مخلوط تعلیم کا مفہوم:
لڑکے اور لڑکیوں کا ایک ساتھ،
مخلوط تعلیم کی ابتدا:
دور حاضر میں مخلوط تعلیم کی ابتدا امریکہ سے ۱۷۷۴ء میں ہوئی۔انگلستان میں اس کا آغاز ۱۸۷۰ء میں ہوا اور ۱۹۰۲ء میں وہاں مخلوط تعلیم کے لیے قانون پاس کیا گیا۔فرانس میں ۱۸۶۷ء میں اسے قانونی جواز دیا گیا۔(مخلوط تعلیم اور اس کے مضمرات،
مخلوط تعلیمی نظام کے نقصانات
مخلوط تعلیمی نظام ایک عظیم فتنہ اور فکری وعملی برائیوں کو بڑھاوا دینے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔بہت سے کالجز و یونیورسٹیوں اور اعلى تعلیمی اداروں میں اس وقت غیر اسلامی،
مخلوط تعلیم کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں قبل ازوقت بالغ ہو جاتے ہیں۔بلوغت کے وقت لڑکوں کے جسم میں مردانہ ہارمونز عام حالات کے مقابلے میں دس سے بیس گنا پید اہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شدید نفسانی خواہشات وشہوات اور جنسی ہیجان کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس حالت میں اکثریت صنف مخالف کے بارے میں سوچتی رہتی ہے،
مخلوط تعلیم کی وجہ سے تعلیم کے میدان میں مردوں کی تعلیم،
امریکی صحافی خاتون مشال کونن اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں: ”مخلوط تعلیم میں لڑکوں کو غیر فطری اور اکثر اوقات زنانہ ماحول میں تعلیم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے کئی لڑکے اس ماحول سے مایوس ہو کر سوسائٹی میں ناجائز طریقے سے جرائم کرکے اپنی مردانگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۱۹۷۰ء کے بعد سے امریکہ میں جیسے جیسے مخلوط تعلیم میں اضافہ ہوا ہے،
تعلیمی کونسل کے سربراہ سپیلن کے الفاظ یہ ہیں: ”اس بات کا ثبوت وافر مقدار میں موجود ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں بالکل مختلف انداز میں علم حاصل کرتے ہیں“۔تعلیم غیر مخلوط ہونی چاہیے ورنہ لڑکے لڑکیاں دونوں پڑھائی میں کمزور ہوتے چلے جائیں گے اور اس کا خمیازہ مستقبل میں معاشرہ کو بھگتنا پڑے گا۔(بحوالہ سابق)
سردست یہ کہہ کر مخلوط نظام تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کو سماج میں دوش بہ دوش چلنے،
مخلوط نظام تعلیم اور اسلامی نقطہ نظر
اسلامی نظام تمام انسانیت کے لیے فلاح وبہبود کا شاہکار ذریعہ ہے۔اسلام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ اس دنیا میں سکونت پذیر تمام لوگوں کے لیے بلاتفریق سر چشمہ ہدایت ہے۔جس کام سے سماج میں بے حیائی اور بد چلنی عام ہونے کا خدشہ ہو نیز فحاشی وعریانیت،
اللہ تعالى کا فرمان ہے:
”وإذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء الحجاب ذلكم أطهر لقلوبكم وقلوبهن“.(سوره احزاب: 53)
ترجمہ: ”جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو،
ابن کثیر رحمہ اللہ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جیسے اللہ تعالى نے تمھیں عورتوں کے پاس علیحدگی میں جانے سے روکا ہے،
پردے کا حکم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خواست وخواہش پر نازل ہوا جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے پاس اچھے برے ہرقسم کے لوگ آتے ہیں۔اگر آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں تواچھا ہوتا۔جس پر اللہ تعالى نے آیت حجاب نازل کیا۔(صحیح بخاری،
اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:
”فاتخذت من دونهم حجابا...“.(سورہ مریم: ۱۷)
ترجمہ: ”اور ان لوگوں کی طرف سے پردہ کرلیا “۔حضرت مریم علیہا السلام نے علیحدگی اور حجاب عبادت کی غرض سے اختیار کیا تاکہ انھیں کوئی دیکھ نہ سکے۔
حضرت اسید بن خضیر انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے نبیﷺ کو بیرون مسجد فرماتے ہوئے سنا جب مردوزن کا راستے میں اختلاط ہوگیا،
”استأخرن؛
”تم رک جاؤ،
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان گرامی ہے:
”لو تركنا هذا الباب للنساء“.فقال نافع: فلم يدخل منه ابن عمر حتى مات.
ترجمہ: ”اگر یہ دروازہ خواتین کے لیے خاص کر دیں (تو کیا اچھا ہو)“۔نافع فرماتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ سے مرتے دم تک داخل نہیں ہوئے۔(سنن ابی داود،
نبی کریم ﷺنے مردوزن کے اختلاط کے باعث واقع ہونے والے فتنوں کے پیش نظر اسلامی نظام قائم کیا تاکہ دو مختلف صنفوں کی صفیں عبادات میں بھی علیحدہ ہوں۔اس تعلق سے نبی کریم ﷺکا فرمان ہے:
”خير صفوف الرجال أولها،
ترجمہ: ”مردوں کی سب سے اچھی پہلی صف ہے اور سب سے بری آخری صف ہے،
متذکرہ بالا دلائل وبراہین کی روشنی میں یہ حقیقت طشت از بام ہوگئی کہ مخلوط تعلیمی نظام غیر شرعی،
آخر میں دعا ہے کہ بار الہا اسلامی تعلیمات کو سیکھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق ارزانی عطا فرما۔





