جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

رگوں میں اب وہ خوں نہیں

کلام: عبدالغفار زاہد17 جنوری، 20191,289قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رگوں میں اب وہ خوں نہیں
وہ جذبہ و جنوں نہیں
چمک دمک تو خوب ہے
دلوں میں پر سکوں نہیں
عبادتوں کی دھوم ہے
وہ سوز اندروں نہیں
جو پل میں دل کو پھیر دے
نظر کا وہ فسوں نہیں
ہوس کا رقص ہر طرف
وہ قیس سا جنوں نہیں
بکھر گیا ضرور ہوں
مگر میں سرنِگوں نہیں
عجیب گھر ہے دل کا بھی
یہاں کوئی ستوں نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

خ
خبیب حسن
3 مارچ، 2019
خوب سلامت رہیں بھائ
J
Jamal Hakim
17 جنوری، 2019
مایوس ہو کے جھدمسلسل نا چھوڑیے, زخمو کے باد حاتھوں میں گوھر بھی آئینگے, ہیں پتھروں سے لوگ ہی اس سھرسنگ میں, کوشیشیں رہی آپکی! انکے واستے نئے منزر بھی آئینگے, حوصلو سے آپکی نکلی ہوئی چنگاریاں یے گوجتی ہیں, زرور اپنا شر جھکاء ستمگر بھی آئینگے, "چاچو" آپکا وجود غوارا نہیں جنہیں, بظمیقرآن میں وہ سخنور بھی آئینگے. اللّه آپکو کبھی رسوا نا کرے اللّه آپکی امر میں برکت دے (آمین)

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

رگوں میں اب وہ خوں نہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر