بجھے جاتے ہیں منظر ایرے غیرے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بجھے جاتے ہیں منظر ایرے غیرے
چلے آتے ہیں وہ زلفیں بکھیرے
یہ حسن و ناز، یہ انداز تیرے
انھیں افسوس! دیکھیں ایرے غیرے
شریفوں کے نہیں اچھے بسیرے
محل بنوائے جاتے ہیں لٹیرے
مرے دل کے ہر اک گوشے میں جاناں!
تمھاری یادوں نے ڈالے ہیں ڈیرے
اگر رشتہ محبت کا نہیں تھا
تو پھر کیا درمیاں تھا تیرے میرے
عجب ہے حاکموں کا حال الٹا
چراغوں کے تلے دیکھے اندھیرے
ملے ہم اجنبی کی طرح ان سے
مقدر نے یہ کیسے وقت پھیرے
نکلنا شاد مشکل ہو گیا ہے
ہر اک جانب ہیں ارمانوں کے گھیرے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





