رگوں میں اب وہ خوں نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رگوں میں اب وہ خوں نہیں
وہ جذبہ و جنوں نہیں
چمک دمک تو خوب ہے
دلوں میں پر سکوں نہیں
عبادتوں کی دھوم ہے
وہ سوز اندروں نہیں
جو پل میں دل کو پھیر دے
نظر کا وہ فسوں نہیں
ہوس کا رقص ہر طرف
وہ قیس سا جنوں نہیں
بکھر گیا ضرور ہوں
مگر میں سرنِگوں نہیں
عجیب گھر ہے دل کا بھی
یہاں کوئی ستوں نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
خ
خبیب حسن
3 مارچ، 2019خوب
سلامت رہیں بھائ
J
Jamal Hakim
17 جنوری، 2019مایوس ہو کے جھدمسلسل نا چھوڑیے, زخمو کے باد حاتھوں میں گوھر بھی آئینگے,
ہیں پتھروں سے لوگ ہی اس سھرسنگ میں, کوشیشیں رہی آپکی! انکے واستے نئے منزر بھی آئینگے,
حوصلو سے آپکی نکلی ہوئی چنگاریاں یے گوجتی ہیں, زرور اپنا شر جھکاء ستمگر بھی آئینگے,
"چاچو" آپکا وجود غوارا نہیں جنہیں, بظمیقرآن میں وہ سخنور بھی آئینگے.
اللّه آپکو کبھی رسوا نا کرے اللّه آپکی امر میں برکت دے (آمین)





