عورتیں تو ہوتی ہیں ہی باتونی،
'ہاں،
بوڑھی عورت اپنی جگہ سے اٹھ کر میرے پاس والی بینچ پر آکر بیٹھ گئی اور مسکرا کر بولی: 'بیٹے،
مجھے بھی وقت گزاری کا بہانہ مل گیا اور شاید وہ بھی بات چیت کرنا چاہتی تھی۔باتوں کا سلسلہ آگے بڑھا تو پتہ چلا کہ یہ بوڑھی عورت اسی اسپتال میں 'ماسی' ہے۔وہ روز شام سات بجے اسپتال آتی ہے اور دوسرے دن کی صبح سات بجے اسپتال سے جاتی ہے۔زچہ بچہ کی دیکھ بھال اور ان کی صفائی ستھرائی اس کا کام ہے اور پوری رات جاگتے ہوئے وہ یہ کام کرتی ہے۔اسپتال سے اسے ماہانہ چھ ہزار روپیہ تنخواہ ملتی ہے۔صبح سات بجے اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد سنجے نگر میں پہاڑی پر واقع اور ماہانہ سات سو روپیہ کے کرائے پر حاصل کردہ گھر جاتی ہے۔اکیلے رہتی ہے۔شوہر کو مرے ہوئے پانچ سال ہوگئے۔دو بیٹے تھے۔دونوں کی شادی ہوگئی۔دونوں الگ رہتے ہیں۔چھوٹے بیٹے کی شادی ایک سال پہلے ہی ہوئی ہے۔
گھر پہونچ کر تقریبا ایک گھنٹے کے وقفہ میں ناشتہ کرتی ہے اور تھوڑا بہت آرام کرتی ہے۔اس کے بعد گھر سے نکل پڑتی ہے اور اس گھر سے اس گھر زچہ بچہ کو مالش کرتی ہے۔ہر روز دو گھر کم از کم مل جاتے ہیں۔ہر گھر سے روزانہ کے حساب سے ڈھائی سو روپیہ لیتی ہے۔میں نے دل ہی دل میں اندازہ لگایا۔چھ ہزار اسپتال سے،
' کیا بات ہے،
میری بات پر پہلے تو وہ مسکرائی،
' بیٹا،
میں نے حیرانی سے کہا:
' آنٹی،
' ہاں،
' کیسا قرض؟'
'چھوٹے بیٹے کی شادی کے لیے میں نے سونار سے ڈھائی لاکھ روپیہ بطور قرض لیا تھا۔اس قرض کی قسطیں میں آج تک چکا رہی ہوں۔۔۔سونار کہہ رہا تھا کہ پورا قرض چکانے کے لیے مجھے پانچ سالوں تک اسی طرح ہر مہینہ بارہ ہزار روپیہ ادا کرتے رہنا ہوگا.' اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔۔۔
ماسی نے پلو سے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا: 'سونار حساب کتاب بہت جانتا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ ایسا قرض ہے جس کی قسطیں میں پانچ سال نہیں بلکہ زندگی بھر چکاتی رہوں گی۔۔۔'





