) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ’’تاریخ الأدب العربی لأحمد حسن زیات ص ۳۴۰۔۳۴۳،





