جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

وہ غم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے

کلام: سحر محمود22 جنوری، 20192,017قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ غم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے
ستم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے
کوئی نہیں ہے جہاں میں لاچار اس کے جیسا
صنم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے
وہی ستم گر وہی ہے محسن کرے بھی کیا دل!
کرم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے
نہ رکھے کوئی کسی سے امید حد سے بڑھ کر
بھرم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے
وہ اس کا ہر بات پر یہ کہنا وفا کروں گا
قسم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے
سکوں نہیں ہے، سکوں نہیں ہے، اسے کسی پل
درم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے
سحرپہ قدغن،کسی کے بارے میں لب نہ کھولے
قلم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وہ غم کا مارا عجب تماشا بنا ہوا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر