کیا ہو جب آپ کسی کشتی میں سوار ہوں اور کشتی مسافروں کے ساتھ لیے دریا میں ڈوب جائے؟ اور کیا ہو جب آپ کو پتہ چلے کہ کشتی کے مسافروں کو ڈوبنے کا کوئی خوف ہی نہیں بلکہ ان مسافروں کے نزدیک ڈوبنا "انتہا" نامی دروازے میں داخل ہونا ہے؟ يقینا آنکھ کھلی اور دماغ حاضر رکھنے والے شخص کے لیے یہ پاگل پنے کا عمل ہوگا۔مگر فکر و فقاہت کی پرورش کرنے والے اور اللہ کی عظمتوں کو پہچاننے والوں کے لیے یہ دروازہ جانا پہچانا ہے۔
ماضی کی بات ہے،
چند سال پہلے ایک بین الاقوامی علمی اجتماع میں انتہائی خوش اخلاق پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ہمارے ساتھ نوجوان تعلیم یافتہ لوگوں کا جتھہ تھا جو پروفیسر سے ملنے کا مشتاق بھی تھا۔جتھہ کا ہر شخص ان کی جانب یوں بڑھنے لگا گویا چھوٹی چھوٹی کشتیاں ہوں جو دریا میں گر جانے کی چاہت میں ایک مخصوص جانب بھاگی جارہی ہوں۔یہی وہ لمحہ تھا جسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ کبھی چند لمحوں کی حکایت صدیوں کی کہانیوں کو ہتھیلی پہ پروس دیتی ہے۔اسی لمحے کی عنایت تھی کہ میری ساکت و جامد آنکھوں کے سامنے کھڑکیوں کی ایک قطاریں کھل گئی جو واقعتاً صدیوں کی کھڑکیاں مجھ پہ کھولتی تھیں۔مجھے لگا کہ نجات دہندہ نامی انسان دراصل اپنے اندر تجربات کا ایک سمندر لیے گھومتا ہے جو اسے چین سے بیٹھنے ہی نہیں دیتا۔وہیں دوسری جانب مَیں یوں ہی سا ایک شخص تھا جو لوگ،
میرے دماغ میں تاویل نامی خطرناک اسلحوں کی کوئی فیکٹری تھی اور نہ میری کوئی دکان جس کی فکرمندی میں لوگوں کی جی ہاں جی ہاں،
پروفیسر کون تھے؟
پروفیسر منہٹن کے رہنے والے تھے جو ہم لوگوں کی ملاقات کے وقت میکسیکو میں اعزازی طور سے کام کر رہےتھے۔میکسیکو کو سمجھنے سے پہلے آپ یہ سمجھ لیں کہ میکسیکو یمن ہے،
مظلوموں سے زیادہ مسیحا کا انتظار کون کرے گا__ مظلوموں سے زیادہ نجات دہندہ کی ضرورت کسے ہوگی! مگر مظلوموں سے زیادہ مسیحائی کا انکاری بھی کوئی نہ ہوگا۔پروفیسر ایک مکمل طور سے باشعور مسلم عالم اور مومن مفکر تھے۔سالوں پہلے وہ اسلام جیسی نعمت سے سرفراز ہوئے تھے۔انھوں نے کہیں قرآن کے الفاظ سنے تھے جس کی ترجمانی ان کے لیے ابن عربی کی فتوحات مکیہ کے الفاظ نے کی تھی۔معنوں کا نہ پوچھیے،
پروفیسر ٢٣ سال تک ابن عربی کا مطالعہ کرتے رہے تھے۔جس وقت ہم ان سے ملے تھے انھوں نے ابن عربی کی تصنیفات کا انگریزی ترجمہ کا حظ اٹھا لیا تھا اور تقريبا دس ہزار صفحات تک کا ترجمہ بھی کر چکے تھے۔وہ بین الاقوامی ابن عربی سوسائٹی کے ممبر بھی ہیں۔
پروفیسر نے کہا کہ ابن عربی نے "یوں کہا“
بہت سی وجہیں تھیں جس کی وجہ سے ہم خود کو خوش قسمت سمجھنے لگے تھے۔اول یہ کہ ہم ایک مشرف بہ اسلام شخص سے مل رہے تھے جو اسلامی میراث میں کہیں گم ہوجانا چاہتا تھا۔دوم یہ کہ وہ ہماری میراث کے ایک ذہین ترین عالم کو اس وقت پڑھ رہا تھا جب دنیا کے ”علم نامی شئی کی عقلیت“ عروج پہ تھی۔وہ اس دور میں اس عالم کو پڑھ رہا تھا جب مادیت کے تمام مظاہر دراصل عقل کی کمائی مانے جا رہے تھے۔اس لحاظ سے اگر دیکھیں تو پروفیسر کے عہد کی مادیت نوزائیدہ تھی۔یہ نوزائیدہ مادیت جدید لوگوں کے لیے ایسا خدا بن گئی تھی جس کا خداؤں جیسا کوئی نام نہیں تھا۔سوم یہ کہ پروفیسر کے جملے ہیں کہ
speaks in a language in which one intends to understand things. . قرآن
میرے جملے ہیں؛
ابن عربی کون ہے؟
ابن عربی کوئی ایسا شخص نہیں جو آسمان کی جانب پاؤں کرکے چلتا ہے۔ابن عربی کوئی ایسا سرپھرا نہیں جو قرآن پڑھ کر دوزخ تھوکتا ہے۔ابن عربی کوئی ایسا جادوگر نہیں جو نص صریح سے ڈائیناسور نکال دیتا ہے۔ابن عربی وراثتوں کا محافظ ہے۔ابن عربی علوم سے واقف اور نصوص کا حافظ ہے۔یہ سچ ہے کہ ابن عربی کے لفظ میں روانی اور معانی کی کہانی ساتھ ساتھ چلتی ہے ساتھ ہی ایک تیسری چیز بھی ہوتی ہے۔
یہ سچ ہے کہ ابن عربی بہت سی رسیوں کے ٹکڑوں کو گوندھ کر ایک روایت بناتے ہیں یا بہت سی روایتوں کو کھول کر ایک شہر آباد کرتے ہیں۔وہ اللہ کی رسی سے جڑنے کے بجائے "بلاواسطہ" اس کا ہاتھ پکڑنا چاہتے ہیں مگر وہ آج کے "اولاد النص" سے بالکل مختلف ہیں۔اولاد النص وہ ہیں جن کے پاس ایک زنجیر ہوتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہر کسی کو اسی زنجیر سے باندھ دیں۔کسی کے نہ ملنے پہ وہ خدا کو ہی باندھتے ہیں۔ابن عربی کی "تفہیم دنیا" ایک ایسا پیڑ ہے جس پہ ہر طرح کے پرندے بیٹھتے ہیں اور اپنی خوش الحانی نکھارتے ہیں__ چاہے وہ محدثین ہوں یا متحدثین۔ابن عربی کے لیے دنیا ایک انعام ہے،





