شفق کے رنگین سایے جب لہرانے شروع ہوتے ہیں تو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھنے میں عجیب لطف و سرور حاصل ہوتا ہے۔شام ڈھلے ان سیڑھیوں پر جب تنہائی سرگوشی کرتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقت کے رباب پر کوئی شوخ،چنچل اور البیلی سی حسینہ کچھ گنگنا رہی ہے،جس کے ساز و آہنگ سے پیدا ہونے والی نغمگی کسی بہتے آبشار سے اٹھنے والی ہلکی سریلی آواز کی مانند وجدانی کیفیت طاری کررہی ہے۔بے خودی کے عالم میں گردن اونچی کروں تو مینا بازار کی سج دھج مجھے میرا حسین اور رنگین ماضی یاد دلایے ہے،رخ بدلوں تو اردو مارکیٹ کی تنگ مگر جلتی جگمگاتی گلیاں اور ان میں ایک دوسرے سے بات کرتی بیوہ حویلیاں اس کسمپرسی کے عالم میں بھی تمام تر "حشر سامانیوں" کے ساتھ شرماتی دلہن سی دکھتی ہیں،جو گھونگھٹ اٹھائے جانے کی منتظر ہو۔
آہ...!!! کیسے حسین خواب اور کیسی پیاری یادیں ہیں جو بھولی بسری کہانیاں بن گئیں۔کتنی چہل پہل ہے۔کبھی میر گنگناتے ہویے آرہے ہیں تو کبھی مومن جھومتے ہویے،کبھی غالب تو کبھی ذوق،یہ لیجیے ابھی داغ گیے کیا،کہ ڈپٹی نذیر کے ساتھ محمد حسین آزاد،حالی اور مصور غم راشد الخیری بھی آپہنچے۔درختوں کی پتیوں سے چھن کر آنے والی روشنی آہستہ آہستہ مدھم ہورہی ہے،سورج کی شعائیں کسی جانکنی کی حالت میں رہتے شخص کی طرح آخری امید اور سہارے کے لیے اشارہ کررہی ہیں___یہ لیجیے شب کی سیاہی نے بھی دستک دے دی___ اتنے میں مسجد کے مینارے سے اللہ اکبر کی مقدس صدائیں گونجنے لگتی ہیں۔ہنگاموں سے معمور دل کی بستی پل بھر کے لیے خاموشی کی آغوش میں سر رکھ لیتی ہے،نماز ختم ہوتے ہی،مختصر سی منطق میں سلجھی،لغت کے بکھیڑوں میں الجھی،لذت شوق سے بے نصیب تقریر ہوتی ہے۔اللہ اللہ کیسے بھلے دن تھے،جب خاندان ولی اللہی کے چشم و چراغ انہی مسجدوں کے سایہ میں سماں باندھتے،انس و جن جوق در جوق آتے،شیخ الکل فی الکل کے دروس ایمانی حرارت اور تازگی پیدا کرتے،جس سے ہند و بیرون ہند کے تشنگان علومِ حدیث سیراب ہوتے۔یہ متبرک صورتیں "جن پر ادب موتی نچھاور کرتا تھا اور جو کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبانیں لے کر پیدا ہویے تھے،پیوند خاک ہوگیے" البتہ اس قافلے کے دو متوالے ایمانی سوزوساز اور عشق کی گرمیوں کو سینے میں دبایے بالاکوٹ کے برفیلے کہساروں میں لیٹے ہوئے ہیں:
آگ تھے ابتدایے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
خیر مسجد سے نکلتے ہویے مرزا اور دانی یاد آتے ہیں کہ وہ باہر کسی "آزردہ" کا انتظار کررہے ہوں گے۔ادھر آزردہ ابھرتے سورج کی طرح بتدریج طلوع ہورہے ہیں،ایک طرف ان کا علمی جاہ و جلال اور دوسری طرف ان کی جسمانی ہئیت___ انکار و اقرار کی فکر میں مرزا اور دانی کی دھڑکنیں تیز ہوتی جارہی ہیں_ آگے چراغ لیے خادم اور پیچھے پیچھے آزردہ...چلیں یہاں بھی حیلہ وحجت کی سنتیں ادا ہوگئیں،علم تڑپ ہے،جذبہ ہے،جنون ہے،جس نے عرب کے بادیہ نشینوں،یورپ کے کلیساؤں اور افریقہ کے تپتے صحراؤں کو ادراک و شعور بخشا... چلیں ابھی تو شام ڈھل چکی،رات سو چکی،کل فتحپوری چلتے ہیں،وہاں کسی دوکان پر ڈپٹی صاحب سود سمیت حساب و کتاب کرتے ہوں گے،ان سے بات کریں گے۔
جی ہاں_چلیں_ کیوں نہیں بالکل
جامع مسجد سے نکلتے ہی قمقموں سے سجی دھجی لال قلعہ کی بلند فصیلیں راگ الاپتی ہیں،افسانے چھیڑتی ہیں،قصہ درد سناتی ہیں،کہ کسی زمانے میں شاہ جہاں آتے تھے،صفیں لگتی تھیں،لوگ آداب بجا لاتے تھے۔لیل و نہار نے کروٹیں لیں،اورنگ زیب آیے لیکن پھر بھی محفلیں جمتی رہیں۔اسی طرح کچھ ماہ وسال گردش کرتے ہیں،بہادر شاہ ظفر آتے ہیں۔وہی رونق،وہی چہل پہل... مشاعرے ہوتے ہیں،ادبی چیقلش پروان چڑھتی ہے،غالب اور ذوق کی ٹھنتی ہے،مشعل تو غالب کے سامنے ہے،کچھ سادے کاغذات لیے پڑھے جارہے ہیں کہ "شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے"۔شہزادے واہ واہ کررہے ہیں اور ذوق لال پیلے ہورہے ہیں۔حضور ظل سبحانی استاذ ذوق کی لاج بچانے کے تئیں فکر مند ہیں،بے قراری کے عالم میں کہیں تو کیسے اور کس کس سے؟؟؟ ایک طرف کتاب سخن اور دوسری طرف استاذ فن:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوایے سروش ہے
ذوق پڑھتے ہیں
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات
ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے
قلعہ معلی میں اردو کے چراغ روشن ہیں،جن کی لو تیز تر تیز ہو رہی ہے... اردو کے ماحول میں محبت و الفت کے ترانے گایے جارہے ہیں،ہجر ووصال کے قصے بیان ہورہے ہیں،اور ان چاندنی راتوں میں قلعہ کے تالاب میں چاند کے عکس کو دیکھ کر شہزدایاں خواب بن رہی ہیں کہ اچانک مہیب اور خوفناک سایے پھیلنے لگتے ہیں۔شمعِ روشن بجھ جاتی ہے اور بزم سخن ماتم میں لگ جاتی ہے،پلک جھپکتے تاریکی اپنے آغوش میں لے لیتی ہے۔کچھ دلدوز چیخیں سنائی دیتی ہیں،ایسا لگتا ہے کہ کسی صحرا میں کچھ بھٹکے فرشتے فریاد کر رہے ہیں،اور صدائیں باز گشت ثابت ہورہی ہیں،جو دھیرے دھیرے دور ہوکر ختم ہوجاتی ہیں۔موہوم خیالوں کے سلسلوں پر خون کے دھبے سے لگنے لگتے ہیں،آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور تفکر کی گہری لکیر کھنچنے لگتی ہے___ یہ انقلاب ہے یا بغاوت؟؟؟ میرے لیے تو بس ایک معمہ ہے،صرف اور صرف معمہ جس کی دبیز تہوں میں ایسے ایسے راز ہایے یاس وحسرت پنہاں ہیں کہ جنھیں لکھنے میں خود مورخ عار محسوس کرے ہے:
نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون کے آنسو جہان آباد پر
جھکتی نظریں یک بیک ٹہر سی جاتی ہیں___ بے ساختہ زبان بول پڑتی ہے کہ ارے یہ تو آزاد سویے ہیں،ابھی بلاؤں گا تو اٹھ جائیں گے۔لیکن دل کی تھپکی تو بس وقتی ہی ہوتی ہے نا... عنانِ خیال پھر تصورات کی وادیوں میں لے جاتا ہے،ارے یہ تو ابوالکلام ہیں،عطاء اللہ شاہ بخاری ہیں،حکیم اجمل خان ہیں،حفظ الرحمن سیوہاروی ہیں،سعید اکبر آبادی ہیں،جوش ہیں،جگر ہیں،جون ہیں،جذبی ہیں__آوارہ گنگناتے مجاز بھی آتے ہی ہوں گے،پر یہ یہاں کیا کررہے ہیں؟؟ ارے نہیں!! یہ تو روایتوں کے امین ہیں... اوہ اچھا اچھا... عطاء اللہ شاہ بخاری تقریر کرتے ہیں،لوگ آہ شاہ جی اور واہ شاہ جی کرتے ہیں۔انگریز وائسرے کہتا ہے کہ نہرو مجھے تو اس کی تقریر سمجھ نہیں آرہی،لیکن اشارے وغیرہ جس انداز سے کررہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس قوم میں ایسے خطیب ہوں اسے ہم زیادہ دنوں تک محکوم نہیں رکھ سکتے۔بات سچ ہوئی،جب خواب شرمندہ تعبیر ہوا تو سامنے جمنا میں وضو کرکے اسی جامع مسجد میں صفیں باندھنے والے فرار ہونے لگتے ہیں۔دو قومی نظریہ کا آڑ لے کر مفاد پرستی کی دکانیں چلنی شروع ہوتی ہیں،ایک مخلص،مشفق اور وقت کا سب سے بڑا مسلمان انہی سیڑھیوں سے آواز لگاتا ہے۔جذبات کی رو میں بہنے والے اور کچھ "مصلحت پسندوں" کی جماعت کو نہایت ہی درد انگیز لہجے میں میرے بھائیو__!!! کہہ کر پکارتا ہے،انھیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے،اور انھیں ان کا روشن ماضی یاد دلاتا ہے،حال سے آگاہ کرتا اور مستقبل کی امیدیں جگاتا ہے کہ دیکھو مسجدوں میں گونجنے والی اللہ اکبر کی صدائیں تمھیں آواز دیتی ہیں کہ کہاں جارہے ہو؟؟ یہ درودیوار تمھیں چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ تم انھیں کن کے سہارے چھوڑے جارہے ہو،یہ ماضی کے اجلے نقش ونگار جو تمھارے ہی قافلے کی یادگار ہیں... انھیں مت چھوڑو،ان کے وارث بن کر رہو۔تمھاری آواز کے بغیر اس ملک کے تقدیری فیصلے ادھورے رہیں گے۔پر یہ کہاں سننے والے تھے۔بلکہ پلٹ کر طعنے کس رہے تھے،گالیوں کے شگوفے پیش کررہے تھے۔
بقول ذاکر حسین کہ وہ اردو کا سب سے بڑا ادیب تھا لیکن اسے اردو کی کوئی ایسی گالی نہیں تھی جو نہ دی گئی ہو۔
رات کا آخری پہر ہے۔اسی جامع مسجد میں کبھی تہجد پڑھنے والوں کی جماعت ہوا کرتی تھی،شب کی آہیں اور سحر کے نالے گونجا کرتے تھے،پر آج رات کی سیاہ چادر پر گہری خاموشی چھائی ہوئی ہے...تارے چمک چمک کر تھک گیے،صبح کا ستارہ نمودار ہوا اور ابھی شب کے مسافروں کو راہیں بتلا کر یہ بھی رخصت ہوجایے گا___میں اکیلے بچوں گا اور فضاؤں میں پھرتی ہوئی کچھ خوفناک آوارہ آوازیں جو صرف محسوس کی جاسکتی ہیں۔دور قلعہ معلی کی فصیل سے پھیلی پھیلی سی روشنی آرہی ہے۔چلیں کچھ تو سہارا ہے لیکن سہاروں کی ضرورت تو اب رہی نہیں:
وہ خواب تھا جو بکھر گیا کہ خیال تھا جو ملا نہیں
اور
ٹوٹے سپنے بکھرے ارماں کیا ہوا حاصل
بے بسی کا چھایا عالم کیا کرے یہ دل
صدیوں تک دلوں کی دھڑکنوں کا محور رہنے والی دلی میرے ہی سامنے اجڑتے اجڑتے اجڑ جاتی ہے۔بس یہی جامع مسجد کی دیواریں اور سیڑھیاں بچتی ہیں،جن کے کندھے پر سر رکھتا ہوں،اور بیٹھ کر کچھ دیر آرام کرتا ہوں،سامنے آزاد کی قبر جس پر عقیدت کے چند آنسو نچھاور کرتا ہوں:
مرثیہ تیری تباہی کا میری قسمت میں تھا
یہ تڑپنا اور تڑپانا میری قسمت میں تھا
اسی عالم میں صبح ہوتی ہے اور مؤذن کی آواز آتی ہے الصلوة خیر من النوم... اے مئے غفلت کے سرمستو!!! بیدار ہوجاؤ... بہت دیر ہوچکی،اب سے اپنے روٹھے ہوئے خدا کو منالو کہ وہ بہت مہربان ہے،وہ تمھاری کھوئی ہوئی عظمت تمھیں واپس لوٹانے کے لیے تیار ہے بشرط یہ کہ تم نیند سے جاگ جاؤ اور اس کے بتلائے ہویے راستوں پر چل پڑو۔
نرم وخنک بہتی ہواؤں کے درمیان جامع مسجد کے حوض میں لہراتے عکس کو دیکھ رہے ہیں جو آنکھوں میں آنسوؤں کی وجہ سے دھندھلے دھندلے سے دکھائی پڑرہے ہیں،چہرے پر پانی چھڑکتے ہیں،وضو کی تکمیل کے بعد نماز میں شامل ہوتے ہیں۔تلاوت ہوتی "الم یان للذین آمنو ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ" کیا مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے خوف سے لرز جائیں۔
یہ صبح کی روشنی اور نئے دن کا آغاز ہے... اللہ کرے یہ امیدوں،آرزوؤں اور تمناؤں کی صبح ہو،جس پر کبھی مایوسیوں کی شام نہ آئے... کبھی بھی نہ آئے___اور مجھے یقین ہے اور کامل یقین ہے کہ وہ یہی صبح ہے۔
بس
تیری اجڑی ہوئی تقدیر سنور سکتی ہے
رات پیمانہ خورشید میں ڈھل سکتی یے
مگر اے دوست تجھے خود کو بدلنا ہوگا
پا برہنہ رہِ پر خوار پہ چلنا ہوگا
دیکھیے ساغر بھی یاد آگیے... جنھوں نے تقسیم کے بعد لاہور کی سنسان سڑکوں پر بیٹھ کر انہی گلیوں،کوچوں اور حویلیوں کو یاد کرتے ہویے کہا تھا:
آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے اجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا
جب کبھی گردشِ تقدیر نے گھیرا ہے ہمیں
گیسوئے یار کی الجھن کو بہت یاد کیا
شمع کی جوت پہ جلتے ہوئے پروانوں نے
اک ترے شعلہ دامن کو بہت یاد کیا
جس کے ماتھے پہ نئی صبح کا جھومر ہوگا
ہم نے اس وقت کی دلہن کو بہت یاد کیا
آج ٹوٹے ہوئے سپنوں کی بہت یاد آئی
آج بیتے ہوئے ساون کو بہت یاد کیا
ہم سرِ طور بھی مایوس تجلی ہی رہے
اس درِ یار کی چلمن کو بہت یاد کیا
مطمئن ہو ہی گئے دام و قفس میں ساغر
ہم اسیروں نے نشیمن کو بہت یاد کیا
آج کی صحبت ختم ہوئی اب۔باقی باقی