موت ایک اٹل حقیقت ہے اس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔یہ وہ قانون الٰہی ہے جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔روئے زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات چاہے انبیاء ہوں یا اولیاء،
{قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّونَ مِنْہُ فَإِنَّہُ مُلَاقِیْکُم} (الجمعہ: ۸)
اےنبی ﷺ! آپ کہہ دیجیے کہ جس سے تم راہ فرار اختیار کرتے ہو وہ تم سے ضرور آملے گی۔دوسری جگہ ارشاد ہے:
{أَیْْنَمَا تَکُونُواْ یُدْرِککُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِیْ بُرُوجٍ مُّشَیَّدَۃٍ} (النساء:۷۸)
تم جہاں کہیں بھی رہو۔محلوں میں رہو کہ جھونپڑی میں،
{کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ اْلمَوْتِ} (الانبیاء: ۳۵)
ہر جان دار کو موت کا مزا چکھنا ہے۔اللہ تعالی نے کسی بھی چیز کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے۔موت کو بھی اللہ تعالی نے بڑی حکمت کے لیے پیدا کیا ہے۔یہ ہمارے لیے سامان عبرت ہے۔یہ ہمارے لیے اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے:
{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُورُ} (الملک: ۲)
جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے اور وہ بڑا زبردست،
اللہ کی طرف سے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔جب یہ وقت آجاتا ہے تو کسی کو ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں ملتی ہے۔اللہ سبحانہ وتعالی نے ارشاد فرمایاہے:
{وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللہ کِتَاباً مُّؤَجَّلاً} (سورہ آل عمران: ۱۴۵)
اللہ کے حکم اور فیصلہ کے بغیر کوئی نفس مر نہیں سکتا ہے۔
{وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَائَ أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُونَ}(الاعراف: ۳۴)
ہر امت کے لیے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔جب ان کا وقت آجاتا ہے تو نہ ایک ساعت آگے جاتا ہے اور نہ ایک گھڑی پیچھے۔دوسری جگہ ارشاد ہے:
{وَلَن یُؤَخِّرَ اللَّہُ نَفْساً إِذَا جَاء أَجَلُہَا وَاللَّہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ}(المنافقون: ۱۱)
اور جب کسی کا مقرر وقت آجاتا ہے تو اسے اللہ تعالی ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالی اس سے بخوبی باخبر ہے۔لہٰذا ہر انسان کو موت سے پہلے کا وقت غنیمت سمجھنا چاہیے اور اسے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کرنا چاہیے تاکہ قیامت کے دن کسی طرح کی رسوائی کا سامنا نہ ہو اور اللہ کی طرف سے جب موت کا پیغام آئے تو وہ اس سے راضی اور خوش ہو۔
اس دار فانی سے ہمیں بھی ایک دن دار بقا کی طرف کوچ کرنا ہے اس لیے ہم کو دنیا میں نیک عمل کرنا چاہیے۔اس جہاں فانی کی رنگینیوں میں دل نہیں لگانا چاہیے۔زمانہ کی رعنائیوں پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ دنیا ساز و سامان کی جگہ ہے۔عمل کی جگہ ہے۔اس کے چکر میں پھنس کر اپنی عاقبت خراب نہیں کرنی چاہیے۔اس کے چکر میں نہ آنے والے ہی حقیقت میں دانا اور سمجھ دار ہیں۔جو دنیا کے رنگ میں کھو گئے ان سے بڑھ کر کوئی نادان اور بے سمجھ نہیں ہے۔موت کو ہمیشہ یاد رکھنے والے ان رعنائیوں میں کبھی کھو نہیں سکتے اور نہ ہی اس دنیا سے کبھی دل لگا سکتے ہیں۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار نبی اکرم ﷺ نماز کے لیے تشریف لے گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ کھلکھلا کر ہنس رہے ہیں۔آپ ﷺنے فرمایا:
أمَا إنَّکُمْ لَوْ أکْثَرْتُمْ ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّذَّات المَوْتِ،
اگر تم لوگ لذتوں کو توڑ دینے والی چیز موت کو زیادہ یاد کرتے تو یہ تم کو اس ہنسی سے روک دیتی جو میں دیکھ رہا ہوں۔پس تم لوگ لذتوں کو ختم کرنے والی( موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ اچانک ایک انصاری آدمی آیا۔نبی ﷺ کو سلام عرض کرنے کے بعد کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! مومنوں میں سب سے زیادہ عقل مند کون ہے؟ آپ نے فرمایا:
أکثرُھمْ لِلْمَوْتِ ذِکْراً وأحسَنُہُم لِمَا بَعْدَہ استَعداداً،
(اسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)
یعنی سب سے زیادہ عقل مند وہ ہے جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہو اور موت کے بعد آنے والے مراحل کے لیے سب سے زیادہ تیاری کرنے والا ہو۔
موت کی یاد کے لیے ہمیں قبرستان ضرور جانا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ایک دن ہم کو بھی یہیں آنا ہے اور اسی مٹی میں دفن ہونا ہے۔ہمیں ان رشتہ داروں اور دوستوں کے متعلق بھی سوچنا چاہیے جو کل تک ہمارے ساتھ تھے۔ہماری مجلسوں اور محفلوں کے ایک اہم رکن تھے،
فَـزُوْرُوا الْقُبُوْرَ فَإنَّھَا تُذَکِّرُ الْمَوْتَ(صحیح مسلم: ۹۷۶)
قبرستان جایا کرو یہ موت کو یاد دلاتی ہے۔بعض صحیح روایات میں تُذَکِّرُ الْمَوْت کے بجائے تُذَکِّرُ الآخِرَۃَ ہے۔(سنن الترمذی:۱۰۵۴) یعنی قبروں کی زیارت آخرت کی یاد دلاتی ہے۔
آخرت کی یاد انسان کو دنیا سے بے رغبت بنا دیتی ہے اور اسے الہ العالمین سے قریب کر دیتی ہے اور اس کے دلوں میں رب قدیر کا خوف پیدا کردیتی ہے۔
دنیا کی محبت اور اس کی لذتوں میں ہم اس قدر غرق ہو گئے ہیں کہ ہم نے موت کو بھلا دیا۔کبھی سوچا ہی نہیں کہ مرنے کے بعد ہمیں اپنے کیے کا حساب و کتاب دینا ہے۔ہماری خواہشات نے ہمارے ذہنوں پر اس قدر دبیز چادر ڈال دی ہے کہ ہم نے اپنے مقصد حیات کو بھلا دیا۔ہم نے ان لوگوں سے کوئی عبرت نہیں لی جو ہمیں داغ مفارقت دے کر آخرت کی پہلی منزل میں ابدی نیند لے رہے ہیں۔یاد رکھو! قبر آخرت کی پہلی منزل ہے اگر یہ آسان ہوگئی تو بعد کی ساری منزلیں آسان ہوتی جائیں گی اور اگر یہ مشکل ہو گئی تو بعد کی منزلیں اور زیادہ کٹھن ہو جائیں گی۔ہم ایسے پر خطر سفر سے کیوں غافل ہیں؟ اس کی طرف ہماری کوئی توجہ کیوں نہیں ہوتی ہے؟ موت کا تصور ہمیں کیوں نہیں جھنجھوڑتا اور ہمارے وجود کو لرزاں کر دیتا؟ موت کو یاد کرکے ہم خواب غفلت سے بیدار کیوں نہیں ہوتے؟
ہمیں دنیا میں اس طرح زندگی گزارنی چاہیے جس طرح مسافر گزارتا ہے جس کی زندگی کی صبح و شام کس جگہ ہو جائے اسے کوئی اتہ پتہ نہیں،
إذا أمْسَیْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ،
جب شام ہوجائے تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار مت کرو۔تندرستی کی حالت میں اتنا عمل کرلو کہ بیماری کی حالت میں بھی کافی ہو جائے اور اپنی حیات میں اس قدر نیکیاں کما لو کہ موت کے بعد بھی تمھارے لیے نفع بخش ہو جائیں۔
مسند احمد کی صحیح روایت میں ہے:
کُـنْ فِی الدُّنْیَا کَأنَّکَ غَـرِیْبٌ أو عَابِرُ سَبِیْلٍ،
دنیا میں ایک اجنبی یا ایک مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو۔
ہم جہالت اور دنیا کی محبت کی وجہ سے موت کو بھول بیٹھے ہیں۔ہمارے قلب و جگر میں اس کا تصور ہی قریب قریب ختم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے پروردگار عالم کی مخالفت،
{تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً} (السجدۃ: ۱۶)
ان مومنین کے پہلو رات میں اپنے بستروں سے الگ تھلگ ہو تے ہیں۔اپنے رب کو خوف و طمع کے ملے جلے جذبات سے پکارتے ہیں۔
موت کے ساتھ سکراتِ موت کو بھی یاد کرنا چاہیے کیونکہ یہ لمحہ آسان نہیں ہوتا ہے،
لَا إلٰہَ إلا اللّٰہُ،
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔یقیناً موت کی سختیاں ہیں۔یہ حالت تھی رسول اللہ ﷺ کی حالانکہ آپ مخلوقات میں سب سے افضل اور انبیائے کرام میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔لہٰذا غور کیجیے موت کے وقت ہماری اور آپ کی کیا حالت اور کیفیت ہو گی؟ اگر سید البشر،
اخیر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں موت کو ہمیشہ یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور موت کی سختیوں سے بچائے۔آمین





