ظلمتِ شب جہالت سحر آگہی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ظلمتِ شب جہالت سحر آگہی
خرمنِ جہل خس ہے شرر آگہی
بے ضرر عشرتیں محورِ جاہلاں
جنتِ عاقلاں باضرر آگہی
کٹ گئے بال و پر پھر بھی پروا نہیں
ذوقِ پروازِ انجم مہر آگہی
منجمد جہل ہے مثلِ قطبِ جنوب
مثلِ دریا ہے محوِ سفر آگہی
جہل ارزاں ہے جیسے خزف یا حجر
بیش قیمت زمرد گہر آگہی
کور چشموں کو بخشے ہنر دید کا
دشمنِ انقباضِ نظر آگہی
ساری دنیا کو روشن کرے آن میں
شمسؔ کی کیمیاۓ اثر آگہی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (5)
س
سحر محمود
17 جنوری، 2019کیا بات ہے
وااااہ
بہت خوب
خ
خبیب حسن
17 جنوری، 2019لاجواب بھائ❤️❤️❤️
ع
عطا رحمانی
17 جنوری، 2019بہت خوب
س
سعد احمد
16 جنوری، 2019واہ!
عطر دان سے جستجو پھوٹ پڑی
وہ وہیں کھڑی تھی اور قسمت اس پر ٹوٹ پڑی
S
Shaukat Parvez
16 جنوری، 2019Brilliant poetry
بہت عمدہ!





