جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اپنے اجڑے ہویے گلشن کو بہت یاد کیا

تحریر: خبیب حسن مبارکپوری18 فروری، 20191,690قارئین26 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

شفق کے رنگین سایے جب لہرانے شروع ہوتے ہیں تو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھنے میں عجیب لطف و سرور حاصل ہوتا ہے۔شام ڈھلے ان سیڑھیوں پر جب تنہائی سرگوشی کرتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقت کے رباب پر کوئی شوخ،چنچل اور البیلی سی حسینہ کچھ گنگنا رہی ہے،جس کے ساز و آہنگ سے پیدا ہونے والی نغمگی کسی بہتے آبشار سے اٹھنے والی ہلکی سریلی آواز کی مانند وجدانی کیفیت طاری کررہی ہے۔بے خودی کے عالم میں گردن اونچی کروں تو مینا بازار کی سج دھج مجھے میرا حسین اور رنگین ماضی یاد دلایے ہے،رخ بدلوں تو اردو مارکیٹ کی تنگ مگر جلتی جگمگاتی گلیاں اور ان میں ایک دوسرے سے بات کرتی بیوہ حویلیاں اس کسمپرسی کے عالم میں بھی تمام تر "حشر سامانیوں" کے ساتھ شرماتی دلہن سی دکھتی ہیں،جو گھونگھٹ اٹھائے جانے کی منتظر ہو۔

آہ...!!! کیسے حسین خواب اور کیسی پیاری یادیں ہیں جو بھولی بسری کہانیاں بن گئیں۔کتنی چہل پہل ہے۔کبھی میر گنگناتے ہویے آرہے ہیں تو کبھی مومن جھومتے ہویے،کبھی غالب تو کبھی ذوق،یہ لیجیے ابھی داغ گیے کیا،کہ ڈپٹی نذیر کے ساتھ محمد حسین آزاد،حالی اور مصور غم راشد الخیری بھی آپہنچے۔درختوں کی پتیوں سے چھن کر آنے والی روشنی آہستہ آہستہ مدھم ہورہی ہے،سورج کی شعائیں کسی جانکنی کی حالت میں رہتے شخص کی طرح آخری امید اور سہارے کے لیے اشارہ کررہی ہیں___یہ لیجیے شب کی سیاہی نے بھی دستک دے دی___ اتنے میں مسجد کے مینارے سے اللہ اکبر کی مقدس صدائیں گونجنے لگتی ہیں۔ہنگاموں سے معمور دل کی بستی پل بھر کے لیے خاموشی کی آغوش میں سر رکھ لیتی ہے،نماز ختم ہوتے ہی،مختصر سی منطق میں سلجھی،لغت کے بکھیڑوں میں الجھی،لذت شوق سے بے نصیب تقریر ہوتی ہے۔اللہ اللہ کیسے بھلے دن تھے،جب خاندان ولی اللہی کے چشم و چراغ انہی مسجدوں کے سایہ میں سماں باندھتے،انس و جن جوق در جوق آتے،شیخ الکل فی الکل کے دروس ایمانی حرارت اور تازگی پیدا کرتے،جس سے ہند و بیرون ہند کے تشنگان علومِ حدیث سیراب ہوتے۔یہ متبرک صورتیں "جن پر ادب موتی نچھاور کرتا تھا اور جو کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبانیں لے کر پیدا ہویے تھے،پیوند خاک ہوگیے" البتہ اس قافلے کے دو متوالے ایمانی سوزوساز اور عشق کی گرمیوں کو سینے میں دبایے بالاکوٹ کے برفیلے کہساروں میں لیٹے ہوئے ہیں:

آگ تھے ابتدایے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

خیر مسجد سے نکلتے ہویے مرزا اور دانی یاد آتے ہیں کہ وہ باہر کسی "آزردہ" کا انتظار کررہے ہوں گے۔ادھر آزردہ ابھرتے سورج کی طرح بتدریج طلوع ہورہے ہیں،ایک طرف ان کا علمی جاہ و جلال اور دوسری طرف ان کی جسمانی ہئیت___ انکار و اقرار کی فکر میں مرزا اور دانی کی دھڑکنیں تیز ہوتی جارہی ہیں_ آگے چراغ لیے خادم اور پیچھے پیچھے آزردہ...چلیں یہاں بھی حیلہ وحجت کی سنتیں ادا ہوگئیں،علم تڑپ ہے،جذبہ ہے،جنون ہے،جس نے عرب کے بادیہ نشینوں،یورپ کے کلیساؤں اور افریقہ کے تپتے صحراؤں کو ادراک و شعور بخشا... چلیں ابھی تو شام ڈھل چکی،رات سو چکی،کل فتحپوری چلتے ہیں،وہاں کسی دوکان پر ڈپٹی صاحب سود سمیت حساب و کتاب کرتے ہوں گے،ان سے بات کریں گے۔

جی ہاں_چلیں_ کیوں نہیں بالکل

جامع مسجد سے نکلتے ہی قمقموں سے سجی دھجی لال قلعہ کی بلند فصیلیں راگ الاپتی ہیں،افسانے چھیڑتی ہیں،قصہ درد سناتی ہیں،کہ کسی زمانے میں شاہ جہاں آتے تھے،صفیں لگتی تھیں،لوگ آداب بجا لاتے تھے۔لیل و نہار نے کروٹیں لیں،اورنگ زیب آیے لیکن پھر بھی محفلیں جمتی رہیں۔اسی طرح کچھ ماہ وسال گردش کرتے ہیں،بہادر شاہ ظفر آتے ہیں۔وہی رونق،وہی چہل پہل... مشاعرے ہوتے ہیں،ادبی چیقلش پروان چڑھتی ہے،غالب اور ذوق کی ٹھنتی ہے،مشعل تو غالب کے سامنے ہے،کچھ سادے کاغذات لیے پڑھے جارہے ہیں کہ "شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے"۔شہزادے واہ واہ کررہے ہیں اور ذوق لال پیلے ہورہے ہیں۔حضور ظل سبحانی استاذ ذوق کی لاج بچانے کے تئیں فکر مند ہیں،بے قراری کے عالم میں کہیں تو کیسے اور کس کس سے؟؟؟ ایک طرف کتاب سخن اور دوسری طرف استاذ فن:

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب صریر خامہ نوایے سروش ہے

ذوق پڑھتے ہیں

اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات

ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے

قلعہ معلی میں اردو کے چراغ روشن ہیں،جن کی لو تیز تر تیز ہو رہی ہے... اردو کے ماحول میں محبت و الفت کے ترانے گایے جارہے ہیں،ہجر ووصال کے قصے بیان ہورہے ہیں،اور ان چاندنی راتوں میں قلعہ کے تالاب میں چاند کے عکس کو دیکھ کر شہزدایاں خواب بن رہی ہیں کہ اچانک مہیب اور خوفناک سایے پھیلنے لگتے ہیں۔شمعِ روشن بجھ جاتی ہے اور بزم سخن ماتم میں لگ جاتی ہے،پلک جھپکتے تاریکی اپنے آغوش میں لے لیتی ہے۔کچھ دلدوز چیخیں سنائی دیتی ہیں،ایسا لگتا ہے کہ کسی صحرا میں کچھ بھٹکے فرشتے فریاد کر رہے ہیں،اور صدائیں باز گشت ثابت ہورہی ہیں،جو دھیرے دھیرے دور ہوکر ختم ہوجاتی ہیں۔موہوم خیالوں کے سلسلوں پر خون کے دھبے سے لگنے لگتے ہیں،آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور تفکر کی گہری لکیر کھنچنے لگتی ہے___ یہ انقلاب ہے یا بغاوت؟؟؟ میرے لیے تو بس ایک معمہ ہے،صرف اور صرف معمہ جس کی دبیز تہوں میں ایسے ایسے راز ہایے یاس وحسرت پنہاں ہیں کہ جنھیں لکھنے میں خود مورخ عار محسوس کرے ہے:

نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر

داغ رویا خون کے آنسو جہان آباد پر

جھکتی نظریں یک بیک ٹہر سی جاتی ہیں___ بے ساختہ زبان بول پڑتی ہے کہ ارے یہ تو آزاد سویے ہیں،ابھی بلاؤں گا تو اٹھ جائیں گے۔لیکن دل کی تھپکی تو بس وقتی ہی ہوتی ہے نا... عنانِ خیال پھر تصورات کی وادیوں میں لے جاتا ہے،ارے یہ تو ابوالکلام ہیں،عطاء اللہ شاہ بخاری ہیں،حکیم اجمل خان ہیں،حفظ الرحمن سیوہاروی ہیں،سعید اکبر آبادی ہیں،جوش ہیں،جگر ہیں،جون ہیں،جذبی ہیں__آوارہ گنگناتے مجاز بھی آتے ہی ہوں گے،پر یہ یہاں کیا کررہے ہیں؟؟ ارے نہیں!! یہ تو روایتوں کے امین ہیں... اوہ اچھا اچھا... عطاء اللہ شاہ بخاری تقریر کرتے ہیں،لوگ آہ شاہ جی اور واہ شاہ جی کرتے ہیں۔انگریز وائسرے کہتا ہے کہ نہرو مجھے تو اس کی تقریر سمجھ نہیں آرہی،لیکن اشارے وغیرہ جس انداز سے کررہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس قوم میں ایسے خطیب ہوں اسے ہم زیادہ دنوں تک محکوم نہیں رکھ سکتے۔بات سچ ہوئی،جب خواب شرمندہ تعبیر ہوا تو سامنے جمنا میں وضو کرکے اسی جامع مسجد میں صفیں باندھنے والے فرار ہونے لگتے ہیں۔دو قومی نظریہ کا آڑ لے کر مفاد پرستی کی دکانیں چلنی شروع ہوتی ہیں،ایک مخلص،مشفق اور وقت کا سب سے بڑا مسلمان انہی سیڑھیوں سے آواز لگاتا ہے۔جذبات کی رو میں بہنے والے اور کچھ "مصلحت پسندوں" کی جماعت کو نہایت ہی درد انگیز لہجے میں میرے بھائیو__!!! کہہ کر پکارتا ہے،انھیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے،اور انھیں ان کا روشن ماضی یاد دلاتا ہے،حال سے آگاہ کرتا اور مستقبل کی امیدیں جگاتا ہے کہ دیکھو مسجدوں میں گونجنے والی اللہ اکبر کی صدائیں تمھیں آواز دیتی ہیں کہ کہاں جارہے ہو؟؟ یہ درودیوار تمھیں چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ تم انھیں کن کے سہارے چھوڑے جارہے ہو،یہ ماضی کے اجلے نقش ونگار جو تمھارے ہی قافلے کی یادگار ہیں... انھیں مت چھوڑو،ان کے وارث بن کر رہو۔تمھاری آواز کے بغیر اس ملک کے تقدیری فیصلے ادھورے رہیں گے۔پر یہ کہاں سننے والے تھے۔بلکہ پلٹ کر طعنے کس رہے تھے،گالیوں کے شگوفے پیش کررہے تھے۔

بقول ذاکر حسین کہ وہ اردو کا سب سے بڑا ادیب تھا لیکن اسے اردو کی کوئی ایسی گالی نہیں تھی جو نہ دی گئی ہو۔

رات کا آخری پہر ہے۔اسی جامع مسجد میں کبھی تہجد پڑھنے والوں کی جماعت ہوا کرتی تھی،شب کی آہیں اور سحر کے نالے گونجا کرتے تھے،پر آج رات کی سیاہ چادر پر گہری خاموشی چھائی ہوئی ہے...تارے چمک چمک کر تھک گیے،صبح کا ستارہ نمودار ہوا اور ابھی شب کے مسافروں کو راہیں بتلا کر یہ بھی رخصت ہوجایے گا___میں اکیلے بچوں گا اور فضاؤں میں پھرتی ہوئی کچھ خوفناک آوارہ آوازیں جو صرف محسوس کی جاسکتی ہیں۔دور قلعہ معلی کی فصیل سے پھیلی پھیلی سی روشنی آرہی ہے۔چلیں کچھ تو سہارا ہے لیکن سہاروں کی ضرورت تو اب رہی نہیں:

وہ خواب تھا جو بکھر گیا کہ خیال تھا جو ملا نہیں

اور

ٹوٹے سپنے بکھرے ارماں کیا ہوا حاصل

بے بسی کا چھایا عالم کیا کرے یہ دل

صدیوں تک دلوں کی دھڑکنوں کا محور رہنے والی دلی میرے ہی سامنے اجڑتے اجڑتے اجڑ جاتی ہے۔بس یہی جامع مسجد کی دیواریں اور سیڑھیاں بچتی ہیں،جن کے کندھے پر سر رکھتا ہوں،اور بیٹھ کر کچھ دیر آرام کرتا ہوں،سامنے آزاد کی قبر جس پر عقیدت کے چند آنسو نچھاور کرتا ہوں:

مرثیہ تیری تباہی کا میری قسمت میں تھا

یہ تڑپنا اور تڑپانا میری قسمت میں تھا

اسی عالم میں صبح ہوتی ہے اور مؤذن کی آواز آتی ہے الصلوة خیر من النوم... اے مئے غفلت کے سرمستو!!! بیدار ہوجاؤ... بہت دیر ہوچکی،اب سے اپنے روٹھے ہوئے خدا کو منالو کہ وہ بہت مہربان ہے،وہ تمھاری کھوئی ہوئی عظمت تمھیں واپس لوٹانے کے لیے تیار ہے بشرط یہ کہ تم نیند سے جاگ جاؤ اور اس کے بتلائے ہویے راستوں پر چل پڑو۔

نرم وخنک بہتی ہواؤں کے درمیان جامع مسجد کے حوض میں لہراتے عکس کو دیکھ رہے ہیں جو آنکھوں میں آنسوؤں کی وجہ سے دھندھلے دھندلے سے دکھائی پڑرہے ہیں،چہرے پر پانی چھڑکتے ہیں،وضو کی تکمیل کے بعد نماز میں شامل ہوتے ہیں۔تلاوت ہوتی "الم یان للذین آمنو ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ" کیا مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے خوف سے لرز جائیں۔

یہ صبح کی روشنی اور نئے دن کا آغاز ہے... اللہ کرے یہ امیدوں،آرزوؤں اور تمناؤں کی صبح ہو،جس پر کبھی مایوسیوں کی شام نہ آئے... کبھی بھی نہ آئے___اور مجھے یقین ہے اور کامل یقین ہے کہ وہ یہی صبح ہے۔

بس

تیری اجڑی ہوئی تقدیر سنور سکتی ہے

رات پیمانہ خورشید میں ڈھل سکتی یے

مگر اے دوست تجھے خود کو بدلنا ہوگا

پا برہنہ رہِ پر خوار پہ چلنا ہوگا

دیکھیے ساغر بھی یاد آگیے... جنھوں نے تقسیم کے بعد لاہور کی سنسان سڑکوں پر بیٹھ کر انہی گلیوں،کوچوں اور حویلیوں کو یاد کرتے ہویے کہا تھا:

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا

اپنے اجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا

جب کبھی گردشِ تقدیر نے گھیرا ہے ہمیں

گیسوئے یار کی الجھن کو بہت یاد کیا

شمع کی جوت پہ جلتے ہوئے پروانوں نے

اک ترے شعلہ دامن کو بہت یاد کیا

جس کے ماتھے پہ نئی صبح کا جھومر ہوگا

ہم نے اس وقت کی دلہن کو بہت یاد کیا

آج ٹوٹے ہوئے سپنوں کی بہت یاد آئی

آج بیتے ہوئے ساون کو بہت یاد کیا

ہم سرِ طور بھی مایوس تجلی ہی رہے

اس درِ یار کی چلمن کو بہت یاد کیا

مطمئن ہو ہی گئے دام و قفس میں ساغر

ہم اسیروں نے نشیمن کو بہت یاد کیا

آج کی صحبت ختم ہوئی اب۔باقی باقی

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (26)

ر
راحت عائشہ
4 ستمبر، 2020
خوبصورت تحریر
H
Habib
1 اپریل، 2019
خبیب حسن بہت عمدہ لکھتے ہیں آپ۔رواں دواں اور شستہ ورفتہ نثر۔شاد رہیں
م
مہر عبدالرحمن طارق
12 مارچ، 2019
بہت خوبصورت خبیب۔۔۔۔ تاریخ کے جھروکوں کو نثر نگاری میں بیان کر دیا بہت اعلی
س
ساحل صدیقی
28 فروری، 2019
ماشاء اللہ بہت اچھی تحریر ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔
K
Khubaib hasan
24 فروری، 2019
تمام بھائیوں کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے حوصلہ افزائی فرماتے ہویے شوق کو مہمیز لگائ_
z
zarrar
23 فروری، 2019
“Kya bood-o-bash poochhe ho Purab ke sakino hum ko gharib jaan ke hans hans pukar ke Dilli jo aik shehar tha aalam mein intekhaab Rehte the muntakhib hi jahan rozgaar ke Jisko falak ne loot ke viraan kar diya Hum rahnay walay hain ussi ujray dayar ke“
N
Nasruddin
23 فروری، 2019
ماشاءالله! سحر انگیز تحریر!!! اسلوب مانو دریا کی روانی اور آبشار کا ترنم ہے تاریخی پیرہن بھی ہے ویسے سچ کہوں تو میں نے کافی عرصے بعد کسی تحریر کے ساتھ تصوراتی سفر کیا ہے۔۔۔۔ بارک الله فیک۔۔۔۔الله کرے زور قلم اور ہو زیادہ…
ا
ارشاد احمد
21 فروری، 2019
شاندار ماضی کے ساتھ ساتھ حال کی خستہ حالی سے نگاہیں نہیں چرا سکتے
ا
ارشاد احمد
21 فروری، 2019
عزیزم خبیب سلمہ کا مضمون مسلمانان ہند کے شاندار ماضی کی بہترین عکاسی کرتی ہے. اللہ تعالیٰ مزید زور قلم عطا فرمائے. مولانا آزاد رحمہ الله کی قبر کے ارد گرد جواریوں اور نشیڑیوں کا جماوڑا دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے. شاندار ماضی کو سنبھال کر رکھیں مگر حال کی پریشانیوں کا مقابلہ بھی ضروری ہے.
د
دانش جمال
20 فروری، 2019
ماشاءالله! سحر انگیز تحریر!!! اسلوب مانو دریا کی روانی اور آبشار کا ترنم ہے تاریخی پیرہن بھی ہے الغرض قاری ایک عجیب و لطیف احساس سے گزرتا ہے جس کا بیان الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ ویسے سچ کہوں تو میں نے کافی عرصے بعد کسی تحریر کے ساتھ تصوراتی سفر کیا ہے۔۔۔۔ بارک الله فیک۔۔۔۔الله کرے زور قلم اور ہو زیادہ...
A
Ashraf Khan
20 فروری، 2019
ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ ہے
ح
حسان بن محمد
19 فروری، 2019
بہت ہی عمدہ ماشاءاللہ۔۔ انتہائی خوبصورت انداز میں ماضی کا نقشہ کھینچ ڈالا۔۔ اللہ آپ کے علم و عمل کے ساتھ قلم میں برکت عطا فرمائے۔ اٰمین
M
Mohammad gufran
19 فروری، 2019
ماشاء اللہ اب تک کی سب سے بہترین و عمدہ تحریر اللہ تعالی قلم میں مزید زور پیدا کرے.. یقینا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی اور نوع بنوع موتیوں کو ایک لڑی میں پرونے کی خوبصورت کوشش کی گئی ہے... اور یاد گار دہلی کو ایک نئے اور انوکھے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے..
N
Noor
19 فروری، 2019
ماشاءاللہ آپ نے دلی کی نشانیوں کا سیر کرادیا خوبصورت تحریر
A
Atta ur Rehman Khan
19 فروری، 2019
بہت عمدہ تحریر۔۔۔ اور بہترین اشعار کا چُناؤ، سلامت رہیں!
ع
عبدالمبین
19 فروری، 2019
بہترین
ا
احسان الہی سلفی سامرودی
19 فروری، 2019
ما شاء اللہ بہترین انداز تاریخی مضمون پڑھ کر بڑا مزہ آیا، روانی کے ساتھ گزر گیا، طوالت کا احساس بھی نہیں ہوا، (تیری یہ سلطانی دیکھی نہیں جاتی ہے) کہ مثل جیسے اسے پڑھنے اور سنے میں مزہ آتا ہے اسی طرح اس میں بھی برادر خبیب حسن سلمہ ساتھی اور دوست ہونے کی حیثیت سے اپنے قلم کو چلاتے رہیں، ہمیں آپ پر فخر ہے، حالات کی عکاسی زیادہ کیا کریں، حالات پر ایک صحافی کی حیثیت سے لکھیں، دنیا کہ سامنے حقیقت کو پیش کریں اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ فرمائے اور قلم مزید قوت عطا فرمائے آمین احسان الہی سلفی سامرودی
I
Ismail Safi
18 فروری، 2019
بہت عمدہ!!! خبیب بھائی! کیا شائستگی ہے آپ کے تحریر میں!!!
s
shakeel ahmad
18 فروری، 2019
ماشاء اللہ پڑھ کر أنسو ٹپک پڑے
A
Abul faiz
18 فروری، 2019
بہت ہی لاجواب ماشاء اللہ
ع
عامر انصاری ممبرا
18 فروری، 2019
بہت عمدہ لکھا ہے برادرم خبیب نے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ ماضی کی اچھی تصیر کشی کی ہے۔ سرسری میں نے طائرانہ نظر ڈالی۔ فرصت ملی تو غائرانہ نظر بھی ڈالتا ہوں۔ بس ایک مشورہ یا شکایت بھی کہہ سکتے ہیں کی جامع مسجد کی سیڑھیوں کے پس منظر میں شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کا تذکرہ ہونا چاہیے۔ اللہ آپ کی قلم کو نظر بد سے بچائے۔ ملک و ملت، جماعت و جمعیت کے مفاد میں لکھتے رہیں۔
ر
ریاض مبارک
18 فروری، 2019
بہت عمدہ!! دلی کی زبوں حالی پر ماتم اور دلی والوں کی جدائی کا غم لئے یہ تحریر بہت خوب ہے! ماشاء اللہ باتوں باتوں میں دلی کا پورا عہد سامنے آ گیا اور جاتے جاتے دلی کے مہاجروں اور مولانا آزاد کا دائمی غم چھوڑ گیا!! تاہم میں مولانا رفیق کی بات کی پر زور تائید کرتا ہوں کہ قصہ غم ختم کرکے مستقبل کو تابناک بنانے کی تیاریاں کرنی چاہئیے!!
س
سعد احمد
18 فروری، 2019
ماشاءاللہ، یہ تو بہت عمدہ ہے. اللہ ایسی ہی نسل کھڑی کردے جو اسلاف نامی چاند کو کندھے پہ اٹھائے محبت کے دریاؤں سے صف باندھے ہوئے نکلتے چلے جائیں... ایسی نسل کھڑی کردے جو خبیب اور ان جیسے دوسرے قلم کاروں کو وہ ہمت دے کہ مٹی کو چھو دیں تو سونا کر دیں؛ کچھ لکھ دیں تو دنیا کا اوڑھنا بچھونا کردیں.واہ.
ر
راشد حسن مبارکپوری
18 فروری، 2019
بہت خوبصورت تحریر، پڑھ کر آنکھیں اشکبار ہوگئیں، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ.
خ
خبیب حسن
18 فروری، 2019
بہت شکریہ شیخ محترم ضرور ان شاء اللہ بس آپ اکابرین کہ رہنمائ کی ضرورت ہے_ رب العالمین آپکی حفاظت فرمایے_آمین
ر
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)
18 فروری، 2019
برصغیر کی سلفی تاریخ میں مبارک پوری نسبت بڑی معتبر رہی ہے۔خوشی کی بات ہے کہ اس نسبت کے نقوش کو نئی آب وتاب دینے کے لیے آپ اور آپ کے بھائیوں نے میدان عمل میں قدم رکھ دیا ہے۔تحریر بتاتی ہے کہ قلم میں روانی کے ساتھ مطالعے میں بھی وسعت ہے البتہ اب مرثیہ خوانی کا دور ختم ہوگیا ہے۔حال کو روشن رکھنے کا حوصلہ موجود ہو تو ماضی عبرت ونصیحت کا سامان بنتی ہے ورنہ یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا ایک ایسی سچائی ہے جس سے شاید انکار نہ کیا جاسکے۔میں اپنے نوجوانوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ حال کی ناگفتہ بہ صورت حال کا سفاکانہ تجزیہ کرکے ملت کو اصل حقیقت کی طرف لے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اپنے اجڑے ہویے گلشن کو بہت یاد کیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر