معروف و مشہور مؤرخ و ادیب احمد حسن زیات ۱۸۸۹ء کو مرکز ’’طلحا‘‘ کے ’’کفر دمیرہ‘‘ نامی قدیم گاؤں میں پیدا ہوئے۔تیرہ سال کی عمر سے پہلے ازہر میں داخل ہوئے۔مسلسل دس سال تک ازھر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد قدیم جامعہ مصریہ منتقل ہوئے پھر پرائیویٹ تدریس میں مشغول ہوئے اور ’’الفریر‘‘ کے مدارس میں تقریباً سات سال عربی کے مدرس رہے۔وہیں فرانسیسی سیکھی۔آخر میں فرانسیسی لاء کالج (قاہرہ) میں داخلہ لے کر کچھ مدت تک تعلیم حاصل کی اور ۱۹۲۶ء میں پیرس میں آخری امتحان دیا۔۱۹۲۲ء میں قاہرہ کے امریکی مدرسہ میں عربی ادب کے مدرس رہے پھر ۱۹۲۹ء میں دارالعلیمن العلیا بغداد سے منسلک ہوئے اور وہاں صدر شعبۂ عربی کی حیثیت سے کام کیا۔
عراق کی تین سالہ مدت اقامت کے دوران انہوں نے اپنی کتاب ’’العراق کما عرفتہ‘‘ (عراق جیسا کہ میں نے اسے دیکھا) تصنیف کی اور کتاب طباعت سے پہلے (کسی حادثے کے سبب) جل کر خاکستر ہوگئی۔۱۹۳۲ء میں وہ قاہرہ واپس آئے اور مجلہ ’’الرسالہ‘‘ جاری کیا جو بیس سال (۱۹۳۳ء۔۵۳ء) تک نکلتا رہا۔انہوں نے ’’الروایۃ‘‘ نام کا بھی مجلہ جاری کیا جسے بعد میں موقوف کرناپڑا۔
زیات ’’الرسالہ‘‘ کے پہلے شمارے میں مجلہ کے اجراء کا سبب اور پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نومبر ۱۹۳۲ء کی راتوں میں سے ایک رات میں نے اپنے بھائی ڈاکٹر طہ حسین کی زمالک میں واقع ان کے گھر پہ زیارت کی۔دارالعلمین العلیا (بغداد) کے بند ہونے کے بعد عراق سے میری واپسی پر کوئی چار ماہ گزر چکے تھے۔اس وقت وہ بھی جامعہ فؤاد کے کلیۃ الآداب میں اپنے منصب سے سبکدوش کیے جاچکے تھے۔گزرے ہوئے لمحات کی میٹھی یادوں اور شوق و چاہت کی باتوں کے بعد میں نے کہا: بلند پایہ ادب کی خدمت کے لیے ہمارا ایک ساتھ مل کر ہفتہ واری مجلہ نکالنا کیسارہے گا؟ میری یہ بات سن کر وہ ہنس پڑے۔ان کی یہ ہنسی وسیع وعریض مسکراہٹ سے شروع ہوکر طویل قہقہوں پر ختم ہوئی۔پھر بولے: ’’کیا آپ اس مجلہ کے لیے ایسے سماج میں قارئین پاسکیں گے جس کا خاص طبقہ یوروپین زدہ ہو اور عام طبقہ ان پڑھ ہو جو صرف ہلکے پھلکے مضامین،
میں نے کہا: شاید ان دونوں طبقوں کے درمیان ایک ایسا طبقہ ہو جو عمدہ ادب کی خواہش رکھنے کے باوجود اسے نہ پاتا ہو اور نفع بخش ادب کی تمنا رکھتے ہوئے بھی اس کے حصول سے قاصر ہو۔پھر وہ اپنے ہونٹوں کو جنبش دیتے ہوئے بولے: ’’حتی کہ یہ طبقہ اگرچہ ابتداء میں تغیر و تنوع رکھنے والے عمدہ اور تعمیری ادب کی طر ف متوجہ ہو لیکن رفتہ رفتہ اس سے بھی وہ اکتاہٹ اور بے رغبتی کا شکار ہو جائے گا اور اگر آپ میرے اشتراک سے یہ خدمت انجام دینا چاہتے ہیں تو وہی باتیں لکھوں گا جس کو لکھتا آیا ہوں اور میری قلم میری رائے کا مؤید ہوگا‘‘۔
بہر کیف اخیر میں اسی بات پر عزم مصمم ہوا کہ مجلہ نکالا جائے،
ڈاکٹر طہ حسین،
زیات نے اپنے مقالات کا مجموعہ انتخاب بنام ’’وحی الرسالۃ‘‘ چار جلدوں میں شائع کیا۔اس مجموعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد انہیں ۱۹۵۳ء کے ملکی ایوارڈ برائے ادبی خدمات سے سرفراز کیا گیا۔یہ جلدیں کئی بار طبع ہوچکی ہیں۔پہلی جلد (۵۰۳) دوسری جلدی (۳۹۲) تیسری (۳۶۲) چوتھی (۳۶۳) صفحات پر مشتمل ہے۔کتاب کے مقدمہ میں وہ لکھتے ہیں:’’میں نے یہ فصلیں اپنی ان تحریروں سے منتخب کی ہیں جنہیں میں نے چھ سالہ مدت میں ’’الرسالۃ‘‘ کے لیے لکھا تھا۔میری یہ عادت تھی کہ میں ہر ہفتے سنیچر کی شام ایک فصل لکھ لیتا،
زیات "مجمع اللغۃ العربیہ" (قاہرہ) کے ممبر منتخب ہوئے،
۱۹۶۳ء میں زیات نے ایک مدت تک ’’الرسالۃ‘‘ کی اشاعت موقوف ہونے کے بعد دوبارہ اسے جاری کیا لیکن مجلہ کو وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جو اسے پہلے حاصل ہوا تھا۔نتیجہً مجلہ دوبارہ بند ہوگیا۔بعد ازاں وہ ۱۳۷۲ تا ۷۴ھ مجلۃ الأزھر کے مدیر رہے۔۱۹۶۸ء میں قاہرہ میں وفات پائی اور اپنے آبائی وطن میں مدفون ہوئے۔
زیات بڑی نرم طبیعت کے واقع ہوئے تھے۔فصیح وبلیغ الفاظ کا استعمال اور شستہ و پاکیزہ اسلوب تحریر ان کا امتیازی وصف ہے۔بحیثیت مؤرخ ادباء کے محاسن و معایب کے بیان میں انہوں نے تصنع و تکلف سے کام نہیں لیا اور ہر شخص کو اس کا وہ مقام دینے کی کوشش کی جس کا وہ مستحق تھا۔
زیات کے ادبی آثار
(۱) تاریخ الأدب العربی:
زیات کی یہ کتاب عالمی شہرت کی حامل ہوئی،
(۱) عصر جاھلی
(۲) عصر صدر اسلام اور عہد بنی امیہ
(۳) عصر عباسی
(۴) عصر ترکی
(۵) عصر جدید
کتاب کا اردو ترجمہ مولانا عبد الرحمان طاھر سورتی صاحب کے قلم سے ہے اور تلخیص و اضافہ کا عمل سید طفیل احمد مزنی نے انجام دیا ہے۔
اردو میں عربی ادب کی تاریخ پر جو کام ہوا ہے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر محسن عثمانی صاحب ضمناً زیات کے اسلوب اور ان کی اس کتاب پر ناقدانہ تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’عربی زبان و ادب کی تاریخ پر اب کئی کتابیں اردو میں شائع ہوچکی ہیں۔سب سے پہلے عربی ادب کی تاریخ پر احمد حسن زیات کی عربی کتاب کا ترجمہ منظر عام پر آیا۔احمد حسن زیات عربی کے صاحب اسلوب،
(۲) دفاع عن البلاغۃ:
اس کتاب میں عربی بلاغت کا دفاع کرتے ہوئے اس کے متعلق غیر اصولی و نامعقول باتیں کرنے والوں کا جواب دیاگیا ہے۔
سید قطب نے زیات کی اس تحریر پر نقد کیا ہے۔
(۳) في أصول الأدب:
اس کتاب میں ان لیکچرز،
(۴) زیات نے مغربی ادب کے بہت سے قصے اور کہانیوں کے ترجمے عربی ادب کو دیے۔جیسے جوتہ کی ’’آلام فرتر‘‘ لامارٹین کی’’روفائیل‘‘ اور موپسان کی بہت ساری کہانیاں،
زیات نے کوئی سرکاری یا پرائیویٹ ملازمت اختیار نہیں کی بلکہ انہوں نے پوری زندگی ادب کی خدمت میں گزار دی اپنے متعلق وہ لکھتے ہیں: ’’میں نہ کسی پارٹی میں شامل ہوا،
سید جمال الدین الألوسی نے ’’أدب الزیات في العراق‘‘ نام سے کتاب لکھی جو مطبوع ہے (۱)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) تاریخ الأدب العربی للزیات (ص ۵) (گیارہواں ایڈیشن دارلمعرفہ بیروت) و أعلام النثر والشعر فی العصر الحدیث لمحمد یوسف کوکن (۳؍۳۸۷-۳۸۹) و لمحات الی النثر العربی الحدیث للدکتور أحمد کوتی تی بی و أبی بکر ای سي (ص ۳۹) (ط: مکتبۃ الھدی کالیکٹ)
مزید معلومات کے لیے ملاحظہ ہو الأعلام للزرکلی (۱؍۱۱۴)





