جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

راستے کہتے ہیں، گزر تو سہی

کلام: عبدالکریم شاد8 فروری، 20191,434قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
راستے کہتے ہیں، گزر تو سہی
مرحلے کہتے ہیں، ٹھہر تو سہی
رفعتیں خود ترے قدم لیں گی
زینۂ ذات سے اتر تو سہی
میرے ہونٹوں کی خامشی پہ نہ جا
میری آنکھوں سے بات کر تو سہی
دیکھ تو کتنا خوب صورت ہے
آئینے میں کبھی سنور تو سہی
چن کے رکھے گی تجھ کو یہ دنیا
موتیوں کی طرح بکھر تو سہی
تجھ کو دیدار ہو خدا کا نصیب
اے رخ زندگی! نکھر تو سہی
اس کا دل تو ضرور پگھلے گا
اپنی آنکھوں میں اشک بھر تو سہی
ہم سفر کا پتا چلے گا تجھے
راہ حق سے کبھی گزر تو سہی
تجھ کو پلکوں پہ سب بٹھائیں گے
آنسوؤں جیسا کام کر تو سہی
تجھ میں خود ہی نکھار آئے گا
زندگی! آئینے سے ڈر تو سہی
یاد رکھے گی تجھ کو دنیا شاد!
تو شہیدوں کی موت مر تو سہی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

ع
عبدالکریم شاد
8 فروری، 2019
شکریہ کاشف بھائی
K
Kashif Shakeel
8 فروری، 2019
واہ واہ بہت خوب محترم شاد صاحب

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

راستے کہتے ہیں، گزر تو سہی - دی فری لانسر | دی فری لانسر