بے خوف نظر آئیں، تو افسوس نہ کرنا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بے خوف نظر آئیں، تو افسوس نہ کرنا
ہم بولنے لگ جائیں، تو افسوس نہ کرنا
بکھرے ہوئے موتی کو پرونے میں لگے ہیں
گر ہم بھی بکھر جائیں، تو افسوس نہ کرنا
تم اپنی نگاہوں سے پلانے پہ بضد ہو
ہم پی کے بہک جائیں، تو افسوس نہ کرنا
شیشے سا بدن لائے ہیں پتھر کی گلی میں
ٹکرا کے بکھر جائیں تو افسوس نہ کرنا
منزل کا پتہ ہی نہیں، نکلے ہیں سفر پر
گر دور نکل جائیں، تو افسوس نہ کرنا
برباد مجھے کرنے کی سازش میں لگے ہو
حالات پلٹ جائیں، تو افسوس نہ کرنا
غربت پہ ہنسی آپ کی، حیرت ہے مجھے یہ
منظر ہی بدل جائیں، تو افسوس نہ کرنا
وحشت ہے، کہیں ڈر ہے، کہیں عالمِ ہُو ہے
ہم پھر بھی جو مسکائیں، تو افسوس نہ کرنا
بچ کر کوئی نکلا نہیں، تنہائی کے ہاتھوں
اسعد بھی نہ بچ پائیں، تو افسوس نہ کرنا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





