میری تقدیر میں ہے، ان سے جدا ہو جانا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میری تقدیر میں ہے، ان سے جدا ہو جانا
"روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا"
میری حالت پہ نہ تم کھاؤ ترس، رہنے دو
مجھ کو آتا ہے محبت میں فنا ہو جانا
تم نہ آتے تو کسی طور نہیں ممکن تھا
میرے بیمارِ دل و جاں کی دوا ہو جانا
حال یہ ہے کہ جو بندے کے نہیں لائق ہیں
چاہتے ہیں وہ زمانے کا خدا ہو جانا
کم قیامت سے کسی طرح نہیں میرے لیے
ایک لمحے کے لیے اس سے جدا ہو جانا
میری فطرت میں ہی شامل ہے وفا میرے دوست
اتفاقات نہیں مجھ سے وفا ہو جانا
تلخیاں دیکھو در آئیں نہ کہیں رشتوں میں
دور سے ملنا سحر مل کے جدا ہو جانا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





