جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

چھایا ہے ابرِ یاس چلو اب غزل کہیں

کلام: سحر محمود20 جنوری، 20191,365قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
چھایا ہے ابرِ یاس چلو اب غزل کہیں
ہر شخص ہے اداس چلو اب غزل کہیں
ہجر و فراقِ یار میں رونا فضول ہے
دل تو ہے اپنے پاس چلو اب غزل کہیں
یہ بھی علاج، دردِ جگر کا ہے لا جواب
مت کھوؤ تم حواس چلو اب غزل کہیں
اچھا ہوا کہ تھام لیا شاعری نے ہاتھ
غم آگیا ہے راس چلو اب غزل کہیں
تنہائیوں میں اب تو یہی سوچتے ہیں ہم
کیسے ہو وقت پاس چلو اب غزل کہیں
ممکن ہے دل کی بات سحر وہ سمجھ سکیں
باقی ہے اب بھی آس چلو اب غزل کہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

چھایا ہے ابرِ یاس چلو اب غزل کہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر