دنیوی امتحان:
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی فیکلٹی "کلیۃ الدعوۃ واصول الدین" کے "المستوی الخامس" کے اختبارات ختم ہوئے،
"یا عرفان! نحن انتهينا من الاختبارات،
عرفان ہم لوگ امتحان سے فارغ ہوچکے ہیں،
میں نے کہا کہ بھائی بہت خوش نظر آرہے ہو،
پھر اس نے اپنی خوشی کا سبب بڑی تفصیل سے بتایا۔امتحان میں اپنی امتیازی کامیابی کا اسے پورا یقین تھا۔کیوں نہ ہو،
اخروی امتحان:
دنیوی اختبارات میں انسان اپنی کامیابی و کامرانی کے لیے کتنی جاں توڑ محنت کرتا ہے،
”كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّونَ أُجُورَكُمْ يَومَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ“(سورہ آل عمران:۱۸۵)
ترجمہ: ”ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے دیے جاؤگے،
مذکورہ آیت سے مستنبط مسائل:
۱۔موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔
۲۔دنیا میں کیے گیے اچھے برے اعمال کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا۔
۳۔دنیا میں رہ کر جس نے اللہ کو راضی کرلیا اور جہنم سے دور ہوگیا اور جنت میں داخل ہونے کا سامان مہیا کرلیا وہ کامیاب ہے۔
۴۔یہ دنیا متاع فریب ہے،
دنیا امتحان گاہ ہے:
یہ دنیا دار الامتحانات ہے۔یہاں ہم نے اپنی عبادات،
”وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ“ (سورہ عصر: ۱-۳) ترجمہ: ”زمانے کی قسم! بےشک انسان سراسر نقصان میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور (جنھوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی“۔
مذکورہ بالا آیت سے مستخرج مسائل:
۱۔اللہ تعالی اپنی مخلو قات میں سے جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے،
۲۔اس آیت میں زمانے سے مراد شب وروز کی گردش اور ان کا ادل بدل کر آنا ہے۔
۳۔انسان کا خسار ہ بالکل واضح ہے،
۴۔جو ایمان لاکر نیک عمل کرتے ہیں ان کی دنیا چاہے جیسی بھی گزری ہو،
۵۔مصائب وآلام میں صبر،
آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں دنیا وآخرت دونوں میں کامیاب و کامران کرے۔آمین





