(یہ شعر آزادی سے قبل جناح صاحب کی موہان آمد پر کسی "صاحب بصیرت" نے وہاں کے استقبالیہ دروازے پر لکھ ڈالا تھا-چونکہ پڑوسیوں کی دل آزاری ہوگی سو شعر کی تکمیل سے معزور ہوں)
یہ موہان ہے ___اس علاقے کی یادیں بھی ایسے ہمہ گیر وہمہ جہت انسان سے وابستہ ہیں جن کے بارے میں شبلی نے کہا تھا تم انسان ہو یا جن جو شاعری اور سیاست اور پھر بنیا گری پر اتر آئے-جی ہاں!! حسرت موہانی کا موہان ہے جو ایک شاعر،
عام سیاست دانوں کی طرح عیاری و مکاری اور باتوں کے الٹ پھیر سے دور حق گوئی وبے باکی آپ کے خون اور خمیر میں شامل تھی۔کانگریس،
اسے یاد کرکے نہ دل دکھا جو گزر گیا سو گزر گیا
1947 میں ہندوستان نے آزادی حاصل کی اور حسرت موہانی ممبر آف پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ دستور ساز اسمبلی کے بھی رکن منتخب ہوئے۔اور ہمیشہ اپنی آزادانہ و بے باکانہ طبیعت سے نمایاں رہے۔پارلیمنٹ میں بے جا ظلم کے خلاف آوازیں اٹھائیں اور کھل کر سقوط حیدرآباد اور دیگر ایشوز پر بولتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ ممبران ان سے نالاں اور بہت سے ڈرتے بھی تھے اور چونکہ گونا گوں خوبیوں کے مالک اور صف اول کے مجاہد تھے سو ہندوستان کے سینیئر وزراء ان کا خاصا ادب کرتے تھے... جب ہندوستانی دستور کو حتمی شکل دے دی گئی تو مسودے پر تمام دستور ساز اسمبلی کے ممبران کے دستخط طلب کیے گیے جو سب نے کیے لیکن انھوں نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ یہ قانون ہندوستانی روح کے منافی ہے۔ضمنا یہ بھی کہ مرحوم تحریک ترقی پسند اردو کے نمائندہ اور کمیونسٹ افکار و نظریات سے حددرجہ متاثر تھے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انھوں نے دو ہی چیزیں پورے خلوص سے کیں ایک شاعری اور دوسری اپنے مرشد سے محبت باقی چیزوں میں کم از کم وہ خلوص تو بہرحال نہیں ملتا جو ان دونوں کوحاصل تھا۔شاعری پر تبصرہ کریں تو عشق و عاشقی میں اس قدر ڈوبے ہوئے کہ چپکے چپکے رات آنسو بہائے اور عاشقی کے زمانے یاد کیے جارہے ہیں اور جب اسیر بنائے گیے تو چکی کی مشقت نے ان کی طبیعت پر بالکل بھی اثر نہ ڈالا،
راہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو ازراہِ ستم
ہونٹ اپنا کاٹ کر فورا جدا ہوجایے
کلیات حسرت تب پڑھی جب شاعری سمجھتے نہ تھے ... اور اب جب تھوڑا بہت سمجھ آرہی تو پڑھنے کی توفیق نہیں سو اس پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں البتہ کسی زمانے میں استاذ فاروقی صاحب سے جو سنا تھا وہی کچھ محفوظ ہے۔اسی طرح اپنے مرشد کے معاملے میں بھی جب کہ وہ جانکنی کے عالم میں تھے لیکن خواہش تھی کہ مرشد کے بازو ہی میں سپرد خاک ہوں...ان کی یہ خواہش پوری ہوئی اور لکھنؤ میں مدفون ہوئے۔مجموعی اعتبار سے حسرت کی شاعری کو حالی کی تحریک سے متاثر کہہ سکتے ہیں گوکہ وہ امام المتغزلین تھے کیونکہ حالی نے روایت سے ہٹ کر جس موضوع(شاعری) کی راہ نکالی،
حسرت کی خاکساری بھی حد درجہ کمال کی تھی۔جب دہلی پارلیمنٹ اجلاس میں آتے تو گاؤں سے اسٹیشن تک پیدل ہی نکل لیتے،
ہائے یہ کیسے عظیم لوگ تھے جو راہ جہاں سے گزر گیے اور انھیں دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں۔
یہ لوگ صحیح معنوں میں ہماری جمہوریت کی بقا کے ضامن تھے جو ہندوستانیوں کو تمام طرح کی نیچ اونچ سے اٹھا کر جمہوریت کی لڑی میں پرونے کے خواہاں تھے اور عملی طور پر متحرک تھے... امبیڈکر پر جب ذاتیات کے تیر اچھالے گیے تب یہی سید زادہ حسرت ہی تھے جو ان کے اسی گلاس میں پانی پی کر جس میں انھوں نے پیا تھا،
ساغر صدیقی یاد آرہے ہیں
کیا نہیں معلوم تجھ کو اے مرے مغموم دل
جن سےنظریں تھیں شگفتہ وہ نظارے سوگیے
جن کے دم سے بزم ساغر تھی حریف کہکشاں
اے شب ہجراں کہاں وہ ماہ پارے سوگیے
منزل جس قدر قریب ہوتی جارہی باتیں بھی اتنی ہی تیزی سے یاد آتی جارہی ہیں۔بہرحال ہمیں الفاظ کے ساتھ سامان بھی سمیٹنے چاہئیں۔الوداع!





