ادارتی نوٹ:
چوراہے اب بڑے ہوگئے ہیں۔پہلے المیے زیادہ دن تک نہیں جیتے تھے،
دنیا ہے تو حادثے ہیں۔مگر کچھ گھٹنائیں ایسی ہوتی ہیں جو اپلچھ کی طرح گریر لیتی ہیں۔چھبیس سالہ درخت کو اکھاڑنے کا ساہس بڑا ہوتا ہے،
زیر نظر مضمون متعلقہ مسئلے پر کچھ فکر انگیز نکات پر مشتمل ہے۔دور رس اثرات و نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ بھی غور کریں،
ایڈیٹر
تعلقات،
مدارس و جامعات دینی قلعے اور ملی تحفظ کے سب سے اہم ذرائع میں شامل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی بقا اور فروغ کے لیے ملت ہر ممکن قربانی پیش کرتی رہی ہے تاکہ ان کے وجود سے ہمارا دینی تشخص سلامت رہے۔ملی اعتماد اور تعاون مدارس و جامعات کی حیات کا سرمایہ ہیں لیکن اب یہ مدارس اور جامعات مکمل طور پر سرمایہ دارانہ ذہنیت کے اثرات تلے دبتے جارہے ہیں۔اس لیے ملت کی ذمے داری ہے کہ ان دینی سرچشموں سے سیرابی حاصل کرنے کے لیے محض انتظامیہ بھروسے چھوڑ کر ان سے بے اعتنائی نہ برتے ورنہ آنے والے وقت میں اس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے کیونکہ عوامی چندوں (ریال،
مدارس اور جامعات کا انصرام شخصی ہوسکتا ہے لیکن ان کے معاملات قطعی شخصی نہیں ہوسکتے ہیں اور ان اداروں کی چاردیواری میں نافذ کیے جانے والے عاجلانہ اور غیر دانشمندانہ فیصلوں کو داخلی کہہ کر اس سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے۔اگر یہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے عوامی ہیں تو فیصلوں میں یک چشمی کیسے ہوسکتے ہیں؟ہوسکتا کہ کہ فیصلوں میں یک رخی نظام کا خاتمہ کچھ لوگوں کو انتشار اور بدنظمی کا موجب لگے۔لیکن شورائیت کی افادیت سے انھیں بھی انکار نہ ہوگا۔فیصلوں میں شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ ڈمی انتظامیہ کے بجائے فعال اور جہاں دیدہ لوگوں کا انتخاب کرکے انھیں آزادنہ طور پر ذمے داریوں کی ادائیگی کا موقع دیا جائے۔اور پھر خوشامد پرستی کے بجائے حقیقت پسندی اور معروضی نقد وتبصرے خوش دلی کے ساتھ قبول کیے جائیں اور انھیں قابل عمل بنانے میں ہر ممکن تعاون کیا جائے۔کیونکہ بہتر شخصیات کا انتخاب اور مناسب ٹیم مینیجمنٹ بھی انصرام تعلیم کا ہی لازمی جزء ہے۔
جامعات اور مدارس کا سلوگن ہی فلاح دارین سے عبارت ہے۔اگر ان کی انتظامیہ فارغین کو تقوی وللہیت کے حوالے سے احتساب آخرت کی تلقین کریں اور خود دنیاوی زیب و زینت اور خوشنمائی کے لیے شرعی نظام سے لاپرواہی برتیں۔اور اپنے ماتحتوں سے خود ساختہ نظام اور قوانین کی پاسداری کی دہائی دے کر اس پر اصرار کریں اور اس کی بنیاد پر تقرری اور اخراج کے فیصلے کریں تو ایسی انتظامیہ کو خطاء و صواب کے کس زمرے میں شامل کیا جائے؟ اور کیا جامعات سے طلباء و اساتذہ کا اخراج ہی اعلی تعلیم و تربیت کے معیار کی فراہمی کا لازمی جزء ہے؟ اور اگر ایسے طلباء و اساتذہ کو تعلیمی لحاظ سے عضو معطل سمجھ کر ان سے چھٹکارہ بھی پالیا جائے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ دوسرے تعلیمی اداروں میں انھیں جگہ نہیں ملے گی۔اور پھر ان کی موجودگی میں وہاں کی تعلیمی فضا محفوظ بھی رہے گی۔اور کیا قابل برداشت غلطیوں پر طلباء و اساتذہ کو تعلیم و تدریس سے محروم کردینا ہی اس کا واحد حل ہے؟
دیار حبیب ﷺمیں رہ کر حصول علم کا موقع یقینا قابل فخر اور زندگی کا بیش قیمتی سرمایہ ہے۔لیکن اگر یہ خوش قسمتی اپنے اساتذہ سے علمی موازنہ کرتے ہوئے عجب اور گھمنڈ کا سبب بن جائے۔ان کی ہجو اورغیبت کرنے کی تحریک دینے کا سبب بن جائے۔انتظام اور انصرام کے نام پر ان کے سروں کو جھکا کر علمی غرور و انا کو تسکین پہنچائے۔یا علمی پستی کو بے عیب رکھنے کے لیے بزرگ اساتذہ کے اخراج کی سازش کی ذہن سازی پر آمادہ کرنے لگے تو یہ شاید با ادب جہالت کی بے ادب علم پر فوقیت کا مقام ہے۔
مسجد انتظامیہ کی عمومی بےحسی تو اس بنا پر قابل فہم بھی ہے کہ وہ عام طور پر دینی تعلیم یا علماء کے حالات اور ان کے مقام و مرتبہ سے بے خبر ہوتے ہیں۔لیکن نظام الاوقات کی پابندی کے نام پر عالم ہی علم و عمل کی بے قدری کے نمونے پیش کرنے لگیں تو اب گلہ کس سے کیا جائے؟
مدارس کے نصاب کی تجدید کاری کی فکر ہر ذی شعور کررہا ہے۔میری ناقص رائے کے مطابق جن جامعات میں کلیلہ دمنہ شامل نصاب ہے اسے تبدیل کردیا جائے کیونکہ حالات بتلا رہے ہیں اس کتاب کی تدریس سے طالب علم ادبی بلوغت کے مراحل طے کرے نہ کرے لیکن مدارس کی انتطامی سیاست کو فروغ دینے میں یہ کتاب ذہن سازی ضرور کرتی ہے۔اسی وجہ سے اس کے مشہور کردار عملی طور پر جامعات میں نظر آہی جاتے ہیں۔جو کہانی کی طرح نہ صرف انتظامیہ بلکہ بالآخر اپنے لیے بھی نقصان کا ہی سبب بن جاتے ہیں۔
خارجی داخلی معاملات کے نعرے بلند کرکے دوسروں کے ایمان و علم کی گہرائی ناپنے والوں کی اس طرح کے معاملات میں خاموشی تعجب خیز ہے۔ان کی فکر انگیز تحریروں کا انتظار رہے گا اس امید کے ساتھ کہ وہ کم ازکم داخلی معاملے پر بخش دیں گے اور اس بار اخوان،





