جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شکوۂ درد نہاں

کلام: خبیب حسن مبارکپوری7 مارچ، 20191,724قارئین5 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گلشن کی یہ ویرانی دیکھی نہیں جاتی ہے
غنچوں کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی ہے
ہر صبح ہے صبح غم ہر شب ہے شب ماتم
غم کی یہ فراوانی دیکھی نہیں جاتی ہے
صدیوں کی غلامی سے آزاد ہوئے پھر بھی
یہ فطرت زندانی دیکھی نہیں جاتی ہے
اس دور ہلاکت میں بے بس ہیں تمنائیں
جذبوں کی یہ قربانی دیکھی نہیں جاتی ہے
سوئے گا تو ڈوبے گا لہروں پہ بٹھا پہرے
دریا کی یہ طغیانی دیکھی نہیں جاتی ہے
طوفان کےخطرے سے یکسر جو ہوئی غافل
امت کی تن آسانی دیکھی نہیں جاتی ہے
پھولوں کو مسل کر جو خوشبو کا بنا تاجر
گلچیں کی یہ من مانی دیکھی نہیں جاتی ہے
اٹھ تھام حسن خود ہی اب ڈور قیادت کی
نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (5)

J
Jabir Raza
21 فروری، 2021
سوئے گا تو ڈوبے گا بہت خوب
م
محمد شریف
14 مارچ، 2019
ماشاءاللہ
R
Riyazuddin shahid
13 مارچ، 2019
نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی
R
Riyazuddin shahid
13 مارچ، 2019
بہت خوب نقالوں کی الثانی دیکھی نہیں جاتی
M
Mohammad gufran
13 مارچ، 2019
اٹھ تھام حسن خود ہی اب ڈور قیادت کی نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی ہے ماشاء اللہ بہت خوب 💐💐💐

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شکوۂ درد نہاں - دی فری لانسر | دی فری لانسر