خاص ذہنیت والے خاص ذہنیت ہی پیدا کرتے ہیں چاہے وہ اچھائی سے متعلق ہو یا برائی سے۔نقائص اور عیوب کا موضوع جس سوچ کا محور ہو وہ خصائص اور موجبات پہ کیوں کر توجہ دے گی۔بعض لوگ اصلاح پہ مبنی عقلی امکانیات کو بے مقصد اور بے وجہ بتاتے ہیں۔غالباً ان کا یہ گمان ہوتا ہے کہ آنے والی تمام باتیں شیطانی راستوں سے ہی آرہی ہیں۔ان کا یہ گمان کس چیز پہ مبنی ہے یہ اولی النُھٰی ہی اگر موجود ہوں تو بتا سکتے ہیں۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ دینی حلقوں کا رجحان ہے اور یہ اب عام رجحان ہو چکا ہے۔اس کی وجہ کچھ بھی ہو ہم دین کی ہی بات کرنا چاہیں گے۔
دین کا ایک مضبوط تصور ہے۔یہ دینی تصور آلام اور ہموم سے پاک اور منفی لواحقات کو بھی خاطر میں لانے کے خلاف ہے۔لہذا اصل تصور سے واقفیت رکھنے والا دیندار بھی خوش،
ہماری الیکٹرانک روشنی کے برعکس ہماری فطرت کی روشنی جس سے دینی تصور کے رموز اور معانی جڑے ہیں ہر کسی کے لیے ہے۔دینی تصور کی روشنی صرف ٹیکس ادا کرنے والے کے لیے نہیں بلکہ سانس لینے والی ہر مخلوق کے لیے ضروری اور لازمی ہے۔وہ جماعت جو اندھیروں کی پروردہ ہے ہمیشہ یہ چاہتی ہے کہ دینی تصور کی یہ روشنی لوگوں تک نہ پہنچنے پائے۔اس مقصد کے حصول کے لیے وہ دن رات محنت کرتی رہتی ہے۔یہ جماعت چیونٹیوں سے زیادہ محنت کش اور مکڑیوں سے زیادہ اچھی بُنکر ہوتی ہے۔
اس ضمن میں پہلا موضوع وجود کی آگہی ہے جسے ہمارا دینی تصور کھول کھول کر سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔مگر نہ جانے کیوں اس موضوع پر غور کرنے سے پہلے ہم ان موضوعات پہ غور کرنا شروع کرتے ہیں جس کا تعلق فضائل و مناقب سے ہوتے ہوئے ایک طرح کی اجارہ داری سے منسلک ہوجاتا ہے۔یہ اجارہ داری صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ دین کو جیسے ہم سمجھ رہے ہیں آپ نہیں سمجھ سکتے۔اگر یہ بات صرف اس تربیت کی بنا پہ ہوتی جو دینی تعلیم گاہوں سے ملتی ہے تو کوئی بات کیوں کر ہوتی۔سوال یہ ہے کہ اس اجارہ داری نے نئی نسل کو اس بات پہ مجبور کیا ہے کہ وہ خلا کو پُر کریں۔لہذا جیسے ہی کسی شخص نے وجود کی آگہی کی جانب قدم بڑھایا،
عہد حاضر میں جہاں مادے کی نئی شکلیں ظہور پذیر ہوئیں اور مادیت کا نیا زاویہ کھل کر آیا خاص ذہنیت بھی اپنے اپنے سانچے کے اعتبار سے ابھر کر آئیں؛
نظری عقیدہ توحید:
دنیا میں خدائے واحد کا تصور کسی نہ کسی شکل میں بنا کسی واضح تفریق نظر و عمل کے ہر جگہ رہا ہے۔اس کے برعکس آج ہم جس جگہ موجود ہیں وہ دَور شئی کی تفہیم میں نظر و عمل کی تبويب کے بغیر آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ہاں اس جانب مومنین خصوصی توجہ فرمائیں تو کچھ ہونے کے امکانات ضرور ہیں۔پھر عملی عقیدہ توحید کے لیے اصلاحی فکر کا ایک موڈیول ابھر کر آتا ہے۔عملی توحید اعمال مبنی بر نص قرآنی اور فرمودات نبوی ہے۔صحیح عقیدہ والی سوچ جو خدا ڈھونڈتی ہے بنا تصور معرفت الہی ممکن ہی نہیں۔معرفت الہی تک انسانوں کو پہنچانا علماء کا پہلے درجہ کا کام ہے۔
توحید جو نبی کریم کی زندگی میں معرفت الہی تھا شیخ محمد بن عبد الوہاب کے ذریعے بھی معرفت الہی کی طرف دوڑنا ٹھہرا۔اسلام کے آنے سے پہلے نبی کریم کے زمانے میں معاشرہ میں مادیت کی اصل کڑی بد اعتقادی اور بت پرستی سے ملتی تھی۔ان کا معاشرہ مبنی بر شرک معاشرہ تھا۔شیخ محمد بن عبد الوہاب کے زمانے میں معاشرہ میں بھی مادیت کی کڑی بد عقیدگی سے ملنے لگی مگر نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے کچھ ڈگری کم۔وہ اس طور سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاشرہ اولا کافر اور مشرک تھا جو ذلت کی بڑی سی وادی میں گرنے کے قریب تھا مگر شیخ محمد بن عبد الوہاب کا معاشرہ أولا مسلم تھا جو کفر اور شرک کی جانب سرپٹ بھاگا جارہا تھا۔نبی کریم صلي اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بت پرستی اور قومیت معاشرہ کا ایتھکس تیار کرتی تھی۔مادیت اس زمانے میں مشرکانہ ایتھکس کے زیر سایہ تھی جب کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے زمانے میں ایتھکس جس سے وہ نبرد آزما تھے من چاہی فقہیات پلس غلیظ بدعتوں کے ماتحت تھا گرچہ تصور حق کی وضاحت بھی موجود تھی۔شیخ محمد عبد الوہاب کا کام نبی کریم ﷺکے کام سے کہیں زیادہ آسان تھا کیونکہ شیخ کا کام صرف اندرون کی صفائی تھی۔اندرون کے صفائی کے نام پہ تصور اسلام کو کینڈی سمجھنے والے صوفیاء،
اللہ رب العالمین کا بے انتہا شکریہ کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے ذریعہ اندرون معاشرہ کو صاف ستھرا اور نتھرا بنایا۔ساتھ ہی معاشرے کے خارجی ساخت کو واضح اور اصلاحی بنایا اور ایک اچھی سمت کی جانب لگایا۔ہماری مذہبی سوچ جبلی رجحان کے نام پہ باطنیت اور خارجیت کی دنیا میں گھومنے کے بجائے ایک ایسی سوچ کی حامل ہوئی جو اعتدال پہ مبنی تھی۔یہ سوچ سچی تھی۔اس سوچ کی نفسیات صاف ستھری تھی۔بڑے سے بڑے طرم اور شیخ کبیر صاف ستھری سوچ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیوں کہ نفسیات میں بد نیتی اور تاویلیں بھی نہیں اور جب تاویلیں نہیں تو دماغ صرف اور صرف سچی اور اچھی باتیں پیش کرتا ہے۔اسی لیے مسلم شخص کی نفسیات غیر مسلم سے زیادہ مضبوط اور اچھی ہوتی ہے۔اس سے اوپر کی ڈگری ایمان اور مومن کی ہے۔مومن جس قدر خدا سے قریب ہوتا ہے ہمیں اس کی نفسیات کا روحانی پہلو بھی مضبوط ہوتا نظر آتا ہے۔ایسا شخص حق کے معنوں کی تعبیر ہے۔
دور انتشار،
دینی تصور اور دینی سوچ کو مہمیز عطا کرنے والے زمانے لدگئے۔سوچ کی باتوں کو قیل و قال سمجھنے والے رہ گئے۔مصلحت اور ڈر کی گڑیا جيب ميں رکھے علماء بہت سے خانوں میں بٹ گئے؛
اب تک کے علماء خیر ہر اعتبار سے مادے کی مادیت کے مخالف تھے۔پھٹے حال میں رہ کر وہ شاہوں کے سینہ پہ لوٹتے تھے مگر آج علماء خوشحال رہ کر بھی ایک چیونٹی تک کے دل پہ راج نہیں کر پاتے۔یہ علماء حق کا حال ہے۔نئی مادیت کے لیے یقیناً علماء حق نے کچھ سوچ رکھا ہوگا،





