(بچوں کے لیے لکھی گئی ایک تقریر)
صدر محترم،
زبان بے مایہ آج ایک ایسی ہستی کے ذکرجمیل سے تر ہونا چاہتی ہے جو خانوادہ رسالت سے نسبت خاص رکھتی ہے۔آپ کے بطن سے وہ مایہ ناز ہستیاں پیدا ہوئیں جن پر اسلامی تاریخ ہمیشہ ناز کرتی رہے گی۔آپ کی آغوش میں ایسے قلندر پروان چڑھے جنھوں نے شجر اسلام کو اپنے خون سے سینچا اور جن کی خارا شگاف تلوار نے باطل کا سر قلم کردیا۔جی ہاں میں بات کررہا ہوں حیدر کرار اور جعفر طیار کی والدہ اور ابوطالب کی زوجہ اور سرور کونین کی چچی اور سیدہ فاطمہ کی ساس حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی۔
زباں پہ بار الہا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
سامعین با تمکین!
اس پاکباز خاتون کی عظمت میں کیا بیان کروں؟ وہ اتنی عظیم تھیں کہ زبان رسالت ان کی عظمتوں کا قصیدہ پڑھتی تھی،
حضرت فاطمہ بنت اسد کی زندگی میں ہماری مسلم ماؤں بہنوں کے لیے اول تا آخر درس عبرت اور سامان بصیرت اور متاع علم و حکمت ہے۔گھر کے اندر اسلامی ماحول قائم کرنے کے لیے اولاد کی تربیت اور مثالی خاندان کے لیے جب کبھی ہم خواتین کی مثالیں دیں گے ہماری نظر حضرت فاطمہ بنت اسد پر ضرور پڑے گی۔اللہ کے راستے میں قربانی کی بات ہو صبر و برداشت کا معاملہ ہو اللہ کے لیے گھر بار،
یہ بات بلا مبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا ان ولی صفت مومنات میں سے ایک ہیں جن کے ذکر سے دینی محفل مہک اٹھتی ہے،
آج ہماری مسلم خواتین ان اوصاف جلیلہ اور خدمات مشکورہ سے کوسوں دور ہیں۔
حضرت فاطمہ بنت اسد کی حیات طیبہ ہماری خواتین کو یہ درس دیتی ہے کہ بیوی کی حیثیت سے آپ کو شوہر کے حقوق کیسے ادا کرنا چاہیے؟ اگر آپ کے پاس ڈھیر ساری اولادیں ہیں تو ان کی جسمانی اور روحانی تربیت کرکے انھیں مشت خاک سے فخر آسمان کیسے بنانا چاہیے؟ اگر دین کے لیے ہجرت کرنی ہے تو پھر فکرِ ماضی،
اگر آپ ساس ہیں تو بہو کے ساتھ آپ کو کیسا برتاؤ روا رکھنا چاہیے؟
اگر آپ گھر کے سفید و سیاہ کی مالک ہیں تو آپ کے گھر کی چہار دیواری غیر ضروری اخراجات اور دنیاوی تکلفات سے کس قدر پاک ہونی چاہیے؟
آج ہمارے گھروں میں جو انارکی،
دعا ہے کہ اللہ سیرت فاطمہ کے اجالے میں زندگی کا سفر طے کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین





