جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

چور، ڈاکو اور ٹھگ

تحریر: اداریہ23 جنوری، 20191,703قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

چور کو کسی بھی زمانے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔وہ جس دور میں بھی جیا اپنی ہمہ جہت ذلت کے ساتھ جیا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر یہ کام چرسی اور افیونی کرتے ہیں۔کبھی چوری کا کش لگایا کبھی کش نہیں لگایا۔

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ رات کے سینے میں صرف چور اور عبادت گزار دھڑکتے ہیں۔چور کے سامنے اس کا مسئلہ ہوتا ہے اور عبادت گزار کے سامنے اس کا مصلی۔

وہی بزرگ آگے فرماتے ہیں کہ جیب تراش اور مونچھ تراش میں کچھ بھی فرق نہیں۔دونوں سے ذرا سی چوک ہوجائے تو دونوں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔

برسرِ مطلب اینکہ چور کا شمار ہر زمانے کے معزز لت خوروں میں رہا ہے۔معزر اس لیے کہ آپ اسے لاکھ جوتے ماریں پھر بھی وہ اپنے عہدے سے دستبرداری کا اعلان نہیں کرے گا۔

اب آپ یہ مت کہنا کہ سماج میں معزز چوروں کی منڈی کہاں ہے؟

جواب ظاہر ہے۔سیاسی میدانوں اور مذہبی کھلیانوں میں۔اور اگر انسان مذہبی ملا بھی ہو اور سیاست کار بھی تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ چور ہونے کی تمام خوبیاں اس کے اندر بدرجہ اتم موجود ہیں...

چوروں سے اگر کئی درجہ بلند کوئی مقام ہے تو وہ ہے ڈاکوؤں کا۔کہتے ہیں چور بے رحم ہوتا ہے اور ڈاکو کبھی کبھار رحم بھی کھا لیتا ہے...

انسان کبھی حالات سے مجبور ہوکر ڈاکو بنتا ہے جیسے پھولن دیوی اور کبھی حالات اسے ڈاکو بننے پر مجبور کردیتے ہیں جیسے ڈاکو سلطانہ....

ڈاکو سلطانہ کو انگریزوں نے ڈاکو بننے پر مجبور کیا اور جب وہ انگریزوں سے متنفر ہوا تو اپنے کتے کا نام صاحب بہادر رکھ دیا..... وہ انگریزوں کے غلام وڈیروں اور جاگیرداروں کو لوٹتا اور لوٹی ہوئی دولت کو غریبوں میں تقسیم کردیتا .... اگر کبھی کسی نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو سزا کے طور پر سلطانہ اس کی صرف تین انگلیاں کاٹتا تھا تاکہ وہ جیون بھر اس ذلت کے ساتھ جیے کہ وہ ڈاکو سلطانہ کا سزایافتہ ہے...

ڈاکوؤں اور چوروں کے بیچ ایک گروہ اور ہے جسے دنیا ٹھگ کے نام سے جانتی ہے...

ٹھگی کا پیشہ کب سے وجود میں آیا اس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے کچھ اٹکلیں ہیں لیکن ان اٹکلوں کا کیا اعتبار؟..... البتہ ٹھگوں کی سرپرستی مذہب نے ہمیشہ کی ہے... ان کے مذہبی لگاؤ کو دیکھ کر ایک زمانے میں ہندوستان میں یہ مشہور ہوگیا تھا کہ ان کے اوپر کالی دیوی کا سایہ ہے یا پھر یہ بھوانی کے پرستار ہیں۔جو بھی انھیں چھیڑے گا بھوانی دیوی اسے جلا کر راکھ کردے گی۔

ہندوستان میں مسلمان آئے ان کے کچھ قبائل اسلام لے آئے لیکن ان کی فطرت وہی کی وہی رہی۔کسی بھی زمانے میں سلطان،راجا یا بادشاہ کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان پر ہاتھ ڈال سکے....

کہتے ہیں جلال الدین فیروز شاہ کے زمانے میں ایک بار ایک ہزار سے زائد ٹھگوں کو گرفتار کیا گیا لیکن وہ ان کی پراسراریت سے اس قدر خائف تھا کہ ان میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیا۔بلکہ اس نے حکم دیا کہ انہیں کشتیوں میں سوار کرکے بنگال کے لکھنؤتی علاقے میں بھیج دیا جائے تاکہ وہ ادھر کا رخ نہ کر سکیں....

عرض مختصر یہ ہے کہ ٹھگوں کا گروہ زمانے میں مذہب کی آڑ میں اپنا کام کرتا رہا اور لوگ ان سے مرعوب ہوتے رہے کہ یہ خدائی پراسرار ہیں...

آج بھی وطن عزیز میں موجودہ ٹھگوں پر آپ نگاہ دوڑائیں تو ان میں سے بیشتر ٹھگ آپ کو مذہبی جامے میں ملیں گے۔چاہے وہ مولانا لق لق ہوں یا پنڈت بک بک... سارے ٹھگ مذہب کی آڑ میں اپنی دکان چلا رہے ہیں۔ایک اپنے آپ کو اللہ کا بھگت کہتا ہے تو دوسرا رام کا بھگت....

بس ضرورت ہے کہ ہم ان ٹھگوں کو پہچانیں۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

ا
ام ھشام
24 جنوری، 2019
"پڑھ
ر
ریاض مبارک
23 جنوری، 2019
آپ نے اپنی اس تحریر میں ٹھگوں کی سرپرستی میں مذہب کا ہاتھ دکھا کر سنسنی پیدا کردی ہے! دراصل ٹھگوں کی سرپرستی مذہب نے نہیں کی بلکہ ان ٹھگوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوحوں کو یرغمال بنایا اور لوٹا ہے۔ ٹھگ چاہے کسی دیوتا کا اوتار ہو یا کسی ولی کا پرستار وہ مذہب کو ڈھال بنا کر اپنا گورکھ دھندا چلاتا ہے اور مذہب کے کمزور لوگوں کو آسان سا نشانہ بناتا ہے۔ مجھے لگتا ہے آپ سے سہو ہوگیا ورنہ آپ کو تکلیف ٹھگوں سے ہے مذہب سے نہیں! مذہب نے تو لوگوں کو ٹھگوں کے جال سے نکالا ہے لیکن ٹھگوں نے اس جال کو مزید خوشنما بنایا اور کمزور مومنوں کو ٹریپ کرکے خوب لوٹا۔ ان ٹھگوں سے تو بس اللہ ہی بچائے!!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

چور، ڈاکو اور ٹھگ - دی فری لانسر | دی فری لانسر