جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غزل

کلام: عبدالغفار زاہد13 دسمبر، 20181,529قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یادیں جب یار تیری آتی ہیں
درد دل کا بڑھا کے جاتی ہیں
عشق بھی ایک بھل بھلیّا ہے
منزلیں مل کے کھو سی جاتی ہیں
ٹھوکریں بھی بہت ضروری ہیں
ہم کو اٹھنا یہی سکھاتی ہیں
بیٹیوں کی عجیب قسمت ہے
زخم کھا کر بھی مسکراتی ہیں
تھے جو مغرور اپنی طاقت پہ
اب شکستیں انھیں چِڑھاتی ہیں
تلخ لہجے میں بات مت کرنا
تلخیاں دوریاں بڑھاتی ہیں
دل کی چوٹیں بری نہیں زاہد
آئینہ یہ ہمیں دکھاتی ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غزل - دی فری لانسر | دی فری لانسر