(فَلَوْلاَ کَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِکُمْ أُوْلُواْ بَقِیَّۃٍ یَنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِیْ الأَرْضِ إِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّنْ أَنجَیْْنَا مِنْہُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ مَا أُتْرِفُواْ فِیْہِ وَکَانُواْ مُجْرِمِیْنَ* وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَأَہْلُہَا مُصْلِحُونَ) (سورۃ ھود: ۱۱۶-۱۱۷)
’’پس ان امتوں میں جو تم سے پہلے گزریں،
سورہ ھود کی ذکر کردہ دو آیتوں میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان کے درمیان زمین میں فتنہ وفساد سے روکنے والے صاحب عقل وبصیرت لوگ نہیں تھے،
اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود کے اندر متعدد اقوام،
(وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلَکِنْ ظَلَمُواْ أَنفُسَہُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْہُمْ آلِہَتُہُمُ الَّتِیْ یَدْعُونَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ أَمْرُ رَبِّکَ وَمَا زَادُوہُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ) (سورۃ ھود:۱۰۱)
’’اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا اور لیکن انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تو ان کے وہ معبود جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے ان کے کسی کام نہ آئے جب آپ کے ر ب کا حکم (عذاب) آ پہنچا بلکہ انھوں نے ان کو تباہی میں ہی زیادہ کیا‘‘۔
پھر ان اقوام کی ہلاکت وبربادی کی بنیادی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان کے درمیان زمین میں فساد کرنے سے روکنے والے صاحب عقل وبصیرت لوگوں کا فقدان تھا مگر تھوڑے ہی لوگ فتنہ وفساد سے منع کرنے والے تھے جن کو ہم نے نجات عطا فرمائی اور اس بات کا اعلان فرمادیا کہ پروردگار کسی بھی بستی کو جن میں اصلاح کا فریضہ انجام دینے والے لوگ موجود ہوں انھیں ہلاک وبرباد کرنے والا نہیں ہے۔رب تعالیٰ کے اس فرمان سے دعوت وتبلیغ،
’’إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْکَرَ فَلَمْ یُغَیِّرُوْہُ أَوْشَکَ أَنْ یَّعُمَّھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہِ‘‘ (مسند احمد:۱؍۳۱،
بے شک جب لوگ منکر کو دیکھیں اسے نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لے۔جریر بن عبداللہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
’’مَا مِنْ رَجُلٍ یَکُونُ فِيْ قَوْمٍ یَعْمَلُ فِیْھِمْ بِالْمَعَاصِي یَقْدِرُونَ عَلَی أَن یُّغَیِّرُوا عَلَیہِ وَلَا یُغَیِّرُوا إِلَّا أَصَابَھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابٍ قَبْلَ أَن یَّمُوتُوا‘‘ (صحیح ابن حبان،
کوئی شخص ایک قوم کے درمیان رہ کر برائیوں کا ارتکاب کرتا ہو اور قوم کے لوگ اس کے بدلنے پر قدرت کے باوجود نہیں بدلتے (روکنے کی قدرت کے باوجود نہیں روکتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ ان کے مرنے سے پہلے انھیں عذاب دے گا۔
فرمان الہی اور ارشادات نبوی سے دعوت وتبلیغ،
(وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُواْ کَآفَّۃً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُواْ فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنذِرُواْ قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُونَ) (سورۃ التوبۃ:۱۲۲)
اور مومنوں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سب ہی نکل کھڑے ہوں،
آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ ان میں ایک ایسا گروہ ہونا ضروری ہے جو دین کا علم سیکھے،
فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ نے آیت کریمہ کی تفسیر کرنے کے بعد آخر میں نہایت ہی وقیع اور اہم نکتہ کو بیان کیا ہے’’نیز اس آیت کریمہ میں ایک اہم فائدہ کی طرف رہنمائی اور نہایت لطیف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے وہ اپنے مصالح عامہ میں سے ہر مصلحت کے لیے کچھ لوگوں کو تیار کریں جو ان مصالح کا انتظام کریں اور ان مصالح کے حصول کے لیے ہمہ وقت جدوجہد کریں اور وہ دیگر امور کی طرف التفات نہ کریں تاکہ ان مصالح کا اچھی طرح انتظام ہو،
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں علم دین سے آراستہ ہو کر عمل صالح اور دعوت واصلاح کا فریضہ انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین





