غیض وغضب،
صفت غضب کی وجہ سے دو قریبی رشتہ داروں کے مابین بے تحاشا ناچاکی اور انارکی پیدا ہوجاتی ہے،
غیض وغضب کا نبوی علاج:
1۔نبی کریم ﷺ کی وصیت کی حفاظت کرنا:
نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ: أَوْصِنِيْ،
ترجمہ: ”ایک آدمی نے نبی کریمﷺ سے نصیحت طلب کی تو آپ ﷺنے فرمایا: تم غصہ مت کرو،
2۔استعاذہ کا ورد کرنا:
نبی کریم ﷺکا فرمان ہے:
”سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ قَالَ: اِسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ،
ترجمہ: ”سلیمان بن صرد کوفی نے عرض کیا کہ نبی کریمﷺکے پاس دو شخص آپس میں گالی گلوج کرنے لگے اور ہم لوگ وہیں بیٹھے ہوئے تھے،
3۔سکوت اختیار کرنا:
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
”وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ“.
(مسند أحمد،
ترجمہ: ”جب تم میں سے کوئی غصہ ہو تو چاہیے کہ وہ خاموش ہوجائے“۔
4۔اطمینان وسکون:
نبی کریم ﷺکا فرمان ہے:
”إِذَا غَضِبَ أَحُدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ،
ترجمہ: ”جب تم میں سے کوئی غصہ ہوجائے اس حال میں کہ وہ کھڑا ہو تو چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے اور اگر غصہ زائل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے“۔
مذکورہ بالا احادیث سے مستخرج مسائل:
1۔غصہ اور طیش کے نقصانات اور خطرناکیوں کے پیش نظر نبی کریمﷺنے اس سے اجتناب اور پرہیز کرنے کی نہایت ہی پر زور تاکید فرمائی ہے۔
2۔اساطین علم وفن سے وقتا فوقتا ناصحانہ کلمات طلب کرنے چاہیے تاکہ حالات حاضرہ کی روشنی میں رہنما اصول اور قابل قدر توجیہات سے آگہی ہوسکے۔
3۔حالت غضبناکی میں انسان بڑے چھوٹے کی تمیز بھول جاتا ہے،
4۔انسان جب غایت درجہ غصہ کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کے سبب چہرے کی رونق سرخی اور عرق ریزی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
5۔غیظ وطیش اور اشتعال انگیزی کا شاہکار مداوا ”أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ“ کا ورد کرنا ہے جو کہ نبوی تجویز ہے۔
6۔جب کوئی حالت طیش میں ہو تو وہاں موجود لوگوں کی اہم ترین ذمہ داری اس کے غصہ اور خون کی تپش کو ٹھنڈا کرنا ہے۔
7۔خاموشی ایک بہترین صفت ہے جو غیظ و غضب دور کرنے کا ذریعہ ہے۔
8۔جب کوئی کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ ہو تو اسے بیٹھ جانا چاہیے۔اگر اس صورت میں بھی کنٹرول نہ ہو تو لیٹ جانا چاہیے۔
غصہ پر قابو پانے کی فضیلت:
امام ابوداود رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”سنن أبی داود“ کے باب ”مَنْ کَظَمَ غَیْظًا“ میں مذکورہ صفت غضب پر کنٹرول رکھنے والے کی فضیلت سے متعلق اللہ کے آخری نبی جناب محمد ﷺکی کچھ احادیث درج کی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:۔
نبی کریم ﷺکا فرمان ہے:
”مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ،
ترجمہ: ”جس نے غصہ پی لیا اس حال میں کہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالى بروز قیامت تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے اپنے لیے انتخاب کرلے“۔
اسی طرح نبی کریمﷺکا فرمان گرامی ہے:
”مَاتَعُدُّونَ الصُّرْعَةَ فِيكُمْ؟“ قَالُوا: اَلَّذِي لَايَصْرَعُهُ الرِّجَالُ. قَالَ:”لَا،
ترجمہ: ”تم اپنے میں سے پہلوان کسے شمار کروگے؟ (نبی کریمﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا) تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جسے کوئی بھی پچھاڑ نہ پائے،
احادیث بالا سے مستنبط مسائل:
1۔غصہ پر قابو پانے کی بہت بڑی فضیلت ہے،
2۔اللہ کے نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام کی ذہن سازی کے لیے ان سے سوال کرتے تھے تاکہ بامراد باتیں ذہن ودماغ میں راسخ ہوجائیں۔
3۔نبی کریم ﷺنے پہلوان اور طاقتور اس کو کہا ہے جو اپنے غصہ پر قابو رکھتا ہو۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن و سنت کے انمول ارشادات کی اتباع کرنے کی توفیق ارزانی عطا فرمائے۔آمین





