جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہر قدم حوصلہ لگتا ہے طلب لگتی ہے

کلام: صبا شعیب16 مارچ، 20191,401قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر قدم حوصلہ لگتا ہے طلب لگتی ہے
ناؤ ساحل سے کسی کی یوں ہی کب لگتی ہے
تجربہ کار جو کہتے تھے ہمیں بات کوئی
پہلے اچھی نہیں لگتی تھی پر اب لگتی ہے
قابو رکھ اپنی زباں پر کہ گھروں میں اکثر
آگ لگتی ہے تو اس کے ہی سبب لگتی ہے
طوق بد نامی کا پڑ جاتا ہے پل دو پل میں
نام کے واسطے دن لگتا ہے شب لگتی ہے
رب کے احکام کی تردید ہو جس محفل میں
کس طرح وہ ہمیں تقریبِ طرب لگتی ہے
دل دُکھائے کوئی تیرا تو دُکھانے دے صبؔا
چوٹ اب دل کو ترے چوٹ سی کب لگتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

ش
شمس الرب خان
24 مارچ، 2019
ما شاء اللہ، بہت خوب۔ ابتدائی کوشش کے طور پر کلام اچھا ہے۔ مشق کے ساتھ کلام میں نکھار آتا جائے گا، ان شاء اللہ۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہر قدم حوصلہ لگتا ہے طلب لگتی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر