ہے نفرت چار سو ایسی محبت بد دلی ٹھہری
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہے نفرت چار سو ایسی محبت بد دلی ٹھہری
میں تنہا ہوں مری الفت ہی میری خود سری ٹھہری
نہیں ہے شوق مجھ کو روز مرنے اور جینے کا
کروں کیا جب مری ہی موت میری زندگی ٹھہری
وہ اہلِ جبر تھے مجھ کو جلانا ان کی خوبی تھی
میں بے کس تھا اڑی جو راکھ میری سرکشی ٹھہری
دیا کیوں مجھ کو حکمِ قم بتادے اے مسیحِ جاں
قیام و زندگی کیسی جو تیری بندگی ٹھہری
نہ چھیڑو ذکر مجنوں کا نہ ہی فرہاد کا یارو
جنوں کیسا وفا کیسی جو ان کی پیروی ٹھہری
تھے ان کے ہاتھ میں پتھر جو میرے ہی صنم کے تھے
جنوں کی راہ میں پہلی ہی منزل خود کشی ٹھہری
لگا کر میرے ہونٹوں سے پیالہ چھین لیتا ہے
مری تشنہ لبی ساقی کی میرے دل لگی ٹھہری
سفر کرتے ہوئے چھوڑا تھا جس کو قیر گوں کہہ کر
وہی رہ شمسؔ کے منزل کدے کی روشنی ٹھہری
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





