یہ کیسی پڑ گئی مشکل مقابل
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ کیسی پڑ گئی مشکل مقابل
عقب میں عقل ہے اور دل مقابل
بھلا دیکھے تو کیا بسمل مقابل
سدا رہتا ہے اک قاتل مقابل
ہوئے ہم یوں سرِ محفل مقابل
ہو جیسے بحر کے ساحل مقابل
کبھی ہو جب کوئی عاقل مقابل
سمجھ لے سنگ ہے اے دل! مقابل
بدل سکتے نہیں ہم رنگ اپنا
"ہمیشہ یہ رہی مشکل مقابل"
وہ آئینے سے کہتے ہیں بگڑ کر
نہ آنا پھر کبھی جاہل! مقابل
ہزاروں تیر برسائیں وہ نظریں
رہے گا پھر بھی میرا دل مقابل
ملا ہوں کتنے انسانوں سے لیکن
نہ آیا ایک بھی کامل مقابل
نگاہیں منتظر رہتی ہیں ہر دم
کوئی ہو دید کے قابل مقابل
یہی ہے امتحانِ شوق اے شاد!
سفر مشکل ہے اور منزل مقابل
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





