انسان کو اللہ کی طرف سے ان گنت نعمتیں عطا کی گئی ہیں جن کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔جسمانی نعمتوں میں قوت گویائی،
جھوٹ،
سچ ایمان کی بنیاد اور دخول جنت کی بشارت ہے۔جب کہ جھوٹ نفاق کی شاخ اور برائیوں کی آماجگاہ ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "بلا شبہ سچائی نیکی کی طرف،
جھوٹ سے نفرت کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ اس پر وارد وعید سے عام طور پر ہر شخص کو آگہی ہے۔اور کوئی بھی اپنے آپ کو جھوٹوں کی فہرست میں شامل دیکھنا پسند نہیں کرتا ہے۔تبھی تو یہ دعوی زبان زد ہے کہ" میں جھوٹ نہیں بولتا ہوں "لیکن شدت کی یہ نفرت بھی جھوٹ سے فاصلہ بنانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔کیونکہ جھوٹ درج ذیل نوعیتوں سے اپنی نفرت کو کہیں نہ کہیں چاہت،
(1)مذاقیہ جھوٹ کی کثرت: ہنسی مذاق اور تفریح انسانی طبیعت کا خاصہ ہے۔مزاج کی شگفتگی کی لیے عموما جھوٹی باتیں کہہ کر دوستوں کے ساتھ محفل میں قہقوں کا دور چل پڑتا ہے۔اور یہ سوچ کر دل کو تسلی دی جاتی ہے کہ مذاق ہی تو ہے اگر دوچار لفاظی کردی یا کچھ غلط کہہ دیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔جبکہ شرعا یہ فکر غلط ہےکیونکہ شریعت کی تعلیم ہے "اس شخص کے لیے ہلاکت و بربادی ہے جو لوگوں کی تفریح یا تسکین کے لیے مزاحا بھی جھوٹ کہتا ہے "(ابوداؤد)گویا کہ ہنسی مذاق میں بھی شرعی اصول و ضوابط اپنی پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں لہذا ہر اس شخص کے لیے جنت کی ضمانت دی گئی ہے جس نے دوستوں کی محفل میں بھی شرعی ضابطوں کی پامالی سے اجتناب کرتے ہوئے مزاحا بھی جھوٹ بولنے کو پسند نہ کیا۔(ابوداؤد)
(2)شیخی بگھارنا (اپنے منہ میاں مٹھو بننا ): جھوٹ کی ایک عام شکل یہ بھی ہے بعض لوگ اپنی بڑائی اور کردار کی پاکیزگی کے لیے اس انداز کو اپناتے ہیں۔اور کسی بھی واقعے کو مبالغہ آمیزی کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سننے والے حیرت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اور لوگوں کے استعجاب کے ساتھ مبالغہ آمیزی اور منظر کشی کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔جھوٹ کی یہ شکل قابل نفریں ہے کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ " سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنی نگاہوں کو وہ دکھلائے جو اس نے دیکھا ہی نہیں ہے۔"(بخاری) اور شیخی خورعام طور سے جو منظر کشی اور واقعے کی تشریح کرتا ہے وہ محض اس کی ذہنی اپج ہی ہوتی ہے۔تاکہ لوگ اس کی ہمت جرات یا قوت فیصلہ کی تعریف کریں۔کچھ لوگ تو محض واہ واہی کے لیے جھوٹ گڑھنے میں ممتاز ہوتے ہیں جنھیں عرف میں پھینکو کے نام سے جانا جاتا ہے۔اور یہ دونوں رویے شرعا قابل گرفت ہیں۔
(3)افواہ سازی اور جھوٹی خبروں کی ترسیل: اپنے حال سے بے خبر انسان اس وقت دنیا بھر کی خبروں کا دلدادہ بنا ہوا ہے۔خبروں کی تیز رفتار ترسیل نے انسان کو تحقیق کے بنیادی اصول سے بے پروا کردیا۔اولیت کی خواہش ہر خبر کی فوری ترسیل کی ترغیب دیتی رہتی ہے جب کہ بیشتر خبریں غیر مصدقہ یا کسی مخصوص نظریےکے تحت شائع کی جاتی ہیں۔جن میں سے بعض تومحض افواہ ہی ہوتی ہیں۔اس لیے بلا تحقیق انھیں آگے منتقل کرنا یا ان کی بنیاد پر فیصلے کرنا انتہائی عاجلانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام ہوتا ہے جس کی وجہ سے سماج انارکی اور انتشار کی سمت میں جانے لگتا ہے اور افواہ کی ترسیل لوگوں کی جان جانے کا بھی سبب بن جاتی ہے۔شب معراج آپ ﷺ نے ایک ایسے جھوٹے گنہ گار کا بھی مشاہدہ کیا جس کے منہ نتھنے کو اس کی گدی تک چیرا جارہا تھا کیونکہ لوگ اس کی جھوٹی باتوں اور پوسٹ کو شام ہوتے ہوتے بین لاقوامی سطح پر پھیلا چکے ہوتے ہیں۔اور قرآن میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ جھوٹی خبر یا فاسق کی بات کی تصدیق ضروری ہے۔ورنہ کسی قوم،
(4)مذہبی معاملات میں جھوٹ بولنا: یہ جھوٹ کی قبیح ترین صورت ہے۔اس سے ملت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور اسلام کی شبیہ بگاڑنے میں اس جھوٹ کا سب سے اہم کردار رہا ہے اسی وجہ سے ایسے کذابوں پر شریعت نے لعنت فرمائی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف جھوٹ کی نسبت کریں کیونکہ جب قصہ گو واعظین اور مصنفین تقریر و تحریر کے ذریعے اپنی خود ساختہ شریعت کو عین اسلام قرار دینے کی جسارت کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اصل اسلام کی تعلیمات مخفی ہوجاتی ہیں اور لوگوں میں شرک و بدعات کا فروغ دین کے حوالے سے عام ہونے لگتا ہے۔یہی وجہ ہےکہ آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے جہنم کی وعید بیان کی ہے جو جان بوجھ کر غیر مسنون اور بدعی اعمال کو سنت کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔گویا کہ مذہبی جھوٹ کے فروغ سے نہ صرف معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ دین و ملت کی تعلیمات کو ہی مسخ کرکے مسلمان کو شرک و بدعات کا دلدادہ بنا دیتا ہے جو اسلام کی منشا کے عین خلاف ہے۔
(5)بچوں پر جھوٹ کے اثرات: بچے صرف اپنے والدین کے مستقبل کی امید نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مستقبل ہیں۔اس لیے ان کی صالح تربیت اور کردار سازی پر زور دینے کی تاکید کی گئی ہے اور اسےوالدین کے فرائض منصبی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔لیکن بے حسی یا ذمے داریوں سے فرار کا یہ نتیجہ ہےکہ والدین ان کی دینی ذہن سازی کرنے کے بجا ئے اپنی غلطیوں کے ذریعے انھیں گناہوں کی غیر شعوری تربیت دے رہےہیں اور بچوں کا معصوم ذہن اپنے ماحول کا مشاہد ہ کرکے ان خرابیوں کو اپنے کردا رکا حصہ بنا لیتا ہے جن سے دور رہنے کی ذمے داری تربیت کے نام پر والدین کو تفویض کی گئی ہے۔مثال کے طور پر والدین اپنے بچوں کے سامنے کاروبار،
(6)بچوں کی تربیت میں سچ کا معیار کیا ہو: اس کی وضاحت عبد اللہ بن عامر ؒ کی بیان کردہ حدیث سے ہوجاتی ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرما ہیں،
(1) گویا کہ والدین اپنے بچوں کو اگر کچھ دلانے کی بات یا وعدہ کریں تو اس کی تکمیل ضروری ہے۔(2) انھیں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ترغیب یا ڈرانے کے لیے بھوت،
(7) موبائل پر جھوٹ: انسان نے اپنی ذہانت کا بہتر استعمال کرکےکچھ ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں جو انسانیت کے لیے انتہائی نفع بخش حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے افکار و خیالات کی ترسیل اور کاروباری معاملات میں بے انتہا سہولت میسر ہوتی ہے۔وقت اور سرمایے کی بچت بھی ممکن ہوجاتی ہے۔موبائل اور ٹیلی فون بھی ان میں سے ہی ہیں لیکن ذہانت کا غلط استعمال کرکے اب انھیں جھوٹ بولنے کا ذریعہ بنا لیا گیا۔جیسے کہ فون کرکے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کہاں ہیں؟ تو بسا اوقات دوسرے کو موبائل دے کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت موجود نہیں،
کاروبار ی جھوٹ کی عام شکلیں:
(1)خرید و فروخت میں جھوٹ: عموماً یہ سمجھا جاتاہے کہ دکان دار ہی جھوٹ بولتا ہے۔اسی وجہ سے عام طور پر خریدار کی پیمائش چھوڑ دی جاتی ہے۔لیکن سامان کی قیمت معلوم ہونے کے بعد خریدار فوری طور پر یہ جملے ادا کرتے ہیں کہ ابھی کچھ دن پہلےتو ہم نے اسے اتنی ہی قیمت پر خریدا تھا تو خریدار کی طرف سے جھوٹ کی شروعات ہوتی ہےکیونکہ چند دن پہلے اس نے جب یہ چیز خریدی ہی نہیں تو اس کی بتلائی قیمت کیونکر درست ہوسکتی ہے اور پھر دکان دار کہتا ہے کہ میں تو قیمت خرید پر بس اتنی ہی رقم آپ سے لے رہاہوں،
(2)قیمت بڑھانا اور قسمیں کھانا: بہت سارے دکان دار اپنے سامان کے فرضی خریدار کھڑا کرکے زائد قیمت ملنے کا جھوٹ گڑھتے ہیں اور بآسانی خریدار کو دھوکہ دے لیتے ہیں جب کہ کچھ تو جھوٹی قسمیں کھانے میں بہت معروف ہوتے ہیں۔لیکن نجش اور جھوٹی قسم دونوں ہی حرام کمائی کا سبب بن جاتے ہیں۔جو مسلمان کے لیے قطعی درست نہیں ہے۔
(3)کوالیٹی یا نقص پر پردہ پوشی: اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دکان دار اپنے خراب مال کو عمدہ کہہ کر یا اس کے عیوب کو خریدار سے پوشیدہ رکھ کراسے بہتر مال کہہ کر فروخت کردیتا ہے۔جھوٹ اور دھوکے کی آمیزش کی بنا پر یہ سودا بھی اسلام میں درست نہیں ہے۔
(4)زیادہ مقدار بتلا کر سودے کے وقت کم کردینا: خرید و فروخت میں دھوکے اور جھوٹ کی ایک شکل یہ بھی رائج ہے کہ ابتدا میں مقدار زیادہ بتلائی جاتی ہے تاکہ قیمت اچھی مل سکے اور جب سودا طے ہوجاتا ہے اس وقت اصل مقدار کے بجائے لفظی ہیر پھیر کا کھیل دکھلا کر خریدار کو کم مال لینے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔تاکہ ایک ہی مال سے دگنا نفع حاصل کیا جاسکے۔
(5) قرض کی واپسی اور ادائیگی میں جھوٹ: معاشی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے بعض دفعہ قرض ناگزیر ہوجاتا ہے۔آپ ﷺنے مقروض کی عزت نفس اور ممکنہ جھوٹ سے بچنے کے لیے تعلیم دی اور کہا کہ اگر قرض نیک نیتی سے لیا جائے تو اللہ اس کی واپسی کی سبیل پیدا فرماتا ہےلیکن اگر قرض لینے والے کی نیت میں ہی فساد ہے تو پھر ایسی صورت میں معاشی تنگ دستی اس کا مستقبل بن جاتی ہے۔وقت پر قرض یا قیمت کی ادائیگی بہت ضروری ہے لیکن رقم کو اپنے پاس رکھنے کے لیے یہاں بھی کثرت جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے کہ ابھی رقم ملی نہیں،
(6)حصول برکت کا آسان نسخہ: ہر شخص اپنے مال میں اضافے کے لیے سرگرداں رہتا ہے اور اس کے لیے خوب محنت مشقت بھی کرتا ہے لیکن حصول برکت کا جو نسخہ آپ ﷺ نے امت کوبتلایا ہے،





