شرک اک بہت بری شئ ہے؛نمیرہ یہ کہتے کہتے رک گئی۔
حکومت کی پالیسیاں بلاوجہ انڈے کھانے پہ زور دیتی ہیں؛نمیرہ کے ابو نے یہ کہتے ہوئے ٹی وی آف کر دیا۔
نمیرہ نے فوراً جوتے پہنے اور دادو کے کمرے کی طرف بھاگی،دادو کسی کو نصیحت کر رہے تھے؛”شرک و طاغوت ہی شر کا اصل منبع ہیں“ اس کی شاخیں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں۔نمیرہ گفتگو میں مخل ہوئی اور پوچھا: دادو،پھر ہم ایسا گھر کیوں نہیں بناتے جہاں شرک داخل نہ ہو سکے؟ یہ ٹی وی جو ہے جھوٹی باتوں کا پلندہ ہے۔یہ میڈیا جس میں طباعتی اور نظری دونوں شامل ہیں ان کا کیا کہیں گے،یہ بھی تو جھوٹے ہیں۔سرکاری کرسی سے لٹکتے ہیں اور جمہوریت کا ایک مضبوط ستون سمجھے جاتے ہیں مگر جھوٹ کی تجارت خوب کرتے ہیں۔دادو! ایسا لگتا ہے یہ جمہوریت کا ستون نہیں بلکہ آستانوں پہ چھوڑی ہوئی تعویذیں ہیں جو کب کس کی گردن پہ لٹکیں کسی کو کیا خبر!!!
دادو آج پیپر والا پیپر نہیں دے گیا۔
ارے واہ،پیپر والا آ بھی گیا،۔۔۔۔دادو یہ کیا آج پیپر نے اپنی ہی خبر کی تردید کی،شام کا خونی ابھی زندہ ہے،تہذیبوں کا بھنبھوڑیا ہنس رہا ہے اور مسکرا کر اپنے پیچھے کے دلدل سے ڈراتا ہے۔اس کے چہرے پہ مسکراہٹ فاتحانہ ہے۔
دادو آج شام میں کیا کھائیں گے؟ کیا،گوشت نہیں کھائیں گے؟ دادو آپ بھی ڈرتے ہیں!
اچھا،میں نہیں سمجھی کہ شام اور گوشت میں کیا تعلق ہے!
ہاں خدایا! خبر ہے یا میز پر سجی ہوئی پلیٹیں جس میں انسانی گوشت ہو۔یہ بین السطور کیا لکھا ہے،جیسے ٹھنڈی سوکھی رات میں آدم خور وفا دار کتا ہڈی چبا رہا ہے۔سناٹے کا رجسٹر آج قلمزد کرنے کا تاب کھو چکا ہے۔
دادو! یہ طاغوت کسے کہتے ہیں؟ اور یہ مجاہد انسان کب بنتا ہے؟
تبھی زور کے شور نے نمیرہ کو کھڑکی سے جھانکنے پہ مجبور کر دیا۔ایک شریف دکھنے والے شخص کو تین سانڈوں نے گھیر رکھا تھا۔داروغہ کے پِیک بھرے منہ سے مغلظات کا کریہہ رساؤ جاری تھا۔شریف دکھنے والے شخص کی آنکھوں میں ہیبت کے بجاے بلا کی حقارت اور حد درجہ غیرت تھی جو عوام الناس میں شرافت کی جرات کا تعارف کرا رہی تھی۔
تبھی ابو نے ٹی وی آن کیا۔ٹی وی پہ برانڈیڈ خبروں نے لوگوں کے سروں کی سواری کرنی شروع کر دی تھی۔
ارے،ان خبروں نے اپنے گلے میں کیا لٹکا رکھا ھے؟ شاید تعويذ ہے،تعويذ لٹک رہی ہے۔
یہ ہیبت ناک دانتوں والا کون ہے؟ کتنا خوبصورت لباس اس نے پہن رکھا ہے! یہ کس کلچر کا لباس ہے؟ ارے اس کے سر پہ سینگیں بھی اگ رہی ہیں۔یہ کیا بلا ہے؟
ارے ساری برانڈیڈ خبروں کا تعويذ کہاں گیا؟ ان کے ٹیگ پہ تو زیادہ قیمت چسپاں ہے! چھوڑو؛ایٹریکٹیو نہیں ہیں۔
کتنا اچھا بولتا ہے یہ،سارے خواب زندہ ہو جاتے ہیں،دیو ہے شاید،لوگ اس سے کتنا خوش لگتے ہیں۔اچھا ہی لگتا ہے یہ دیوتا۔۔۔دیومالائی نہیں لگتا۔
ارے اس کے سر پہ سینگوں کے بیچ چھوٹا سا گیند نما کیا ہے،شیشہ سا جھلکتا ہے۔یہ نئے طور کا ٹی وی ہے،جس کا اسکرین گول ہوتا ہے..شاید! اس ٹی وی میں کتنی تصویریں چلتی ہیں!!!
واہ واہ.۔۔۔دیووں کا لوک ہے،اوہ۔۔دیومالائی پرلوک بھی ہے۔اَپسرائیں .. تیروں کا زناٹا،ترشول،ڈمرو،ناچ،ننگا،ننگ،گندھ،چیر،ودھ،ھرن،جٹا،جھن جھن،جھنّ،جھنن،،،،دھرم،شنکا،استری،کام،یوگ،نیوگ،پریوگ،شودر؛شترو،چھما،وناش،کارتک،آستِک،ناستِک،وِرام،وِرام یودھ ورام،؛دھوَست۔،…
نمیرہ تم یہ کیا کہہ رہی ہو،ہذیانی نہ ہو،یہ تو ٹی وی میں تصویریں چل رہی ہیں،نہیں ابو مجھے ڈر لگ رہا ہے!!! کہ اچانک جھناکے کی آواز کے ساتھ اسکرین ٹوٹا،سب دیکھنے لگے۔
دادو کمرے میں کسی سے کچھ کہہ رہے تھے،شرک کا تعويذ مت لٹکانا یہ نیچے کی جانب لٹکتا ہے مگر اثر اوپر کی جانب ہوتا ہے۔ادھر اسکرین پہ تصویریں پھر چلنے لگتی ہیں۔لٹکی ہوئی چیز میں لکھا منتر دھوں دھوں کرکے چھا جاتا ہے۔تصویریں نشر ہونے لگتی ہیں۔
شرک.... شرک کا میوزیم۔۔۔ہیولٰی۔۔لٹکتی تعويذیں۔۔۔منجمد سر۔۔سانپوں کی سرسراہٹیں۔۔۔سترنگی کہانیاں،بھوتوں کی کانا پھوسی،کنکال کی چیخیں،چغد کی ہوٹنگ اور سو ابلیسیائی تہذیب کی روحیں زندہ ہونے لگتی ہیں۔