جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

”شرک کا لٹکن“

تحریر: اداریہ3 مارچ، 20191,560قارئین6 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

شرک اک بہت بری شئ ہے؛نمیرہ یہ کہتے کہتے رک گئی۔

حکومت کی پالیسیاں بلاوجہ انڈے کھانے پہ زور دیتی ہیں؛نمیرہ کے ابو نے یہ کہتے ہوئے ٹی وی آف کر دیا۔

نمیرہ نے فوراً جوتے پہنے اور دادو کے کمرے کی طرف بھاگی،دادو کسی کو نصیحت کر رہے تھے؛”شرک و طاغوت ہی شر کا اصل منبع ہیں“ اس کی شاخیں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں۔نمیرہ گفتگو میں مخل ہوئی اور پوچھا: دادو،پھر ہم ایسا گھر کیوں نہیں بناتے جہاں شرک داخل نہ ہو سکے؟ یہ ٹی وی جو ہے جھوٹی باتوں کا پلندہ ہے۔یہ میڈیا جس میں طباعتی اور نظری دونوں شامل ہیں ان کا کیا کہیں گے،یہ بھی تو جھوٹے ہیں۔سرکاری کرسی سے لٹکتے ہیں اور جمہوریت کا ایک مضبوط ستون سمجھے جاتے ہیں مگر جھوٹ کی تجارت خوب کرتے ہیں۔دادو! ایسا لگتا ہے یہ جمہوریت کا ستون نہیں بلکہ آستانوں پہ چھوڑی ہوئی تعویذیں ہیں جو کب کس کی گردن پہ لٹکیں کسی کو کیا خبر!!!

دادو آج پیپر والا پیپر نہیں دے گیا۔

ارے واہ،پیپر والا آ بھی گیا،۔۔۔۔دادو یہ کیا آج پیپر نے اپنی ہی خبر کی تردید کی،شام کا خونی ابھی زندہ ہے،تہذیبوں کا بھنبھوڑیا ہنس رہا ہے اور مسکرا کر اپنے پیچھے کے دلدل سے ڈراتا ہے۔اس کے چہرے پہ مسکراہٹ فاتحانہ ہے۔

دادو آج شام میں کیا کھائیں گے؟ کیا،گوشت نہیں کھائیں گے؟ دادو آپ بھی ڈرتے ہیں!

اچھا،میں نہیں سمجھی کہ شام اور گوشت میں کیا تعلق ہے!

ہاں خدایا! خبر ہے یا میز پر سجی ہوئی پلیٹیں جس میں انسانی گوشت ہو۔یہ بین السطور کیا لکھا ہے،جیسے ٹھنڈی سوکھی رات میں آدم خور وفا دار کتا ہڈی چبا رہا ہے۔سناٹے کا رجسٹر آج قلمزد کرنے کا تاب کھو چکا ہے۔

دادو! یہ طاغوت کسے کہتے ہیں؟ اور یہ مجاہد انسان کب بنتا ہے؟

تبھی زور کے شور نے نمیرہ کو کھڑکی سے جھانکنے پہ مجبور کر دیا۔ایک شریف دکھنے والے شخص کو تین سانڈوں نے گھیر رکھا تھا۔داروغہ کے پِیک بھرے منہ سے مغلظات کا کریہہ رساؤ جاری تھا۔شریف دکھنے والے شخص کی آنکھوں میں ہیبت کے بجاے بلا کی حقارت اور حد درجہ غیرت تھی جو عوام الناس میں شرافت کی جرات کا تعارف کرا رہی تھی۔

تبھی ابو نے ٹی وی آن کیا۔ٹی وی پہ برانڈیڈ خبروں نے لوگوں کے سروں کی سواری کرنی شروع کر دی تھی۔

ارے،ان خبروں نے اپنے گلے میں کیا لٹکا رکھا ھے؟ شاید تعويذ ہے،تعويذ لٹک رہی ہے۔

یہ ہیبت ناک دانتوں والا کون ہے؟ کتنا خوبصورت لباس اس نے پہن رکھا ہے! یہ کس کلچر کا لباس ہے؟ ارے اس کے سر پہ سینگیں بھی اگ رہی ہیں۔یہ کیا بلا ہے؟

ارے ساری برانڈیڈ خبروں کا تعويذ کہاں گیا؟ ان کے ٹیگ پہ تو زیادہ قیمت چسپاں ہے! چھوڑو؛ایٹریکٹیو نہیں ہیں۔

کتنا اچھا بولتا ہے یہ،سارے خواب زندہ ہو جاتے ہیں،دیو ہے شاید،لوگ اس سے کتنا خوش لگتے ہیں۔اچھا ہی لگتا ہے یہ دیوتا۔۔۔دیومالائی نہیں لگتا۔

ارے اس کے سر پہ سینگوں کے بیچ چھوٹا سا گیند نما کیا ہے،شیشہ سا جھلکتا ہے۔یہ نئے طور کا ٹی وی ہے،جس کا اسکرین گول ہوتا ہے..شاید! اس ٹی وی میں کتنی تصویریں چلتی ہیں!!!

واہ واہ.۔۔۔دیووں کا لوک ہے،اوہ۔۔دیومالائی پرلوک بھی ہے۔اَپسرائیں .. تیروں کا زناٹا،ترشول،ڈمرو،ناچ،ننگا،ننگ،گندھ،چیر،ودھ،ھرن،جٹا،جھن جھن،جھنّ،جھنن،،،،دھرم،شنکا،استری،کام،یوگ،نیوگ،پریوگ،شودر؛شترو،چھما،وناش،کارتک،آستِک،ناستِک،وِرام،وِرام یودھ ورام،؛دھوَست۔،…

نمیرہ تم یہ کیا کہہ رہی ہو،ہذیانی نہ ہو،یہ تو ٹی وی میں تصویریں چل رہی ہیں،نہیں ابو مجھے ڈر لگ رہا ہے!!! کہ اچانک جھناکے کی آواز کے ساتھ اسکرین ٹوٹا،سب دیکھنے لگے۔

دادو کمرے میں کسی سے کچھ کہہ رہے تھے،شرک کا تعويذ مت لٹکانا یہ نیچے کی جانب لٹکتا ہے مگر اثر اوپر کی جانب ہوتا ہے۔ادھر اسکرین پہ تصویریں پھر چلنے لگتی ہیں۔لٹکی ہوئی چیز میں لکھا منتر دھوں دھوں کرکے چھا جاتا ہے۔تصویریں نشر ہونے لگتی ہیں۔

شرک.... شرک کا میوزیم۔۔۔ہیولٰی۔۔لٹکتی تعويذیں۔۔۔منجمد سر۔۔سانپوں کی سرسراہٹیں۔۔۔سترنگی کہانیاں،بھوتوں کی کانا پھوسی،کنکال کی چیخیں،چغد کی ہوٹنگ اور سو ابلیسیائی تہذیب کی روحیں زندہ ہونے لگتی ہیں۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (6)

س
سعد احمد
6 مارچ، 2019
شکریہ، میں خوش نصیب ہوں جس کی حقیر کوشش پہ اہلحدیثوں کے سب سے پڑھے لکھے اور ویل-انفورمڈ عالموں میں سے ایک عالم نے توجہ دی. ایک بار اور شکریہ کہ جدیدیت والی دم کی طرف آپ نے اشارہ کیا. اس تحریر کا پس منظر جامعہ سلفیہ کے تقریباً ایک عالم دوست ہیں جن کا اعتراض اس ٹوپی پہ تھا جو پی ایچ ڈی کی ڈگری لیتے وقت پہنی جاتی ہے وہ کہتے کہ اس میں جو جھالر ہوتا ہے دراصل وہ تعویذ ہے. اس کے برعکس وہ خود حالیہ قومی سیاست نامی طاغوت جس میں کفر، شرک کے بنا ایک قدم چلا نہیں جا سکتا کے بہترین معاون ہیں. وہ میڈیا کے آدمی بھی ہیں. علماء کا ڈیٹا فیس بُک سے زیادہ اچھے طریقے سے بیچتے ہیں. اپنے ادارے کو بدنام بھی کرتے ہیں اور اسی کے علماء سے انکا پیٹ بھی چلتا ہے. نا جانے یہ ایک عام بات ہے یا صرف چند احباب کا خیال...... مدرسہ کےفارغین خصوصی طور سے ہمارے مسلک کے لوگوں کا یہ گمان رہتا ہے کہ سامنے والا کما حقہ اگر آپ سے خوف نہ کھائے تو اس کے چند الفاظ، چند تبصرے، اور دیگر استفسارات..... اس کی دانست میں مخاطب کو پریشان کر دیں گے. ان کی دانست میں لکھنا پڑھنا دراصل مادی بحران کی وجہ سے ہے... جس سے وہ خود خوش قسمتی سےنبرد آزما نہیں ہیں. احباب کی عزتوں کا پاس و لحاظ اور ان سے وفا داری چاہتی ہے کہ ان کی الٹی پھلٹی وفاداریوں پہ ضرب نہ لگنے پائے... لہذا علامتیت کا یہ تجربہ قبول کریں. __________________ آپ کا تبصرہ معلوماتی ہے... میں نے کاپی کر لیا.
ر
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)
5 مارچ، 2019
کافی عرصہ گزرا،علی گڑھ میں اردو کے ایک اسلام پسند ادیب انجم نعیم صاحب ہوا کرتے تھے، ان کی ادارت میں ایک سہ ماہی ادبی رسالہ جدید نسلیں شائیں ہوتا تھا۔اس کا اداریہ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔میں نے ایک روز ملاقات کے وقت عرض کیا:محترم انجم نعیم صاحب! کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کیا لکھ رہے ہیں اور اس کا مقصد کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا:الفاظ اور تراکیب کی صوتیات سے مفہوم نکلتا ہے، آپ اس پر غور کریں۔اردو ادب میں جدیدیت کا باب کھولا گیا تھا لیکن وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوا کیوں کہ اس کو سمجھنے والے قارئین نہیں ملے یا بہت کم ملے۔سعد احمد صاحب پر لگتا ہے کہ اسی جدیدیت کا اثر ہوگیا ہے۔ حرفیات اور صوتیات سے مفہوم نکالنے کی کوشش اپنے میں ایک صنف ادب کی آبیاری تو ضرور ہے لیکن اردو قارئین کی ذہنی سطح ابھی بلند نہیں ہوئی ہے کہ اس طرح کی تحریریں وہ ہضم کرسکیں۔ادب کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ قارئین کی سمجھ میں آئے۔شرک اور تعویذ کو ایک علامت فرض کرکے سیاست کی تمام بے اعتدالیوں کو اس کے دائرے میں لے آنا اور ان کے اثرات ونتائج کو ایک وسیع پس منظر میں دیکھنا اس مضمون کی خصوصیت ہے۔ لیکن شاید اسلامی اصطلاحات کی یہ تشریح مناسب نہیں ہے۔ مولانا صدرالدین اصلاحی کی ایک کتاب ہے حقیقت نفاق،جس میں انھوں نے ظلم اور گناہ کی تمام صورتوں کو نفاق کے دائرے میں سمیٹ دیا ہے۔مولانا سعید احمد اکبرآبادی نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر سب کچھ نفاق ہے تو پھر گناہ،معصیت،ظلم اور ناانصافی کیا ہے۔سعد صاحب ابھی نوجوان ہیں،مسائل پر کھل کر لکھیں،کیوں کہ یہ دور اشارات وکنایات کا نہیں ہے۔
ا
ابو زینب
3 مارچ، 2019
نورا حنفی آپ نے جو سمجھا ہے براہ کرم اس کا خلاصہ پیش کر دیں تاکہ بشمول خاکسار دیگر حضرات بھی مستفیض ہو لیں۔
ا
ابو زینب
3 مارچ، 2019
اسے سمجھنا شمس الرحمن فارووقی اور شب خون کے قارئین کے ہی بس کا ہے، اپنے سمجھ میں صرف اتنا آیا کہ قومی اور عالمی منظر نامہ پر کچھ لکھا گیا ہے۔
ن
نورا حنبلی
3 مارچ، 2019
سعد احمد صاحب، علامتی کہانیوں کے باریمیں میں نےصرف اپنی یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران پڑھا تھا. شرک کا لٹکن ایک خاصی علامتی کہانی محسوس ہوتی ہے. یہ کہانی کتابوں میں پائی جانے والی علامتیت سے زیادہ -سیاسی- سماجی اور عالمی صورتحال کی طرف غالباًتوجہ دلانا چاہتی ہے... روز مرہ کی زندگی میں شرک ناگزیر تو ہے نا. قاری کی حیثیت سے آپ کی تخلیق کا ادراک مجھے ہو گیا... مگر شرک اور ظلم کیا ایک ہی چیز ہیں... شرک کے ماحول اور جدیدیت کی تبلیغ میں آپ کوئی فرق نہیں کرتے؟ کیا شرک تہذیبوں میں پنپ سکتا ہے؟ میری آپ سے ایک گذارش یہ ہے کہ اس طرح کی چیزیں مزید لکھیں..
ج
جاوید
3 مارچ، 2019
براہ کرم اس کی کوئی شرح بھی ہو تو ضرور شائع کریں۔ شکرا

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

”شرک کا لٹکن“ - دی فری لانسر | دی فری لانسر