Credibility.... in the backdrop of #MeToo
ٹائمز آف انڈیا (11 اکتوبر،
2014 میں زنٹا نے الزام لگایا تھا کہ وانکھیڈے اسٹیڈیم میں ایک میچ کے دوران واڈیا نے انھیں بُرا (بھلا) کہا تھا اور 'ہاتھ پکڑ کر' ان کی عزتِ نفس کی سرحد کو پار کرنے کی کوشش کی تھی۔2014میں وہ اتفاقا اسٹیڈیم میں نہیں مل گئے تھے۔بلکہ کئی سالوں سے ان کا معاشقہ چل رہا تھا جس کا انکشاف خود زنٹا نے اس واقعہ 'ہراسانی' سے 9 سال قبل فروری 2005 میں کیا تھا۔یہ بات اس وقت بھی آئی تھی کہ ایک پڑھی لکھی،
اسی سے ملتی جلتی ایک اور بات ہے جس نے کئی دنوں تک ہمارے ذہن کو پریشان کر رکھا تھا۔وہ تھا: شادی کا 'وعدہ' کر کے جسمانی تعلقات بنانے والا مرد اگر اپنے شادی کے وعدہ سے 'مکر' جائے تو اس پر عصمت دری کا کیس بنے گا۔ہمارا معصوم ذہن لگاتار ہمارے دل کو سمجھاتا رہا کہ یہاں کیس دھوکہ کا بنتا ہے،
"اگر ایک عورت تعلیم یافتہ اور بالغ ہونے کے باوجود جسمانی تعلق سے انکار نہیں کرتی ہے تو وہ معاشقہ ختم ہونے پر عصمت دری کا الزام نہیں لگا سکتی" حوالہ کا لنک
یہ خیال ایک اور خیال کی طرف لے جاتا ہے کہ کیا ہوگا اگر کوئی عورت جھوٹا الزام لگانے پر آ جائے؟؟
2012میں اندور کی 35 سالہ چنچل نے اپنے مکان مالک روپ کشور اگروال (53 سال) کے خلاف عصمت دری کا کیس درج کرایا تھا۔کیس کے اختتام پر یہ خلاصہ ہوا کہ چنچل نے کرایہ سے بچنے کے لیے اپنے مکان مالک پر جھوٹا الزام لگایا تھا اور اسے امید تھی کہ الزام لگتے ہی روپ کشور (مکان مالک) 'سیٹلمنٹ' کے لیے تیار ہو جائیں گے اور چنچل کو کرایہ سے چھٹی مل جائے گی۔ڈھائی مہینے جیل میں رہنے کے بعد مکان مالک کو گرچہ ضمانت پر رِہا کر دیا گیا تھا،
کسی کی جان گئی،
ایسا نہیں ہے کہ چنچل کو چھوڑ دیا گیا،
آئیے! اب آتے ہیں اسلامی تعلیمات کی طرف۔
ہم یہاں قرآن کی تین آیتیں مع ترجمہ پیش کر کے اپنی بات ختم کرتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو،
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں،
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ۔(سورہ بنی اسرائیل 32)





