تم بھی آباد ہر مکاں آباد
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
"تم بھی آباد ہر مکاں آباد
میں نہیں ہو سکا یہاں آباد”
اِنس کی زندگی زمیں سے ہے
اور مرنے پہ آسماں آباد
ہر گلی، راستہ، معطر ہے
تم ہوئے ہو جہاں جہاں آباد
ایک عورت نے صبر و ہمت سے
کر دیا اجڑا سا مکاں آباد
رات پھر چاند چھپ گیا فورا
رخِ جاناں ہوا جہاں، آباد
تم کو سورج سے بھی گلہ ہے مگر
وہ نہ نکلے تو تم کہاں آباد؟
ہے مسلسل دعا یہ اسعد کی
دشمنِ جاں بھی مہرباں آباد
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





