جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کرائسٹ چرچ دہشت گردانہ حملہ: منظر، پس منظر، پیش منظر

تحریر: شمس الرب خان15 مارچ، 20192,147قارئین5 تبصرےمطالعے کا وقت: ۵ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کرائسٹ چرچ دہشت گردانہ حملہ: منظر، پس منظر، پیش منظر
فل اسکرین دیکھیں

دہشت گرد تو صرف مسلمان ہوتے ہیں،جناب۔دیگر تو صرف نفسیاتی مریض ہوتے ہیں جو ردعمل میں معصوم لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں۔نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جو ہوا،وہ اگر کسی ایسے شخص نے کیا ہوتا جس کا نام مسلمانوں جیسا ہوتا،تو میڈیا کے تمام پلیٹ فارموں بشمول سوشل میڈیا پر وہ طوفان بدتمیزی مچ جاتا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ بلک بلک کر اپنے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی صفائی دینے پر مجبور ہوجاتے گرچہ ان میں سے کسی کا بھی اس واقعہ سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہ رہا ہو۔لیکن چونکہ اس 'غلطی' کا صدور ایک ایسی قوم کے فرد سے ہوا ہے جو 'مہذب'،'انسانیت پرست'،'حقوق انسانی کی محافظ' اور 'حقوق نسواں کی رکھوالی' ہے،اس لیے یہ ذہنی پریشانی اور نفسیاتی بگاڑ کے سبب پیدا شدہ ایک 'شاذ' اور 'انفرادی' واقعہ ہے۔میڈیا بلکہ دنیا پر قابض طاقتوں کو اتنی رعایت تو بنتی ہے نا! یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ 'اسلامی دہشت گردی' کہہ کہہ کر گلا پھاڑنے والی نام نہاد روشن خیالوں کی ٹولی منہ میں پتھر ڈال کر بیٹھی ہوئی ہے۔جان لو،منافقت اور مکاری ان کی سرشت میں ہے۔۔۔

دور جدید کی تاریخ دیکھیں تو سب سے زیادہ قتل و خونریزی انہیں نام نہاد تہذیب کے علمبرداروں نے کی ہے۔پہلے استعماری طاقت کے طور پر اصل باشندوں اور تیسری دنیا کے عوام،پھر مارکیٹ پر تسلط کے لیے آپس ہی میں تباہی و بربادی کا جو کھیل انہوں نے کھیلا،وہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔

مابعد استعماری دور میں،کمزور ممالک پر مختلف حیلوں اور بہانوں سے لشکر کشی کرکے اور دشمن و دوست ممالک میں اپنی مقصد براری کے لیے مسلح تحریکوں کو اکسا کر اور انہیں ہتھیار فراہم کراکر جس قدر خون کی ہولی عالمی امن کے نام نہاد رکھوالوں نے کھیلی ہے،وہ غلیظ تہذیب کے ان بے شرم علمبرداروں کی پیشانی پر بدنما داغ ہے۔

الحاد،دین بیزاری،بے حیائی،بے غیرتی اور مادہ پرستی کی جن بنیادوں پر یہ تہذیب ٹکی ہوئی ہے،وہ کسی بھی فرد،خاندان،معاشرہ اور ملک کو کھوکھلا،بے روح اور تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔یہ تہذیب ایسے عناصر کا ملغوبہ ہے جو سب سے پہلے انسان کی انسانیت کو مسخ کرتے ہیں اور پھر اس کو ایک ایسے تاریک غار میں ٹائک ٹوئیاں مارنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جس کی تاریکی اس مسخ شدہ مخلوق کو روشنی لگتی ہے،حسن بن صباح کی بسائی ہوئی دنیا کے ان حشیش زدہ باشندوں کی طرح جو کھاتے تو مٹی تھے لیکن سمجھتے تھے کہ لذیذ ترین پھل کھا رہے ہیں۔مغربی دنیا کے علاوہ،اس مسخ شدہ مخلوق کی تعداد ہمارے سماج میں بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔سطحی علم رکھنے والے ایسے بہت سے نام نہاد دانشور ملیں گے جنہوں نے مغربی تہذیب کی تلچھٹ پی کر اپنے ذوق علم و آگہی کو سیراب کیا ہے اور اسی سے مرعوب و متاثر ہوکر ہر اس چیز کو قبول کرنا اور پھیلانا اپنا نصب العین بنا لیا ہے جو سماج میں مغربی غلاظت کو فروغ دیتی ہو،ساتھ ہی ہر اس چیز کو مسترد کرنا اپنا شیوہ بنا لیا ہے جس کا تعلق اسلام اور اس کے جانفزا اقدار و اصول سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ دور سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں،لعنت جو برستی رہتی ہے ان کے چہرے پر۔۔۔یاد رکھو،ان کی جیت کا مطلب ہے ایمان،حیا،امن اور استحکام کی شکست۔۔۔

مغربی تہذیب اصلا ایک دہشت گرد تہذیب ہے۔اس کے اصول واقدار،کارنامے اور تاریخ سب اس حقیقت کے شاہد ہیں۔نیوزی لینڈ میں جو ہوا وہ صرف اس طور پر منفرد ہے کہ ایک فرد نے اس دہشت گرد تہذیب کا وہ پردہ نوچ ڈالا جسے مغربی حکومتوں نے کمال مکاری سے 'دہشت گردی کے خلاف جنگ'،'عام تباہی کے ہتھیاروں کی بازیابی' اور نہ جانے کون کون سے خوشنما نعروں کی مدد سے تان رکھا تھا۔انفرادی دہشت گردی کے اس قسم کے واقعات کو کم از کم سرکاری سطح پر ضرور بالضرور 'دہشت گردی' کہا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہوگی،ضرور ہوگی لیکن صرف اس لیے تاکہ سرکاری دہشت گردی کا بھانڈا نہ پھوٹے اور یہ ننگا ناچ پردہ کے پیچھے بلا کم و کاست بدستور جاری رہے۔دنیا پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کے لیے ان کے لیے یہ بیحد ضروری ہے کیونکہ یہ تہذیب معصوموں اور کمزوروں کا خون چوس کر ہی پھلتی پھولتی ہے۔یہ بات گرہ میں باندھ لو کہ دہشت گردی کے بغیر مغربی تہذیب مرجائے گی۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (5)

a
ansari afrozahmed
16 مارچ، 2019
God prevent the world .
a
ansari afrozahmed
16 مارچ، 2019
You are right. This war starting from beginning. After 9/11 again coming up. America is ahead of terrorism. America started veitnaam war also 9/11 by excepted FBI chief. Good prevent the world .
ن
نورا حنبلی
15 مارچ، 2019
محترم، شکریہ. مغربی تہذیب کیا ہوتی ہے؟ براہ کرم وضاحت کریں. کیا مسجد کے نمازیوں پہ حملے کرنے والے مغربی حکومتیں ہیں، مغربی تہذیب ہے یا کوئی اور؟
ا
ابو الفضل
15 مارچ، 2019
افسوسناک حادثہ، دماغ کو ہلا گیا، زائد از پچاس مسلمانوں کو مسجد کے اندر جمعہ کے وقت گولیوں سے بھون دیا گیا، مذمت کے لیے الفاظ کم ہیں، اور ہم کر ہی کیا سکتے ہیں، مذمت ہی تو ہمارا شیوہ ہے، صبح سے اس واقعہ پر دنیائے سوشل میڈیا میں اس قدر اشتعال ہے کہ اللہ المستعان. عالمی میڈیا اور سربراہان کی طرف سے اسے "دہشت گردی" قرار دیے جانے پر بھی لوگ پتہ نہیں کس چیز کا مطالبہ پھر کررہے ہیں کہ اسے دہشت گرد کہا جائے. حادثے کی سفاکیت میں کوئی کلام نہیں، مگر اب ہمارے مفکروں کو موضوع مل گیا ہے مغرب کے خلاف جی بھر کر گالیاں دینے کو. یہی مفکر برصغیر میں مسلمانوں کی پسماندہ حالت سے صرف نظر کرتے ہیں، اپنے تعلیمی اداروں کو برسوں پرانی روش پر ہی رکھنا چاہتے ہیں، مبادا کہیں نئی تہذیب کے گندے انڈے انہیں زک نہ پہنچا دیں، خواہ اندرونی طور پر وہ کیسی بھی گندگیوں سے لبریز نہ ہوں. یہ جانکاہ دہشت گردانہ حملہ دعوت فکر دیتا ہے کہ میڈیا کے حلقوں میں ہماری کتنی اوقات ہے، اردو کے علاوہ ہم اور کس زبان میں اپنی بات کن کن لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں. ...الخ
ع
عامر انصاری
15 مارچ، 2019
بہت خوب اس دہشت گردانہ حملہ پر پہلی تحریر

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کرائسٹ چرچ دہشت گردانہ حملہ: منظر، پس منظر، پیش منظر - دی فری لانسر | دی فری لانسر