خبر ملی کہ ۳۱/ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو ہم سب کے Favourite Teacher پر وفیسر رفیع العماد فینان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عربی شعبے سے کم وبیش چار دہائی تک عربی زبان وادب کی خدمت کے بعد سبکدوش ہوگئے۔یہ خبر سن کر ایک بار پھر میں اپنی پرانی یادوں میں کھوگیا۔ذہن کے پردے پر ان کی سنہری یادوں کی فلم چلنے لگی اور میں انہی سنہرے دنوں کی تلاش میں سرگرداں ہوگیااور یہ تحریر معرض وجود میں آگئی۔
یہ ۱۹۹۱ــ-۱۹۹۲ء کی بات ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عربی شعبے کے بی اے آنرز اور ڈپلوما ان موڈرن عربک میں ہمارا داخلہ ہوا تھا۔پروفیسر ضیاء الحسن ندوی شعبے کے صدر تھے۔پروفیسر زبیر احمد فاروقی،
یہ پروفیسر فینان کے شباب کا زمانہ تھا۔یہی کوئی اڑتیس،
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عربی شعبے میں پڑھنے والے طلبہ کے درمیان شعبے کے اساتذہ میں پروفیسر فینان کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل تھی۔طلبہ کے درمیان ان کا کثرت سے ذکر خیر ہوتا تھا،
شعبۂ اردوکی طرف سے عربی شعبے کی طرف آتے ہوئے گراؤنڈ فلور پر بالکل دائیں طرف پہلے کارنر میں،
ڈپلوما میں وہ ’’عربی گرامر‘‘ یعنی عربی نحو کا مضمون پڑھاتے تھے۔تمام تعریفات کو وہ مثالوں سے مزین کرتے تھے۔مثالیں ایسے جدید جملوں پر مشتمل ہوا کرتی تھیں جن کا انگریزی میں ترجمہ بھی وہ لکھوایا کرتے تھے۔ہر سبق کے آخر میں وہ اسی سبق سے متعلق آٹھ دس جملوں کیExerciseاور تمرین بھی دیا کرتے تھے جو عربی کے ساتھ اردو اور انگریزی ترجمے پربھی مشتمل ہوا کرتی تھی۔یوں گرامر کا مضمون گرامر کے ساتھ ساتھ سیمی ٹرانسلیشن اور ترجمے کے مضمون میں تبدیل ہوجایا کرتا تھا اور طالب علم کو اس سے دوہرا فائدہ ہوا کرتا تھا۔گرامر کی مشق تو ہوتی ہی تھی،
قابل ذکربات یہ ہے کہ دوران درس عربی اور انگریزی کے مشکل الفاظ جب آتے تھے تو وہ اس کے تلفظ پر مکمل دھیان دیتے تھے۔پوری کلاس سے’’ دس دس مرتبہ‘‘ وہ لفظ کہلواتے تھے پھر آگے بڑھتے تھے۔مذکور بالا مثال میں ایک لفظ beneficial بھی ہے جسے آج بھی بہت سارے پڑھے لکھے لوگ بے نی فی شی یل پڑھتے ہیں جو کہ بالکل غلط تلفظ ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے فینان صاحب نے اس لفظ کو بارہا ہر طالب علم سے کہلوایا۔یہاں تک کہ سب نے درست ادائیگی کرلی۔ایک لفظ ہے اسٹیشن جو کہ اردو اور انگریزی دونوں میں اسی طرح بولا جاتا ہے۔اس لفظ کی ادائیگی کے وقت بہت سارے لوگ اش-ٹے-شن بولتے ہیں۔فینان صاحب نے اس لفظ کی خوب خوب پریکٹس کرائی۔یہاں تک کہ صحیح ادائیگی ہوگئی۔انھیں معلوم تھا کہ ان کے مخاطب طلبہ میں سے بیشتر مدارس کے فارغ ہیں جنھیں انگریزی سے ابھی ابھی واسطہ پڑاہے اس لیے وہ بڑی باریکی سے اور ایک اکسپرٹ کی طرح تربیت کرتے تھے۔
عربی گرامر میں ایک موضوع ہے’’ عدد معدود‘‘ کا۔اگر عدد معدود کا concept واضح نہ ہو تو ’’تین لڑکے اور تین لڑکیاں‘‘ جیسے سیدھے سادے جملے کی بھی عربی بولنے میں غلطی ہوجائے گی اور بہت سارے لوگوں سے یہ غلطی ہوتی بھی ہے۔ہم نے پہلے بھی یہ سبق پڑھا تھا مگر اس کا concept واضح نہیں تھا۔پروفیسر فینان نے ایسی باریکی اور’’ استادانہ مہارت‘‘سے ’’عدد معدود‘‘ کا سبق پڑھایا کہ اس کے بعد اس کا conceptکبھی ذہن ودماغ سے محو نہیں ہوا۔
پروفیسر فینان سے ایک سال’’ ڈپلوما اِن موڈرن عربک‘‘میں پڑھا مگر انھیں کبھی کلاس میں بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا۔نہ انھیں کبھی غیر حاضریا تاخیر سے آتے ہوئے پایا۔ہمیشہ وہ ٹائم سے پہلے آتے تھے۔اپنے چیمبر میں یا کہیں اور بیٹھ کرکلاس کے وقت کا انتظار کرتے تھے اور ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر وہ کلاس میں حاضر ہوجایا کرتے تھے۔کلاس میں ان کا اسٹائل یہ تھا کہ طلبہ سے پہلے وہ پچھلا سبق سنتے تھے پھر نیا سبق شروع کرتے تھے۔بے انتہا ’’نفیس ‘‘طبیعت کے مالک ہونے کے باوجود کبھی بھی چاک سے بلیک بورڈ پر لکھنے میں تردد وتذبذب نہیں کرتے تھے۔اس وقت سمسٹر سسٹم نہیں تھا۔نہ ہی انٹر نل اسس منٹ کا کوئی نظام آج کی طر ح اس وقت نافذ تھا مگر فینان صاحب کی تدریسی صلاحیت،
جامعہ میں ایک سال بی اے عربک اور ڈپلوماان موڈرن عربک میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرا داخلہ سعودی عرب کی مدینہ یونیورسٹی میں ہوگیا اور میں بلا چوں وچرا وہاں چلا گیا۔وہاں جاکر میں نے فینان صاحب کو اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کئی خطوط لکھے۔وہ ان خطوط کا جواب بھی دیتے اور ہلکی پھلکی اصلاح بھی کرتے۔چار سال کے بعد جب میں وہاں سے فارغ التحصیل ہوا تو میں نے وہاں ملازمت کی کوشش نہیں کی۔ہر چند کہ ملازمت کا کوئی سلسلہ ہوسکتا تھا مگر میرے ذہن میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ مجھے ایم اے اور پی ایچ ڈی کرنی ہے۔لہٰذا بی اے کی تحصیل کے بعد جب میں واپس آیا تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عربی شعبے میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی صاحب شعبے کے صدر تھے۔جامعہ میں داخلے کی کاروائی مکمل ہوچکی تھی۔میں نے فورا دہلی یونیورسٹی کا رخ کیا۔وہاں ابھی داخلے کا سلسلہ چل رہا تھا۔لہٰذا میرا داخلہ ہوگیا۔اس وقت وہاں تقریبا دو سال قبل پروفیسر محمد نعمان خان صاحب کابحیثیت ریڈر تقرر عمل میں آیا تھا اور وہی صدر شعبہ تھے۔پرفیسر نثار احمد فاروقی اور پروفیسرمحمد سلیمان اشرف اور پروفیسر محسن عثمانی ندوی شعبے کے موقر اساتذہ میں شامل تھے۔غالبااسی سال پروفیسر ولی اختر ندوی کا تقرر عمل میں آیا تھا۔یہ۹۸-۱۹۹۷ء کی بات ہے۔اس وقت دہلی یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے حاضری ضروری نہیں تھی۔میرا قیام جامعہ نگر میں تھا جہاں سے دہلی یونیورسٹی آنے اور جانے میں تین چار گھنٹے لگ جاتے تھے لہٰذا میں نے دوبارہ اپنے استاد محترم پروفیسر فینان صاحب کی خدمت میں حاضری دی۔اب ان کی اجازت سے میں ایم اے عربی کی کلاس میں ان سے ٹرانسلیشن پڑھنے لگا۔پوری پابندی کے ساتھ میں نے ان سے ایک سال تک ٹرانسلیشن پڑھا۔ٹرانسلیشن ہر چند کہ بہت خشک مضمون ہے مگر فینان صاحب کی خصوصیت یہ تھی کہ ٹرانسلیشن کی کلاس گویا جنرل نالج کی کلاس ہوجایا کرتی تھی۔کوئی ایسی نامانوس اصطلاح یا مشکل لفظ نہیں ہوتاتھا جس کی تہ میں جاکر وہ اس کی تشریح نہ کرتے ہوں۔ٹرانسلیشن کے دائرے سے نکل کر جب مختلف لفظوں کی وہ تشریح کرتے تو ایسا لگتا کہ ان کومختلف موضوعات پر کتنی گہری دسترس ہے۔اس وقت انھوں نے عربی سے انگریزی اور انگریزی سے عربی میں جن موضوعات پر ترجمے کی مشق کرائی ان میں Patek Philip watch, Dubai National Bank, Saddam a hero in Valley, Barkly, Jaguar Car, JK Pharmaceuticals, Popov Swimmer, Su'ad Husni, Taliban, Indo Pak talks, Bloodless form of brain surgery, Golden Eye وغیرہ اہم موضوعات کے علاوہ کچھ دیگرسیاسی موضوعات بھی شامل تھے۔مجھے اسی کلاس میں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ 007کے نام سے کوئی انگریزی فلم بھی ہے اور بہت مشہور ہے۔پہلی مرتبہ فینان صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ جیمس بونڈ کے نام سے انگریزی فلموں کا کوئی بہت مشہور ہیرو ہے۔بارکلی نام سے کوئی مشہورسگریٹ ہوتی ہے۔جیگوار کار نام کی کوئی مشہور زمانہ اور مہنگی کار بھی دنیا میں پائی جاتی ہے۔سعاد حسنی نام کی کوئی عرب ہیروئن ہے جسے عربی اسکرین کی سنڈریلا کہاجاتاہے اور جسے شزوفرینیا کی بیماری لاحق تھی۔دونوں کی فینان صاحب نے کیا لاجواب تشریحات کی تھیں۔طب سے متعلق مذکورہ عنوان سے ایک پیراگراف کے ترجمے کی بھی مشق کرائی تھی۔یہ پیراگراف بہت مشکل تھا مگر آپ نے طبی اصطلاحات کی اس طرح تشریح کی جیسے ہم لوگ میڈیکل کے طالب علم ہوں نہ کہ ٹرانسلیشن کے۔ٹرانسلیشن بھی وہ اتنا خوب صورت اور معیاری کرتے ا ور کراتے تھے کہ کئی مرتبہ عربی سے انگریزی اور انگریزی سے عربی جملے محاورہ اور ضرب المثل کی شکل اختیار کرجاتے تھے۔میرے پاس ان کے پڑھائے ہوئے ٹرانسلیشن کی کاپیاں آج بھی محفوظ ہیں۔ٹرانسلیشن کی کاپیوں کو بھی وہ چیک کرتے تھے۔مارکنگ کرتے تھے اور اپنا دستخط ثبت کرتے تھے۔
بچوں سے وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ نئے نئے الفاظ اور ان کے معنی پر دھیان دو۔روزانہ انگریزی اور عربی کے اخبار پڑھو۔ٹی وی یا ریڈیو پر انگریزی اور عربی خبریں سنو۔جو نئے الفاظ پردۂ سماعت سے ٹکرائیں ان کے معنی یاد کرلیا کرو۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب نہ تو ہر گھرمیں ٹی وی ہوتا تھا۔نہ ہر کس وناکس کو عربی اخبار میسر تھے۔کبھی کوئی سینئراستاد کسی عرب ایمبسی سے یا کسی عرب شیخ سے عربی اخبار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا تویہ معجزہ ہی ہوتا تھا۔آج کے زمانے میں انٹر نیٹ اور یو ٹیوب نے ساری مشکل حل کردی ہے۔عالم عرب کے اخبارات اور عرب وعجم کے ٹی وی چینل انگلیوں کی گرفت میں سمٹ گئے ہیں۔اب وہ معذرت قابل قبول نہیں کہ عجم میں بیٹھ کر عربوں سے استفادہ ممکن نہیں۔عجمیوں کے لیے عربوں کی طرح لکھنے اور بولنے کی استطاعت کا تصور مشکل ہے۔مجھے یاد ہے فینان صاحب نے بتایا کہ وہ آج بھی نئے نئے الفاظ کے معنی یاد کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔اس وقت ان کے پاس گاڑی نہیں تھی۔انھوں نے بتایاکہ وہ کاغذ پر نئے نئے الفاظ اور ان کے معنی لکھ کر رکھ لیتے ہیں۔جب کہیں جانے کے لیے بس اسٹاپ پر بس کا انتظار کرتے ہیں یا بس میں بیٹھے ہوتے ہیں یا رکشے سے کہیں جاتے ہیں تو اپنی جیب سے کاغذ کا وہی ٹکڑا نکال کر نئے نئے الفاظ کے معنی زبان زد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اکثر کہتے تھے کہ کلاس آتے جاتے،
پروفیسر فینان صاحب عربی کے مشہور اسکالر پروفیسر خورشید احمد فارق کے صاحبزادے ہیں۔فارق صاحب خود عربی کے بہت بڑے اسکالر اور عالم تھے اور دہلی یونیورسٹی میں عربی شعبے کے پہلے صدر بھی۔انھوں نے بہت ساری قابل ذکر کتابیں لکھی ہیں جن میں ’’جائزے‘‘ ان کی معرکۃ الآراء تالیف ہے اور بارہ چودہ جلدوں پر مشتمل ہے۔میں نے فینان صاحب سے پوچھا کہ آپ نے عربی کی تعلیم کیوں حاصل کی۔عربی کے علاوہ کسی اور سبجکٹ میں جاسکتے تھے۔انھوں نے کہا کہ میری انگریزی بہت اچھی تھی۔گویامجھے انگریزی پر عبور حاصل تھا۔والد صاحب نے کہا تمھاری انگریزی اچھی ہے لہذا اگر عربی پر عبور حاصل کرلو گے تو بہت اچھے ٹرانسلیٹر بن جاؤ گے۔اس لیے انھوں نے دہلی یونیورسٹی میں ایم اے عربی میں ان کا داخلہ کرادیا۔فینان صاحب نے عربی سے ایم اے کیا اور عربی زبان پر اتنی جانکاہی سے محنت کی کہ اس پر انھیں عبور حاصل ہوگیا اور وہ پورے ملک کے جانے مانے ٹرانسلیٹر اور انٹر پریٹر بن گئے۔فلسطینی صدرمرحوم یاسر عرفات ایک مرتبہ جب دہلی آئے تو پروفیسر فینان نے ہی ان کی تقریر کی ترجمانی کی تھی۔ان کی ترجمانی سے فلسطینی صدر بہت متاثر ہوئے اور ان کی بہت تعریف کی۔یعنی یہ ان کے لیے کسی Achievement سے کم نہیں تھا۔اس بات کا وہ اکثر ذکر کیا کرتے تھے،
پروفیسر فینان صاحب نے شعبے کی صدارت کبھی قبول نہیں کی۔جب بھی ان کی باری آئی تو ان کا لیٹر پہلے ہی سے تیار رہا اور انھوں نے انتظامیہ کو لکھ کر بھیج دیاکہ مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے۔میں نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ آپ صدر شعبہ کیوں نہیں بننا چاہتے؟ تو انھوں نے اس پر ایک لمبا لیکچر دے دیا۔کہنے لگے میں صدر شعبہ بن کر کیا کروں گا۔بچوں کے آئی کارڈ پر دستخط؟ ایسی صدارت سے کیا فائدہ؟ پھر انھوں نے تفصیل سے بتایا کہ صدر شعبہ کے فرائض کیا ہوتے ہیں۔اسے کیاکیا کرنا چاہیے۔اسے اختیارات بھی ہونے چاہیے۔ربر اسٹیمپ نہیں۔انھوں نے کہا مجھے اختیار دو اور میں صدر شعبہ بننے کے لیے تیار ہوں۔اس کے بعددیکھو کہ میں بحیثیت صدر شعبہ کیا کیا کرتا ہوں اور انھوں نے اپنے پروگراموں کی ایک طویل فہرست سامنے رکھ دی۔جس سے ان کے گہرے Vision کا پتہ چلتا ہے۔انھوں نے کہا اور میں لفظ بہ لفظ نقل کرتا ہوں کہ’’ صدر کو تو کوئی اختیار ہوتا نہیں،
میں مدینہ یونیورسٹی سے چھٹیوں میں ہندوستان آیا تو ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر گیا۔انھوں نے اس زمانے میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا عنوان تھا۔ما یلزم من العربیہ یعنی Essentials of Arabic Language۔انھوں نے ایک ایک صفحے کو بڑی خوب صورتی سے سجایا ہوا تھا اور ایک تھیسس کی طرح سنوارا ہوا تھا۔انھوں نے مجھے وہ مسودہ دیا اور کہا کہ دیکھو عالم عرب میں کہیں سے اگر یہ کتاب شائع ہوسکتی ہے تو کوشش کرلو۔اس مسودے کو لے کرمیں ایک دو مکتبے میں گھوما۔یہاں تک کہ ایک صاحب کے توسط سے میں نے ریاض میں وزارت تعلیم کے وکیل الوزارہ سے ملاقات کی اور یہ مسودہ دکھایا۔انھوں نے فینان صاحب کا نام پڑھاتوہنسنے لگے۔کہنے لگے۔مؤلفہ رفیعَ العماد۔الیس ھو طویل النجاد؟ میں اور میرے ساتھ جو صاحب تھے،
فینان صاحب چاہتے تو اس کتاب کو خود شائع کرلیتے لیکن ان کا مقصد تالیف کتاب بہت واضح تھا۔انھوں نے یہ کتاب اے پی آئی اسکور جمع کرنے کے لیے نہیں لکھی تھی بلکہ یہ کتاب ان کے تدریسی تجربوں کا نچوڑ اور حاصل تھی۔اسی لیے وہ چاہتے تھے کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کریں۔اس لیے وہ کسی معتبر پبلشر کے ذریعے اس کتاب کو شائع کرانا چاہتے تھے۔انھوں نے ایک ملاقات میں مجھے بتایاتھا کہ عالم عرب کے کئی مکتبات نے اس کتاب کو شائع کرنے کی منظوری دے دی تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ عربی عبارتوں اور مثالوں پر اعراب نہیں لگائیں گے کہ اعراب لگانا’’ کارے دارد‘‘ والا معاملہ تھا۔فینان صاحب ٹھہرے اصول پسند انسان۔ان کا خیال تھا کہ یہ کتاب beginnersیعنی مبتدئین کے لیے لکھی گئی ہے اگر عربی عبارتوںمیں،
بعد میں یہ کتاب GoodWord نئی دہلی سے شائع ہوئی اور بے انتہا مقبول ہوئی۔گذشتہ اٹھارہ برسوں میں اس کتاب کے تیرہ چودہ ایڈیشن اور re-prints شائع ہوئے جو اس کتاب کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہیں۔اس کتاب کا انڈونیشیائی زبان میں ترجمہ بھی ہوا۔یورپ وامریکہ میں بھی اس کی بازگشت سنی گئی۔بتانے والے نے بتایا کہ وہاں کے بک اسٹالوں پر اس کے نسخے فروخت ہوتے دیکھے گئے۔یعنی یہ کتاب ایک شاہکار کی حیثیت سے منظر عام پر آئی اور عربی سے محبت کرنے والوں کے دلوں پر راج کرگئی۔(اس کتاب پر میں الگ سے تفصیلی مضمون لکھوںگا۔ان شاء اللہ )
پروفیسر فینان نے ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا تم کیا بننا چاہتے ہو؟ میں نے برجستہ کہایونیورسٹی میں لیکچرر۔کہنے لگے کوئی اور آپشن۔میں نے کہا کوئی نہیں۔کہنے لگے نہیں بنے تو؟ میں خاموش رہا۔ایک مرتبہ قطر سے ایک سرکاری ملازمت کا offer آیا تو انھوں نے میرے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے وہاں بھجواکر دم لیا۔واپس آیا اور یونیورسٹی میں برسرروزگار ہوگیا تو ایک ملاقات میں کہنے لگے کہو کیسے ہو۔اب خوش ہو۔میں نہ کہتا تھا جاؤ۔بعد میں یہ سب بھی ہوجائے گا۔
پروفیسر فینان بہت نفیس ونستعلیق قسم کے انسان ہیں۔ہم نے اپنی طالبعلمی کے زمانے میں کبھی ان کی شیو بڑھی ہوئی نہیں دیکھی۔کبھی انھیں کیجول ڈریس میں نہیں دیکھا۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہ ایک ہی رنگ کا،
وہ اپنے طلبہ سے بہت محبت کرتے تھے۔مجھے بھی ان کی شفقت ومحبت کی بھینی بھینی خوشبو میسر ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں اپنے طالبعلمی کے زمانے میں ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور فینان صاحب کے گھر بغیر کسی سابقہ اجازت کے دھمک جایا کرتا تھا۔ان کی والدہ دروازہ کھولتیں،
فینان صاحب حقیقی معنوں میں مربی تھے۔وہ اپنے شاگردوں کی خاموش تربیت کرتے تھے۔میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔غور وفکر اور سوچنے سمجھنے کا طریقہ سیکھا،
پروفیسر فینان صاحب پورے جوش ونشاط سے بھرے ہوئے تھے۔بہت فعال تھے۔پوری لگن محنت اور حوصلے سے تدریس کا فریضہ اس طرح ادا کرتے تھے جیسے ان کو اس سے حقیقی معنوں میں عشق ہو،
طلبہ کو مارکیٹ کے لیے تیار کرتے تھے۔خود بھی بڑی بڑی عالمی کانفرنسوں میں انٹر پریٹر کی حیثیت سے شرکت کرتے تھے۔بلکہ ان کا نام ایک برانڈ کی حیثیت رکھتا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ اخیر میں انھوں نے’’ کار وافکار‘‘ کے ہجوم کی وجہ سے کانفرنسوں میں بحیثیت انٹر پریٹر جانا بند کردیا لیکن موقع ومحل کے اعتبار سے ٹرانسلیشن کا کام بھی کرتے تھے اور مختلف مناسبتوں پرانٹر پریٹیشن بھی۔وہ اسے چھوڑ بھی کیسے سکتے تھے۔یہی ان کی شناخت اور پہچان تھی۔
پروفیسر فینان نے ہمیشہ اپنے طلبہ کی زندگیوں میں رنگ بھرا اور میرے جیسے تشنگان علم وادب کو سیراب کیا۔دو چار ماہ قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عربی شعبے سے بڑی خاموشی سے سبکدوش ہوگئے۔میں سمجھتا ہوں ان کی سبکدوشی سے عربی کے ایک سنہرے عہد کا خاتمہ ہوگیا۔صدر شعبہ پروفیسر محمد ایوب ندوی نے ان کی الوداعی تقریب منعقد کرکے بڑا اہم فریضہ انجام دیا۔جس کے لیے وہ پوری عربی برادری کی طرف سے شکر وامتنان کے مستحق ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی پروفیسر فینان صاحب کو صحت اور عمر طویل عطا کرے اور انھیں سلامت رکھے او ر خوش بھی۔میں نے ان کی شاگردی میں بڑے اچھے لمحے اور سنہرے دن گزارے ہیں جن کے سہارے یہ سطریں قلمبند کرسکا۔ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ کہیں کہ میں ان کی تعریف میں بہت کچھ کہہ گیا لیکن یہ سطریں تعریف نہیں حقیقت ہیں۔ایک شاگرد کا اس کے استاد کو خراج تحسین ہیں۔
تازہ خواہی داشتن گر داغہائے سینہ رہا
گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را







