کرتا نہیں ہے ظلم پہ اب کوئی شور دل
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کرتا نہیں ہے ظلم پہ اب کوئی شور دل
حالات نے بنا دیا کتنا کٹھور دل
کہتی ہے عقل اور نہ اب رابطہ بڑھا
اور اس سے پیار کرنے پہ دیتا ہے زور دل
حیراں ہوں اس کے طرزِ تغافل سے مستقل
رب جانے لے کے جائے گا مجھ کو کس اور دل
موضوعِ گفتگو ہو اگر وہ تو شاد کام
ورنہ تمام باتوں سے رہتا ہے بور دل
رہبر بنے ہوئے ہیں وہی آج قوم کے
جو لوگ کور چشم ہیں، جو لوگ کور دل
جھوٹی تسلیوں سے بہلتا نہیں سحر!
چالاک ہوگیا ہے بہت رنج خور دل
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





