عربی تحریر: ڈاکٹر عبد الرزاق البدر
ترجمہ: رفیق احمد رئیس سلفی
ایک حددرجہ قبیح اور بری عادت جس کی مذمت قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کی ہے،
وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (1)
"اور حد سے مت نکلو۔بے شک اللہ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا"۔
بزرگ وبرتر اللہ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ حد سے تجاوز کرنے والے جہنم میں جائیں گے چنانچہ ارشاد ہے:
وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحٰبُ النَّارِ (2)
"اور حد سے گزر جانے والے ہی(یقیناً) اہل دوزخ ہیں"۔
اللہ عزوجل نے یہ بھی بتادیا ہے کہ حد سے تجاوز کرنا اور بے اعتدالی کی زندگی گزارنا اہل وعیال کی بربادی کا سبب اور دنیا وآخرت میں عذاب کا موجب ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے:
ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَأَنْجَيْنٰهُمْ وَمَنْ نَشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ (3)
"پھر ہم نے ان سے کیے ہوئے سب وعدے سچے کیے،
اسی حقیقت کو ایک دوسرے مقام پر اس طرح واضح کیا گیا ہے:
وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَاتَدْمِيرًا (4)
"اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کرلیتے ہیں تو وہاں کے خوش حال لوگوں کو (کچھ)حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب کی )بات ثابت ہوجاتی ہے،
اللہ عزوجل نے یہ بھی بتایا ہے کہ حد سے تجاوز کرنے سے برائیوں پر ابھارنے والےنفس کو زینت حاصل ہوتی ہے،
كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (5)
"ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لیے اسی طرح خوش نما بنادیا گیا ہے"۔
حد سے تجاوز کرنے والا ہدایت ربانی سے محروم رہتا ہے اور اسے اللہ کی طرف سے کسی کار خیر کی توفیق نہیں ملتی۔اللہ کا ارشاد ہے:
إِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ (6)
"اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزرجانے والے اور جھوٹے ہوں"۔
ایک دوسری جگہ اللہ فرماتا ہے:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ (7)
"اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا شک وشبہ کرنے والا ہو"۔
مختصر یہ کہ اس مفہوم کی آیات بہت سی ہیں۔
اسراف،
سب سے خطرناک اور بدترین اسراف اللہ رب العالمین کا انکار کرنا،
وَكَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِآيٰتِ رَبِّهِ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقٰى (8)
"ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزرجائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اور بے شک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے والا ہے"۔
اسی طرح قتل میں بھی اسراف ہوتا ہے یعنی ایسے شخص کو قتل کردیا جائے جو قاتل نہ ہویا قاتل کے متعلقین پر ظلم وزیادتی کی جائے یا حد سے تجاوز کرتے ہوئےخود قاتل کا مثلہ کیا جائے،
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا (9)
"اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے،
فحش کام کرنا اور ذلیل ورذیل حرکات کا مرتکب ہونا بھی اسراف ہے۔اسی لیے لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے اور انھیں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا:
إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ (10)
"تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر،
اللہ عزوجل نے قوم لوط پر عذاب نازل کیے جانے کے سلسلے میں فرمایا:
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُجْرِمِينَ لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ طِينٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ (11)
"(سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے)کہا:اللہ کے بھیجے ہوئے(فرشتو)تمھارا کیا مقصد ہے؟انھوں نے جواب دیا:ہم گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔تاکہ ہم ان پر مٹی کے کنکر برسائیں جو تیرے رب کی طرف سے نشان زدہ ہیں،
مختصر یہ کہ ہر قسم کے گناہوں،
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (12)
"اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔بے شک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا"۔
امام احمد رحمہ اللہ اپنی مسند میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی حدیث نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا فِي غَيْرِ مَخِيلَةٍ وَلَا سَرَفٍ۔(13)
"جو چاہو کھاؤ پیو،
امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے تعلیقاً روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا:
كُلْ مَا شِئْتَ وَالبَسْ مَا شِئْتَ مَا أَخْطَأَتْكَ اثْنَتَانِ: سَرَفٌ أَوْ مَخِيلَةٌ۔(14)
"بس دو غلطیوں تکبر اور اسراف کا ارتکاب نہ کرو،
مال ودولت،
لہذا سود کھانا،
لباس کے معاملے میں بہت سے لوگ کس قدر اسراف میں مبتلا ہیں،
اسراف سماجی تقریبات خاص طور پر نکاح اور ولیمے کی تقریبات میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ان تقریبات میں اسراف کی کیسی کیسی قبیح شکلیں نظر آتی ہیں،
مختصر یہ کہ اسراف کا دائرہ بہت وسیع ہے اور زندگی کے کئی ایک شعبے اس سے متاثر ہیں۔اگر ہماری دینی بصیرت زندہ ہے اور ہم غور وفکر کی صلاحیت سے محروم نہیں ہیں تو اسراف کی تمام شکلوں کا بآسانی ادراک کرسکتے ہیں اور اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ہمیں اللہ کا تقوی اختیار کرنا چاہئے جو ہمارا بزرگ وبرتر رب ہے،
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلٰى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهٗ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (15)
" (میری جانب سے)کہہ دو کہ اے میرے بندو!جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ،
قرآن کریم میں اللہ نے اپنے بندوں کو جن دعاؤں کی تعلیم دی ہے،
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِينَ (16)
"اے پروردگار!ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے،
صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے کہ ہمارے نبی ﷺ اپنی نماز میں تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
أللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ،
"اے اللہ!میرے ان گناہوں کو بھی بخش دے جو میں نے پہلے کیے ہیں اور ان کو بھی جو بعد میں کریں گے،
اللہ ہم سب کی خطاؤں سے درگزر فرمائے،
حواشی
(1) الأعراف:/731
(2) غافر: 43/40
(3) الأنبياء 9/21
(4) الإسراء:16/17
(5) يونس:/1012
(6) غافر:/4028
(7) غافر:/4034
(8) طه: 20 /127
(9) الإسراء:17/33
(10)الأعراف:/781
(11)الذاريات:51/31-34 .
(12)الأعراف:/731
(13)مسند احمد178/10۔رقم الحدیث:6695،
(14)صحیح البخاری،
(15) الزمر:/3953
(16) آل عمران:147/3
(17) صحیح مسلم،





