جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

یہ خواب آنکھوں میں نہ ہوتے تو پھردنیامیں کیاہوتا

کلام: فائز بلرامپوری13 مارچ، 20191,716قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ خواب آنکھوں میں نہ ہوتے تو پھردنیامیں کیاہوتا
میں اک سوکھےشجرکی شاخ بن کےگرگیاہوتا
میری بے تابی ٔ حسرت کو ہے اک ضبط ِ دل لاحق
وگرنہ شہرمیں ہرروز اک محشر بپا ہوتا
مری کیفیت ِ سوزِ جگر کو مہربان ِ غم
جنوں کہتے اگر ہنگامہ ٔ دل بےنوا ہوتا
تکلف!زندگی میں برطرف کرتے ہوئے جانا
کہ پیہم میں نہ ہوتا گر تکلف آشنا ہوتا
اندھیروں پربھی قابض ہےاجالے بھی اسی کےہیں
کہ ہم بھی روشنی کردیتے گر کوئی دیا ہوتا
مجھےبھی عالم ہستی میں مل جاتی کوئی منزل
جو کوئی ہم نفس ہوتا،جو کوئی ہم نوا ہوتا
ترا کیا اعتبار اے زندگی! آئے کہ ہم اب تک
پس خاک ِ وطن ہوتے جو تیرا آسرا ہوتا
چلے جاتے اکیلے جانب ِملک ِ عدم فائز
اگربے خانماں رہ رو کا کوئی نقش پا ہوتا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

س
سعد احمد
15 مارچ، 2019
اچھا لہجہ

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

یہ خواب آنکھوں میں نہ ہوتے تو پھردنیامیں کیاہوتا - دی فری لانسر | دی فری لانسر