دنیا کا لطف، حشر کی جنت نماز میں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دنیا کا لطف، حشر کی جنت نماز میں
ملتی ہے دو جہان کی دولت نماز میں
دل کا سکون، عقل کی راحت نماز میں
رکھی ہے جسم و جان کی صحت نماز میں
ویسے تو اپنے رب سے محبت ہے نیچرل
بڑھ جاتی ہے کچھ اور محبت نماز میں
صحبت نبی کی ملتی ہے جنت میں دوستو!
سجدوں کی پائی جائے جو کثرت نماز میں
مقبولیت کی شرط ہے اخلاص و اتباع
کافی نہیں زبان کی حرکت نماز می
دل بھی ہوں ایک صف میں ہمارے بدن کے ساتھ
آؤ بنائیں ایسی جماعت نماز میں
کس کی تلاش میں تو یوں پھرتا ہے در بہ در
ملتی نہیں ہے کون سی نعمت نماز میں
دنیا ہو جتنی دور میاں! ذہن و قلب سے
اتنی ہی رب سے بڑھتی ہے قربت نماز می
پتھرا گئی ہے آنکھ کہ دل سخت ہوگیا
بہتا نہیں جو اشکِ ندامت نماز میں
محسوس ہو کہ دیکھ رہے ہیں خدا کو ہم
مطلوب اس قدر ہے حلاوت نماز میں
اے دل! سنبھل کہ آنے لگے وسوسے تجھے
شیطان کر رہا ہے شرارت نماز میں
اے نفس! میرے ساتھ تو مسجد کا قصد کر
مجھ کو پڑے گی تیری ضرورت نماز میں
'حی علی الفلاح' مؤذن نے دی صدا
جنت کی مل رہی ہے ضمانت نماز میں
اللہ کے حضور جو مقبول ہوسکے
سوچو ہے ایسی کون سی ساعت نماز میں
کرتے ہیں آپ گردش حالات کا گلہ
ہوتی ہے کیسی آپ کی حالت نماز میں
اچھا خدا سے کون جہاں میں ہے میزباں
کرتے ہو شاد! کیوں بھلا عجلت نماز میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





