جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اب یہ خیال چھوڑ دو کہ آرائش ہے تخلیق میری

تحریر: اداریہ8 مارچ، 20191,341قارئین17 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

ہر شخص کی زندگی تجربات سے بھری پڑی ہے۔تجربات زندگی کا واحد تحفہ ہیں۔تجربات جس قدر تلخ ہوتے ہیں انسان کی شخصیت،خیالات اور اس کی باتیں اسی قدر شیریں،واضح اور مثمر رمز لیے ہوتی ہیں۔

”نسائیت کے سانچے میں سانس لینے والی  شخصیت کی حیثیت سے میں ایک انسان ہوں۔میں "میں بھی" نہیں بلکہ میں سے مراد میرا مادی وجود ہے۔مجھ پر بنی نوع انسان کا ہر فرد ایک بوجھ ڈالتا ہے کہ میں چپ رہوں۔وہ مجھے اخلاق کا سبق سکھاتا ہے اور پھر خود ہی اسے پامال کرتا ہے۔وہ مجھے تہذیب سکھاتا پھر خود ہی اسے اجاڑ دیتا ہے۔وہ میرے چلنے،پھرنے،اٹھنے،بیٹھنے تک کو غور سے دیکھتا ہے۔وہ میرے کپڑوں کو جو جدید طرز کے ہوتے ہیں غور سے دیکھتا ہے۔وہ میرے ان کپڑوں پہ بھی نگاہ رکھتا ہے جو مشرقی طرز کے ہوتے ہیں۔وہ مجھے نظر اٹھا کر چلنے سے منع کرتا ہے اور خود میری غفلت میں مجھے گھورتا رہتا ہے“۔

یہ چند سطریں میں نے اپنی جاب کے دوران ایک پروجیکٹ میں کسی خاتون سے انٹرویو کے دوران لکھی تھیں۔مجھے نہیں معلوم تھا میری ان سطروں کو سنبھال کر رکھ لینے کی وجہ سے میں بالکل نئی قسم کی انسانی کوششوں سے متعارف ہوسکتی ہوں۔

میں نے دینی درسگاہیں اٹینڈ کی ہیں۔اللہ نے مجھے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ابوظبي کا سفر کروایا۔وہاں سے سعودیہ عربیہ کی جانب میں نے رخ کیا۔میرے ساتھ میرے محرم تھے اور خاندان کا ایک لمبا سلسلہ اور بہت بڑی بڑی سفارشیں بھی تھیں۔مجھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کبھی نہیں روکا گیا،اور بڑے علمی موقعوں پہ بھی کبھی ٹوکا نہیں گیا۔میرا پہلا ایم اے ممبئی کے ایک کالج سے  سائکولوجی میں تھا۔مجھے لگتا ہے میری باقی ماندہ تعلیم کا موضوع ہیومن سائکولوجی سے متعلق ہی ہوگی۔ابوظبی اور پھر سعودیہ میں علم اور اعلی تعلیم کے الٹ پھیر نے ایک وقت میں مجھے بہت ہی اکسائٹڈ کر دیا تھا۔میں بہت پڑھنا چاہتی تھی اور اب ایک وقت آیا مجھے لگنے لگا کہ میں نے بہت پڑھ لیا۔اس لیے نہیں کہ واقعتاً میں نے بہت پڑھ لیا تھا بلکہ اس لیے کہ مجھے کسی نے "بتایا" آپ کیوں پڑھ رہی ہیں۔دھیان رہے اس نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کیا پڑھ رہیں ہیں اور آپ کو کیا پڑھنا چاہیے،یہی وجہ تھی کہ ان سے گفتگو جاری رکھی گئی۔

تعلیم و تعلم  کی راہ میں لگ جانے کے بعد آپ خود اپنے شعور کو سمجھنے لگتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ کا شعور آپ کا ہے ہی نہیں۔تعلیمی نظام کی ایک اچھی بات ہے وہ آپ کو ذہنی طور پر بالغ بنا دیتا ہے اور ہمارے معاشرتی نظام کی ایک بری بات  یہ ہے کہ وہ آپ کو بالغ ہونے ہی نہیں دیتا،کبھی جسمانی ساخت کو مد نظر رکھ کر اور کبھی ذہنی کجی کو مد نظر رکھ کر۔پچھلے کئی سالوں سے میں ہمارے ایک خیر خواہ کی باتیں بڑے غور سے سن رہی ہوں۔وہ وہی زبان بولتے ہیں جس کو میں بولنا چاہتی ہوں۔میں اپنے تجربات اور اپنی پروفیشنل لیاقت کو سامنے رکھ کر ایسی بات کہنا چاہتی ہوں جو ہمارے لیے بالکل نئی نہیں۔میرے موضوع میں عورت،پدرانہ نظام،علماء،دین،تہذیب اور ہمارے سوچنے کا انداز اہم نکات ہیں۔

عورت: دو تعارف

پہلا تعارف:

عورت ایک فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔وہ تمھاری زندگی میں رنگ بھرنے کے لیے ہے۔ان سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے تو اس کی اچھے طریقے سے پرورش کرو۔وہ تمھارے گھر کی زینت ہے اور تمھارے گھر کی سوگواری پہ چہچہاہٹ طاری کر دینے والی ایک مخلوق بھی ہے۔

مگر عورت عورت ہے،وہ شیطان کا دوسرا روپ بھی ہے۔عورت کو اتنا پڑھاؤ جس سے وہ تمھارے کنٹرول میں رہ سکے۔عورت تمھاری عزت ہے اور تمھاری غیرت بھی ہے۔اس کے پاس زیادہ عقل نہیں ہوتی اس لیے اس سے مشورے نہ لو۔اس کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی تبدیلیاں اس کے مزاج کو ڈھالتی ہیں۔وہ تمھاری جائداد اور ملکیتوں کے بٹنے کی وجہ بھی ہوتی ہے۔انھیں کنٹرول اور مکمل کنٹرول میں رکھو۔کون اسے کب پاگل بنا کے اڑا لے جائے کسی کو کچھ نہیں پتہ۔عورت مرد کی ماتحت ہے اس لیے کہ مرد قوام ہے۔

دوسرا تعارف:

ہم درد کی رکھوالی کرنے کے لیے ہیں۔ہم سے وراثتیں زندہ رہتی ہیں۔ہم مذہب کے اسی طرح محافظ ہیں جس طرح تم مذہب کی حفاظت کے ذمہ دار۔شاید تم سے مذہب کی اب حفاظت نہیں ہوتی مگر ہم تو آج بھی ایک کھوٹے سے بندھے ہیں،اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں اور دین میں اپنی راہ اور جگہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے مایوس ہوگئے ہیں۔

ہزارہا سالوں سے ہم تمھاری زندگی،ملکیت،سلطنت،قوت،مردانگی اور غلیظ خواہشات کے حساب سے اس طرح سجائے جاتے رہے جیسے ہماری تخلیق بس آرائش ہے۔تم ہماری رگ و ریشہ تک کو چٹخارے کا موضوع بنا لو اور ایمان کا محل بنا کر اس پر پرہیزگاری کی کنڈی چڑھا لو  تو کیا بات بن جائے گی۔تم ہمیں بیچو،خریدو،بوڑھوں سے بیاہ کرادو،بچوں سے بیاہ کرا دو،یا بیاہ نہ کراؤ اور ہماری رائے تک نہ لو۔ہم أشياء کے معاملے میں،شوہر کے معاملے میں اور بود و باش کے معاملے میں بس اظہار بھر کر دیں تو آپ لال پیلے ہوجائیں،نتیجے میں ہماری گردنیں کبھی کسی گٹر میں پڑی ملیں اور ہم کبھی کسی روڈ حادثہ میں تباہ ہو جائیں،کبھی سلینڈر پھٹ جائے،کبھی ہم اپنے مسیحاؤں کے ہاتھوں خود مذہبی تعلیم گاہوں اور کبھی غیر مذہبی تعلیم گاہ اور آفسوں میں برباد ہو جائیں۔

عورت اور پدرانہ نظام:

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پدرانہ نظام یہ مردوں کی یا مردانہ نکتہ نظر کی کنجی ہے۔اسلام کا شروعاتی دور ہمیں بتاتا ہے  کہ کیسے اس نے پدرانہ نظام کے ظلم سے عورت کو آزاد کرایا،اس طرح آزاد نہیں کرایا کہ دنیا آپ کے پیچھے تلوار لے کر دوڑ پڑے بلکہ اس طرح کرایا کہ نبی کے معجزے اور قرآن کا اعجاز  کام میں آئے۔دینی تعلیم یہ نہیں ہے کہ عورت کو کوہ کاف میں چھپا دو اور چیختے پھرو ہم سے بڑا مذہب والا کوئی نہیں! دینی تعلیم یہ نہیں ہے کہ عورت کو اس کے جسمانی جغرافیہ،اس کی نفسیاتی حالت کو مد نظر رکھ کر آپ معاشرت کے مصادر و مراجع کو سمجھیں بلکہ یہ ہے کہ عورت کو وجودی اور انسانیت کے مقام کے لحاظ سے آپ کس طرح اپنی اور خود عورت کی کے لیے اسے کیسے پیش کرتے ہیں! شروع کے اسلام اور قرآن و سنت کی تفسیر میں عورت انسانیت کے سانچے میں دیکھی گئی .... تہذیبی پیچیدگیوں کے سانچے میں نہیں۔

پدرانہ نظام کے لیے اچھے خاصے جواز ہیں اور ہو سکتے ہیں۔پدرانہ نظام اچھا بھی ہوسکتا ہے مگر کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ابھی کے پدرانہ نظام کا سپورٹ کرنے کے بجائے ہم عورت کو لکھنے،پڑھنے اور علوم دینی_دنیوی (میرے لیے دونوں ایک چیز ہے) کی حفاظت کے لیے اس طور سے آگے بڑھائیں جس میں معاشرہ کو واضح رہنمائی ملے۔آپ کو اگر ڈر ہے کہ عورت کو زیادہ پڑھائیں گے تو چولہا کون سنبھالے گا،یا کہیں وہ امامت نہ کرانے لگیں تو آپ تھوڑا سا بھروسا کریں (اس کے علاوہ آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں یا خطرناک آپشن ہے)،ہمیں ایک محفوظ ماحول دیں ہم آپ کو ایسی نسلیں دیں گے جو چہار دانگ عالم میں دینی شعور کو پروان چڑھادیں۔

مربیانہ انداز:

کرم خوردہ دلوں پہ واقعی سانپ لوٹ جاتے ہیں جب ہم مردوں کی بے جا خواہشات کو پورا نہ کر سکیں۔فطری چیزیں پورا کرنے میں کسے انکار ہوسکتا ہے مگر اسے بہانہ بنا کر کوئی شخص ہمیں نفسیاتی مریضہ بنا دے تو ویل ہے ایسے شخص پہ اور ایسی تہذیب کے اقدار پہ۔ایسے میں آپ کو مان لینا چاہیے کہ ہماری تہذیب منافقانہ اقدار کو بھی ہوا دیتی ہے۔میری سہیلی کی ماں اور گھر والے اس کی شادی اس لیے نہیں کرانا چاہتے اگر وہ چلی گئی تو گھر کون سنبھالے گا! خواتین کی تحریروں میں ہم آج بھی گلابی رنگ ڈھونڈتے ہیں جب کہ ہماری بہت سی بہنوں نے مغربی ممالک میں جنسی ہجرت کو اپنا لیا ہے شاید ہندوستان میں بھی اپنانا شروع کردیں یا کر دیا گیا ہو؛جنسی ہجرت دراصل جنس کی تبدیلی کا نام ہے۔ایسا عورتوں کی اس نفسیات میں مبتلا کرنے والی تہذیب کا تمام قسم کی اخلاقیات سے بے بہرہ ہوجانے کی وجہ سے ہے وہیں ان کی تربیت پہ کم توجہ دینا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے؛یا آپ اس کی جو چاہے تاویل کر لیں۔

جس تہذیب کے پاس ”صرف“  تعلیم ہو وہ تو تباہ ہوتی ہی ہے اور جس تہذیب کے پاس تعلیم نہیں ہوتی وہ ایک جہالت زدہ پدرانہ نظام کے ہتھے  بالآخر چڑھتی ہے،کم سے کم تاریخ ہمیں یہی بتائے گی۔اب اگر تہذیب خود بھی تربیت کے نام پہ دو راہیں نکالے اور مربی بننے کے نام پہ نسائی شعور کو کنٹرول رکھنے اور ماتحت بنانے کے لیے نئی نئی ترکیبیں نکالے تو ہم بلا قید مسلک و ملت اپنے لوگوں کے پاس کیوں رہیں؟ ہمارا ایسے ماحول میں دم  کیوں نہ گھٹے؟ ہم محلہ میں برقعہ اور محلہ سے باہر اسکرٹ میں کیوں نہ گھومیں؟ ہم فرار اختیار کیوں نہ کریں؟ جب ہم اس موضوع پہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا مربیانہ انداز ہمارے تمام تر غموں کو اپنی دانست میں ختم کرکے چند حوالہ جات،وراثت،طریقہ،روایت کی دہائی دیتا ہے۔جب ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہماری ماں ہمارے بھائی کو دودھ کا پیالہ ناشتہ میں پہلے دیتی ہے اور ہمیں چائے روٹی تو آنکھوں سے سیلاب کیوں نہیں بہہ پڑتا!

میں غلیظ ہوں،میں خبیث ہوں……۔یہ محترمہ اقرا خلجی کے جملے ہیں جسے انھوں نے چند دنوں پہلے بی بی سی پہ اور دوسری جگہوں پہ وائرل کیا۔ان کے یہ جملے ہماری مہذب اور پڑھی لکھی دنیا میں عورتوں کے اعضاء کو لے کر کانا پھوسی کرتے ہوئے وجود میں آئے۔وہ شاعرہ بھی ہیں۔میرے حساب سے ایک پڑھے لکھے معاشرہ سے آپ پرورٹڈ خیالات کی امید نہیں کر سکتے۔میں بھی ایسا ہی سوچتی ہوں۔میں ایک مدرسہ کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ بھی ہوں،میرا بہت گہرا رشتہ ایک دینی گھرانے سے ہے۔مگر آج جب میں ایک دین والے معاشرہ سے ذرا قریب بھی جاتی ہوں تو مجھے اس سے زیادہ برے سلوک اور پرورژن کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو پہلی حالت میں صرف ایک ہائیلی کوالیفائیڈ یونیورسٹی کے ماحول میں آزاد سوچ کے نام پہ تھا۔

اب یہ خیال چھوڑ دو کہ آرائش ہے تخلیق میری...... یہ بہن خلجی کے اشعار کے آخری جملے ہیں۔

ہماری جنریشن ایک دباؤ اور معاشرتی پریشر سے تو بھاگنے کا انتظام کر چکی ہے مگر کیا اس کے پاس اباحیت والے دروازے کے علاوہ کوئی اور دروازہ ہے؟ ہماری نسل،ہماری ہی تہذیبی نظام سے بد دل ہے اور ہمارے علماء سے نظریں چرانے لگی ہے.... کیا پھر ہماری نیتوں میں کوئی کھوٹ ہے؟

(میں شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ہمارے کچھ خیر خواہ کا جنھوں نے مجھے بہت پرانی مگر ضروری بات کہنے کا راستہ سجھایا اور میزان بھائی کا جن کے غائبانہ تعارف نے مجھے ڈھارس بندھائی اور یہ بتایا کہ نجات دہندہ آچکا ہے اور علماء تیار ہیں نئی نسل کو مخاطب کرنے کے لیے)

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (17)

ا
اختر جاوید
30 جولائی، 2020
مسلم معاشرہ،ابتذال آمیز مشرع معاشرہ ہے، جہاں شریعت کی کم اور ابتذال کی اہمیت زیادہ ہے۔۔ عورت کو لیکر ہمارا معاشرتی ذہن مذھبی نہیں بلکہ مبتذل ہے لہذا دین اور مسلم معاشرتی کلچر دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔۔ذہن دونوں کو گڈ مڈ کرنے سے خراب ہوتا ہے۔۔۔۔ عورت کو دیکھنے، سمجھنے اور احترام کا سارا جذبہ روایتی ہے، ہم قدیم کشتہ تہذیب کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔۔
ع
عبدالرحمان محمد عظیم
11 مارچ، 2019
میں مضمون میں کچھ الجھا لیکِن کمینٹ کو پڑھا تو بات سمجھ میں آئی۔ میں شہلا تبسّم بہن کا شکر گزار هوں کہ انہوں نے دور جدید کو مدّ نظر رکھتے ہوئے تعلیم نسواں کے تعلق سے کچھ کہنا چاہا ہے میں بھی اُن باتوں سے متّفق ہون لیکِن ہمیں دور جدید میں پڑ کر اپنے آخرت کو ہرگز نہیں بھولنا چاہئے۔ ہمارے شریعت میں ہر كام جائز اور درست ہے سوائے ان کے جن سے اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہو يا جو گناہ کا سبب بنتا ہو۔ اِس میں کوئی شک نہیں اسلام عورت کو اعلٰی تعلیم حاصل کرنے اور اس کو حسب ضرورت عوام میں عام کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس میں بھی شریعت کی تابعداری ہونی چاہیے(جس کا شریعت ہم سے مطالبہ کرتی ہے) اسی طرح دیگر تمام معالات میں چاہے تعلیم ہو job ہو گریلو رھن سہن ہو مرد اور عورت دونوں کو شریعت کے حد میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔
ن
نورا حنبلی
10 مارچ، 2019
السلام وعليكم، مس تبسم، شکریہ آپ نے اپنا مضمون شيئر کیا. آپ کے مضمون نے مجھے بھی بہت سی چیزیں کہنے کی ہمت دلائی ہے. کہی جانے والی بات کو باغیانہ رنگ دینا یا گمراہی کے زمرے میں پہلی فرصت میں رکھ دینا کسی بھی معاشرہ کے لئے اچھا نہیں. میں آپ کی جرات کی داد دوں گی، اور آپ کی معتدل بات کی اتباع بھی کروں گی. دراصل ہمارے دینی طبقے میں یہ رجحان زیادہ ہےجس کے بنا پہ وہ یہ سمجھا ہے کہ اسے تمام موجودہ معروفات کا اسلامی نکتہ نظر سے علم ہے. اور نئے بولنے والے دراصل اسلام کے حدود سے باہر آنے کے بعد باتیں کر رہیں ہیں. اللہ ھدایت عام کردے میں چند دنوں میں فرصت کے ساتھ اپنے خیالات یہاں پیش کرنا چاہوں گی.انشاء اللہ
ص
صالح بدر
10 مارچ، 2019
ماشاءاللہ زبردست
ت
تبسم
10 مارچ، 2019
آپ کو کیا لگتا ہے عورت جذبات ہوتی ہے؟ جذباتی ہونے سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اگر میں کہوں آپ کی امی٪89 گھر کا انتظام سنبھالی ہیں تو کیا وہ جذباتی ہیں؟اگر جذباتی ہوتیں تو وہ چیزیں سنبھال پاتیں؟
ت
تبسم
9 مارچ، 2019
میں نے اپنے مضمون میں یہ ذکر کیا ہے کہ عورتیں زندہ گاڑی جاتی تھیں عرب میں، آقائے نامدار، تاجدار مدینہ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے یہ لعنت ختم ہوئی، یہ پدرانہ نظام کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ نظام کی اصلاح تھی. ٹھیک اسی طرح آج عورتیں بالخصوص پروفیشنل اور انڈسٹریل دنیا میں داخل ہو چکی ہیں خود آپ بیسویں خواتین کو جانتے ہوں گے جو انڈسٹریل دنیا کا اہم حصہ ہیں مگر اخلاقیات والی دنیا، اسلام، ہمارا معاشرہ انہیں کیسے ڈیل کرتا ہے؟ کیا وہ سب بد کار ہیں؟ مری بہت سی دوست کال سینٹرز میں جاب کرتی ہیں، اپنا خرچہ اٹھاتی ہیں، اپنی امی کا کینسر کا علاج کراتی ہی اور جماعت کے ساتھ نماز بھی پڑھتی ہیں، روزوں کا اہتمام بھی کرتی ہیں. اور گھریلو چیزیں بھی کرتی ہیں کیا وہ سب برباد ہو رہی ہیں، میرے حساب سےنہیں. وہ پاکباز ہیں اور زندگی جس طرح ہے اسے شکوہ کر. ے کے بجائے پاک بازی سے نبھا رہیں ہیں. آپ انہیں بدکار، مجرم خراب نہیں کہہ سکتے اس لئے کہ آپ نے انکی زندگی بدلنے کے لئے کچھ نہیں کیا...(برا نہ مانیں یہاں آپ سے مراد علماء کی وہ جماعت جس کے پاس ادارے ہیں، پیسہ ہے اور طاقت اور بہت سے مدارس ہیں) ایک عور ت تجارت کے لئے اٹھتی ہے تو اس پہ ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ... یہ الفاظ وہ استعمال کرتے ہیں جو کتاب و سنت کے رکھوالے خود کو سمجھ رہیں ہیں ( اس کا صحافتی کیس میں نے حیدرآباد کی کسی خاتون کے سلسلے میں دیکھا تھا) آپ کتنے علماء اور کتنے لوگوں کوجانتے ہیں جو 100 پرسنٹ حلال کی کمائی کھا رہیں ہیں. میرے حساب سے بہت کم لوگ. خواتین کی محکومی اور مردوں کی قومیت کا فرق مجھ پہ واضحی ہے مگر میں آپ سے درخواست کروں گی کہ آپ ایک عالم، ہونے کی حیثیت سے اس پہ کچھ لکھیں. جدید نسائی جذبات مجرم نہیں ہیں، انہیں کوئی آپشن ہی نہیں دیا گیا. آپ خود بتائیں کہ آپ نے جدید دنیا اور جدیم تعلیم کو سمجھنے کے لئے کیا کیا. کیا آپ کے یہاں کوئی خاتون نہیں جو یونیورسٹی میں پڑھ رہیں ہیں؟ کیا یونیورسٹی کی ساری لڑکیاں جدید تعلیم حاصل نہیں کررہی ہیں؟ . کیا وہ سب مجرمانہ ذہنیت والی ہیں؟ . کیا ان سب کے جذبات شل ہیں؟ کیا وہ سب عملی زندگی میں ناکام ہیں؟ نہیں. بلکہ میں مدارس کی طالبات سے رابطے میں ہوں زیادہ تر وہ گھر نہیں سنبھال، پاتیں، ہر لمحہ ان کی زبان پہ طلاق لے لوں گی ہی رہتا ہے... . اعلی تعلیم کے لیول پہ آپ نے انہیں اسلامی تربیت پہ مبنی کوئی علم حاصل کر. ے کا نظام نہیں دیا. آپ کیا محسوس کریں گے جب آپ کو یہ بتایا جائے گا، آپ کے ادب کا ایک بہت بڑا حصہ اس شعور پہ مبنی ہے جسے پدرانہ نظام کے خلاف سمجھا جاتا ہے. آپ کی یونیورسٹیز میں پدرانہ نظام کے خلاف باقاعدہ سینٹرز ہیں.، اسباق اور علمی نصاب ہیں. ان سب کے باوجود آپ یہ کہہ کر نہیں جا سکتے "آپ نے جدید علم سے متاثرہ مجرمانہ ذہنیت والی جذباتی مایوس خواتین کو دریافت کر لیا". معاف کیجئے گا میں لکھنے میں زیادہ وقت لگاتی ہوں، اردو بھی بہت اچھی نہیں، غلطیاں نظر انداز کریں. میں آپ کے علمی انداز سے بہت متاثر ہوئی ہوں
ت
تبسم
9 مارچ، 2019
سر شکریہ، دیر سے جواب کے لئے معافی. اس پورٹل پر جتنے مقالے آپ کے ہیں انہیں دیکھ کر میں ہمت ہی نہیں جٹا پارہی تھی کے ریپلائی لکھوں. آپ کے تمام مقالے ایک اچھی اور تعمیری فکر لئے ہوئیں ہیں... تعمیر کی خواہش نے مجھے تعمیری کام کرنے والوں سے ملوایا ہے. میں صرف لکھ کر بیٹھ جاتں تو لکھنے کا فائدہ ہی نہیں تھا... آپ کے فیصلے پہ بڑی حیرت ہوئی کہ میرا یہ مضمون میری کسی مظلوم بہن جس کے پاس کوئی سلیم الطبع شخص گیا بھی نہیں، بات بھی نہیں کی، سے متاثر ہے. . جب کوئی انسان کسی نظام سے بھاگنے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جرم کی طرف بھاگ رہا ہے، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جرم سے بھاگ رہا ہے. میں یہ کہہ ے کی ہمت نہیں کر سکتی کہ آپ نے پدرانہ نظام جب کہا گیا تو آپ نے پدرانہ نظام سے کیا سمجھا. مگر میں یہ ضرور چاہوں گی کہ آپ ہماری دیگر بہنوں کے لئے کچھ یوں لکھیں جس سے یہ سمجھ آئے کہ آپ ہمارے لئے بالخصوص اس موضوع کو لیکر کیسے ہماری تربیت کرتے ہیں یا، آپ، کا کیا پلان ہے! پدرانہ نظام میرے نزدیک ایک فطری قانون ہے. اس سے فرار ہم نہیں چاہتے مگر پدرانہ نظام کے ہائی کلاس، دین کو ہی کنٹرول کرنے والے جب یہ کہیں کہ عورت قرآن نہیں پڑھ سکتی، عورت دین نہیں پڑھ سکتی اور عور بس چند چیزیں پڑھ سکتی ہیں تو آپ کیا کہیں گے؟ میں نے بہت سے عورتوں سے بات کی ان کے ہاں یہی بات آج بھی ہے. وہ کہتی ہیں کہ جو ہمارے عالم کہیں گے ہم وہی کرنا چاہیں گے. میں نے اپنے شوہر اور سسر سے اس موضوع کو ذکر کیا تو وخود کہنے لگے روشن خیالی ہندوستان میں جہاں سے پھوٹی وہاں عورت کی تعلیم کی بات جب بھی آئی تو مردوں پہ لرزہ طاری ہو گیا... جب کسی نظام میں خرابی کی بات کی جاتی ہے یا اس کے خلاف آوازیں اٹھنی لگتی ہیں تو اس کا معنی یہ بھی ہوتا ہے ناپ تول میں کہیں نہ کہیں کمی کی گئی ہے.
ت
تبسم
9 مارچ، 2019
سر شکریہ، دیر سے جواب کے لئے معافی. اس پورٹل پر جتنے مقالے آپ کے ہیں انہیں دیکھ کر میں ہمت ہی نہیں جٹا پارہی تھی کے ریپلائی لکھوں. آپ کے تمام مقالے ایک اچھی اور تعمیری فکر لئے ہوئیں ہیں... تعمیر کی خواہش نے مجھے تعمیری کام کرنے والوں سے ملوایا ہے. میں صرف لکھ کر بیٹھ جاتں تو لکھنے کا فائدہ ہی نہیں تھا... آپ کے فیصلے پہ بڑی حیرت ہوئی کہ میرا یہ مضمون میری کسی مظلوم بہن جس کے پاس کوئی سلیم الطبع شخص گیا بھی نہیں، بات بھی نہیں کی، سے متاثر ہے. . جب کوئی انسان کسی نظام سے بھاگنے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جرم کی طرف بھاگ رہا ہے، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جرم سے بھاگ رہا ہے. میں یہ کہہ ے کی ہمت نہیں کر سکتی کہ آپ نے پدرانہ نظام جب کہا گیا تو آپ نے پدرانہ نظام سے کیا سمجھا. مگر میں یہ ضرور چاہوں گی کہ آپ ہماری دیگر بہنوں کے لئے کچھ یوں لکھیں جس سے یہ سمجھ آئے کہ آپ ہمارے لئے بالخصوص اس موضوع کو لیکر کیسے ہماری تربیت کرتے ہیں یا، آپ، کا کیا پلان ہے! پدرانہ نظام میرے نزدیک ایک فطری قانون ہے. اس سے فرار ہم نہیں چاہتے مگر پدرانہ نظام کے ہائی کلاس، دین کو ہی کنٹرول کرنے والے جب یہ کہیں کہ عورت قرآن نہیں پڑھ سکتی، عورت دین نہیں پڑھ سکتی اور عور بس چند چیزیں پڑھ سکتی ہیں تو آپ کیا کہیں گے؟ میں نے بہت سے عورتوں سے بات کی ان کے ہاں یہی بات آج بھی ہے. وہ کہتی ہیں کہ جو ہمارے عالم کہیں گے ہم وہی کرنا چاہیں گے. میں نے اپنے شوہر اور سسر سے اس موضوع کو ذکر کیا تو وخود کہنے لگے روشن خیالی ہندوستان میں جہاں سے پھوٹی وہاں عورت کی تعلیم کی بات جب بھی آئی تو مردوں پہ لرزہ طاری ہو گیا... جب کسی نظام میں خرابی کی بات کی جاتی ہے یا اس کے خلاف آوازیں اٹھنی لگتی ہیں تو اس کا معنی یہ بھی ہوتا ہے ناپ تول میں کہیں نہ کہیں کمی کی گئی ہے.
ت
تبسم
9 مارچ، 2019
آپ کا بہت بہت شکریہ. میں بہت زیادہ خوش ہوں کہ کسی نے اس طرح کے موضوع کو پڑھنے کے بارے میں سوچا بھی.مضمون کا کوئی ایسا دنیا بدل دینے والا موقف نہیں جو ہے اس سے آپ کے اس پورٹل کے ذمہداران واقف ہیں... مسائل کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش ہے. الجھاؤ کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے. وجہیں اور دیگر ضروری چیزیں تو اب آنی چاہئیے جب کہ بات شروع ہو گئی ہے. میں کوشش کروں گی.... اپنی مصروف دکھنے والی بہنوں سے کچھ کہنے کی گذارش کروں. میں آپ سے بھی درخواست کرتی ہوں اس موضوع پہ سوچیں اور بات آگے بڑھائیں. ہمارے گھر بھی زیادہ تر علماء کی باتیں جب چلتی ہیں تو یہی بات آتی ہے.... فلاں نے یہ کہا، فلاں کی یہ رائے ہے مگر کسی بھی خاتون عالمہ کا ذکر میں نے کسی کے منھ سے آج تک نہیں سنا. کیا ہمارے پاس ایک بھی دینی عالمہ نہیں جو کم سے ہمارے مسائل سے واقف ہو، نئے مسائل کو جاننا چاہتی ہو، اور علی العموم علماء نے جہاں جہاں تاویل سے کام لیا ہے ان جگہوں کی نشاندہی کر سکیں. اور علماء کب تک یہ کہہ کر کام چلاتے رہیں گے... ہم نے عورت کے ساتھ ظلم نہیں کیا... غیر مسلک والوں نے کیا ہے. باقي علماء ہی مسئلوں کا حل دیں گے... جس کے لئے فری لانسر سے زیادہ اچھی جگہ اردو میں بہت کم دکھی.. *میری اردو بہت اچھی نہیں، دیر سے جواب کے لئے معافی. میں اپنے اساتذہ اور دیگر بہنوں سے مدد لیکر لکھنے کی کوشش کرتی ہوں.
ت
تبسم
9 مارچ، 2019
کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ عورتیں جذباتی ہوتی ہیں؟ کھلے ماحول میں ایسا کیا ہوتا ہے کہ عورتیں راہ سے بھٹک سکتی ہیں؟
ر
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)
9 مارچ، 2019
بحث اس سے نہیں کہ جو کچھ تحریر کیا گیا ہے، اس میں عقل وفطرت کی کتنی رعایت کی گئی ہے،ہمارے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ دور حاضر کے نسائی جذبات سامنے آرہے ہیں۔پدرانہ نظام شاید ان جذبات کا اظہار نہیں کرسکتا تھا۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا اگر مادرانہ نظام کی تشکیل اور صورت گری کی جائے۔اقرا خلجی کی نظم بھی اسی ضمن میں سنی جس سے متاثر ہوکر مضمون لکھا گیا ہے۔چند لوگوں کے غلط رویے سے پورے سماج کو ہدف ملامت بنانا مناسب نہیں ہے۔دور حاضر میں فکر وعمل کی جو آزادی نظر آرہی ہے،اس پر عمل پیرا ہونے سے کوئی روکتا کہاں ہے۔خواتین اگر یہ سوچتی ہیں کہ وہ وظیفۂ زوجیت ادا کرتے ہوئے مردوں کی محکومی میں زندگی گزار رہی ہیں تو یہ وہ احساس کمتری ہے جس میں خواتین کو مبتلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔نظام فطرت میں دونوں ایک دوسرے کے محتاج نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کا سامان فراہم کرتے ہیں۔رحم مادر میں بچوں کی پرورش اور ان کی رضاعت وحضانت فطرت کی تقسیم کا نتیجہ ہے۔یہ پدرانہ نظام کا جبر نہیں۔ضرورت ہے کہ آزادی نسواں کی تحریک سے وابستہ خواتین کے احساسات اور جذبات سامنے لائے جائیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں آسودگی کی کتنی منزلیں طے کی ہیں،کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے۔فطری مقتضیات یک طرفہ نہیں دو طرفہ ہیں اور نسائی جذبات پر اسٹڈی بتاتی ہے کہ ہیجانی لمحات میں کس کو خود پر اختیار رہتا ہے اور کون اپنے اختیارات پر قابو رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔بہر حال میں مضمون نگار صاحبہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے صاف اردو میں وہ خیالات پیش کیے ہیں جن پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔شاید اسی راستے سے دور حاضر کے اس سنگین مسئلے کی تفہیم میں مدد ملے۔امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور علمائے اسلام کو ان پہلووں پر غور کرنے کے مواقع ملتے رہیں گے۔
ص
صلاح الدین
8 مارچ، 2019
آجکل ہندوستان کے جامعات کا ماحول کچھ الگ ہے۔۔۔ گارجین کو ضروری ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت نئے دور کے حساب سے فرینڈ کی حیثیت سے کریں تو ضرور کچھ مثبت اثرات ملیں گے
ص
صلاح الدین
8 مارچ، 2019
ماشاءاللہ بہت عمدہ تحریر۔۔۔۔ مجھے امیدہے آگے بھی ان شاءاللہ اس سے بہتر مضامین پڑھنےملےگا۔۔۔
ا
ام ھشام
8 مارچ، 2019
میرا پسندیدہ موضوع ہے بڑے انہماک سے پڑھ رہی تھی لیکن جوں جوں تحریر آگے بڑھی۔۔۔۔الجھاو بڑھتا گیا۔۔۔ مجھے واقعی سمجھ نہیں آیا اخیر تک کہ شکوہ کس بات کا ہے؟ موقف واضح نہیں ہورہا۔۔۔مسائل کا ذکر اپنی جگہ برحق لیکن causesبھی مینشن کئے جاتے مختصرا ان کا حل بھی بیان کیا جاتا تو شاید۔۔۔تحریر کی چھب ہی الگ ہوتی۔ بہر حال اسلوب بہت جاندار ہے بارک اللہ۔۔۔
M
Mohammad Asim
8 مارچ، 2019
عموما عورتیں جذباتی ہوتی ہیں اگرچہ وہ دینی درسگاہوں سے کیوں نہ پڑھی ہوں جب وہ کھلے ماحول میں آتیں ہیں تو اس بات کا قوی امکان رہتا ہے کہ کہیں راہ سے بھٹک نہ جائیں ایسے میں ان کو اعلی تعلیم دلانے میں لوگوں کو بڑے تحفظات ہوتے ہیں.... اس مشکل کا حل کیا ہوسکتا ہے یہ بڑا سوال ہے
س
سعد احمد
8 مارچ، 2019
غالباً اقرا خلجی جن کی محترمہ تبسم نے بات کی یہی ہیں. https://youtu.be/yKlwuzlUw7o
M
Md Serajuddin
8 مارچ، 2019
Bahut hi jandar Mazmoon

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اب یہ خیال چھوڑ دو کہ آرائش ہے تخلیق میری - دی فری لانسر | دی فری لانسر