شکوۂ درد نہاں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گلشن کی یہ ویرانی دیکھی نہیں جاتی ہے
غنچوں کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی ہے
ہر صبح ہے صبح غم ہر شب ہے شب ماتم
غم کی یہ فراوانی دیکھی نہیں جاتی ہے
صدیوں کی غلامی سے آزاد ہوئے پھر بھی
یہ فطرت زندانی دیکھی نہیں جاتی ہے
اس دور ہلاکت میں بے بس ہیں تمنائیں
جذبوں کی یہ قربانی دیکھی نہیں جاتی ہے
سوئے گا تو ڈوبے گا لہروں پہ بٹھا پہرے
دریا کی یہ طغیانی دیکھی نہیں جاتی ہے
طوفان کےخطرے سے یکسر جو ہوئی غافل
امت کی تن آسانی دیکھی نہیں جاتی ہے
پھولوں کو مسل کر جو خوشبو کا بنا تاجر
گلچیں کی یہ من مانی دیکھی نہیں جاتی ہے
اٹھ تھام حسن خود ہی اب ڈور قیادت کی
نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (5)
J
Jabir Raza
21 فروری، 2021سوئے گا تو ڈوبے گا
بہت خوب
م
محمد شریف
14 مارچ، 2019ماشاءاللہ
R
Riyazuddin shahid
13 مارچ، 2019نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی
R
Riyazuddin shahid
13 مارچ، 2019بہت خوب
نقالوں کی الثانی دیکھی نہیں جاتی
M
Mohammad gufran
13 مارچ، 2019اٹھ تھام حسن خود ہی اب ڈور قیادت کی
نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی ہے
ماشاء اللہ
بہت خوب 💐💐💐





