انگریزی تحریر: عمران خان (وزیراعظم پاکستان)
یہ مضمون کئی سال پہلے “عرب نیوز” میں چھپا تھا اور اس وقت کافی پسند بھی کیا گیا تھا لیکن مغرب کی مادیت پرستی اور مذہب کی آڑ میں مشرق کی رسوم پرستی آج بھی پورے شباب پر ہے۔مغرب میں مادیت نے جہاں روحانیت کا گلا گھونٹ کر مذہب سے بیزاری کا اظہار کیا وہیں مشرق میں مذہب کو اپنے مفادات کے حصول کا وسیلہ بنا کر بھر پور استحصال کیا گیا۔آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی خرابی ہمارا کردار اور مذہب کو بالجبر تھوپنے کی داروغہ گیری ہے۔تحمل اور رواداری کا سرے سے فقدان ہے!
اب اس رویے کو بدلنے کی سخت ضرورت ہے اور اسی مناسبت سے اس مضمون کو اردو کے قالب میں یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
(مترجم)
۔۔۔۔۔۔۔۔
مغرب کو مادیت پرستی کی اتنی للک اور
مشرق کو مذہب سے اس قدر لگاؤ۔۔آخر کیوں؟
اردو ترجمہ: ریاض الدین مبارک
میری نسل ایسے وقت میں پروان چڑھی ہے جب استعمار کا مسئلہ بام عروج پہ تھا۔ہماری پرانی پیڑھی چونکہ غلام تھی اس لئے وہ لوگ برطانیہ کے سامنے بہت زیادہ احساس کمتری کا شکار تھے۔میں جس اسکول میں گیا وہ پاکستان کے تمام اشرافیہ اسکولوں کی طرح ہی تھا تاہم آزادی حاصل کرنے کے باوجود یہ سارے اسکول تب بھی اور آج بھی پبلک اسکولی بچوں کے نسخے ہی تیار کر رہے ہیں پاکستانی بالکل بھی نہیں۔
میں نے شیکسپیر کو پڑھا جو ٹھیک تھا لیکن پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال جیسا نہیں۔اسلامک اسٹڈیز کا سبجیکٹ کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔جب میں نے اسکول چھوڑا تو مجھے ملک کے معززین میں شمار کیا گیا کیونکہ میں انگریزی بول سکتا تھا اور مغربی لباس زیب تن کر سکتا تھا.
اسکول کے پروگراموں میں کبھی کبھی 'پاکستان زندہ آباد' کے نعرے لگانے کے باوجود میں اپنے ہی کلچر کو پسماندہ اور مذہب کو فرسودہ سمجھتا رہا۔ہمارے گروپ میں اگر کوئی مذہب پر گفتگو کرتا،
مغربی میڈیا کی طاقت کا ہی نتیجہ تھا کہ ویسٹرن فلمی ستارے اور پاپ اسٹارز ہمارے ہیرو بن چکے تھے۔مصیبت کا یہ بوجھ لئے جب میں آکسفورڈ پہونچا تو مسائل میں مزید الجھاؤ آیا۔آکسفورڈ میں نہ صرف اسلام بلکہ تمام مذاہب کو زمان ومکان کے غیر مطابق اور اولڈ فیشن سمجھا جاتا تھا۔
سائنس مذہب کی جگہ لے چکی تھی اور اگر کوئی چیز منطقی طور پر ثابت نہیں ہوسکتی تھی تو سرے سے اسکے وجود کو ہی مسترد کردیا جاتا۔تمام ما فوق الفطرت چیزوں کو فلموں تک محدود رکھا گیا تھا۔ڈارون جیسے فلاسفرز جنہوں نے اپنے ادھورے نظریۂ ارتقاء کی بنیاد پر مفروضی انداز میں آدمی کی تخلیق اور اسی طرح مذہب کو یکسر مسترد کردیا تھا،
مزید بر آں یوروپین تاریخ نے کلیسا کے ساتھ اپنا بھیانک تجربہ ظاہر کیا. تفتیشی عدالتوں کے دوران عیسائی پادریوں کی طرف سے کئے گئے وحشتناک مظالم نے مغرب کے دماغ پر ایک گہرا اثر چھوڑا تھا.
یہ سمجھنے کے لئے کہ مغرب کا میلان آخر سیکولرزم کی طرف اتنا زیادہ کیوں ہے،
تاہم مجھ جیسے لوگوں کو مذہب بیزاری کی طرف دھکیلنے والا سب سے بڑا عنصر یہ تھا کہ اسلام کے اکثر داعی حضرات چنندہ اسلام پر عمل کرتے تھے۔مختصر یہ کہ ان کی تبلیغ اور انکے عمل میں بہت بڑا فرق نظر آتا تھا. اس پر ستم یہ بھی ہوتا تھا کہ یہ لوگ مذہب کے پیچھے پوشیدہ حکمت وفلسفے کی وضاحت کرنے کے بجائے رسومات کہن پر حد سے زیادہ زور دیتے تھے۔
مجھے لگتا ہے انسان جانوروں سے الگ ہیں. جانوروں کو ٹریننگ دے کر مشق کرائی جا سکتی ہے مگر انسانوں کو ذہنی طور پر قائل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔اسی لئے قرآن مسلسل عقل ومنطق کو اپیل کرتا ہے۔حقیقت میں سب سے بری چیز جو دیکھی گئی وہ مختلف افراد اور گروہوں کی طرف سے سیاسی مفادات کے لئے اسلام کا استحصال تھا۔
اس طرح یہ ایک معجزہ ہی تھا کہ میں ملحد نہیں ہوا۔اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ میری ماں کا مذہبی اثر بچپن سے مجھ پر سایہ فگن رہا۔یہ میرا عقیدہ نہیں تھا بلکہ ماں سے محبت تھی کہ میں ایک مسلمان بنا رہا۔
اس کے باوجود میرا اسلام سیلیکٹیو تھا میں نے مذہب کے وہی حصے قبول کیے جو مجھے مناسب لگے۔نماز سے میرا تعلق صرف عیدین کی حد تک تھا اور کبھی کبھی جمعے کی نماز کے لئے جب میرے والد صاحب زور دے کر اپنے ساتھ مجھے مسجد لے جاتے تو چلا جاتا تھا۔
ان سب کے ساتھ بڑی آسانی سے پکا ‘براؤن صاحب’ یعنی خان بہادر بننے کے لئے میں آگے بڑھ رہا تھا۔آخر کار سارے دستاویزات تو میرے پاس اکٹھے ہوچکے تھے؛
خیر یہ سب راتوں رات نہیں پیش آیا۔
سب سے پہلے وہ احساس کمتری جو نسل در نسل موروثی طور پر مجھ میں منتقل ہورہا تھا وہ تب ختم ہوا جب میں عالمی سطح کا کھلاڑی بنا۔دوسری بات یہ کہ میری بودوباش دو ثقافتوں کے درمیان تھی اسکی وجہ سے میں ایک منفرد مقام رکھتا تھا اور اس طرح میں نے دونوں سماجوں کے فوائد اور نقصانات کو بغور دیکھنا شروع کیا۔
مغربی معاشرے میں تمام ادارے کافی مضبوط تھے جبکہ ہمارے ملک میں وہ ادارے مائل بہ انحطاط تھے تاہم اس وقت یہاں ایک گوشہ ایسا بھی تھا اور آج بھی ہے جہاں ہم ان سے ممتاز ہیں اور وہ گوشہ ہماری فیملی لائف کا ہے۔میں نے محسوس کیا کہ یہ مغربی سماج کا سب سے بڑا خسارہ تھا۔پادریوں کے ظلم سے رہائی حاصل کرنے کے چکر میں انہوں نے خدا اور مذہب دونوں کو اپنی زندگیوں سے نکال باہر پھینکا۔
سائنس اپنی بیش بہا ترقی کے ناطے بہت سارے سوالات کا جواب دے سکتی ہے لیکن دو سوالات ایسے ہیں جن کا جواب اس کے پاس نہیں ہے:
نمبر ایک: ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟
نمبر دو: بعد از مرگ ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
میں نے محسوس کیا یہی وہ خلا ہے جس نے مادہ پرستی اور عیش وتنعم والی تہذیب کو جنم دیا ہے۔اگر صرف یہی ایک زندگی ہے تو جب تک سورج دمکتا ہے ہمیں عیش کرنا چاہئیے اور اس کے لئے ہمیں دولت کمانی چاہئیے۔ایسی ثقافت ضرور انسانوں میں نفسیاتی مسائل پیدا کرے گی کیونکہ اس کی وجہ سے جسم اور روح کے درمیان عدم توازن پیدا ہوتا ہے.
نتیجۃ امریکہ میں،
چونکہ تمام اخلاقیات کی جڑیں مذہب میں پیوست ہیں اس لئے جب ایک بار مذہب کو ہٹا دیا گیا تو غیر اخلاقی قدریں تیزی سے پروان چڑھنے لگیں اور اس کا اثر براہ راست فیملی لائف پر پڑا۔برطانیہ میں طلاق کی شرح 60 فیصد ہے جبکہ ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ 35 فیصد سے زائد مائیں سنگل رہتی ہیں. تقریبا تمام مغربی معاشرے میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے لیکن سب سے زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ نسل پرستی کے جرم میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے. سائنس ہمیشہ انسانوں میں عدم مساوات ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے (حالیہ سروے کے مطابق امریکی سیاہ فام وہاں کے سفید فام لوگوں سے جینیاتی طور پر کم ذہین ہیں)۔یہ تو صرف مذہب ہے جو انسانوں میں مساوات کی تبلیغ کرتا ہے۔
1991 اور 1997 کے دوران ایک اندازے کے مطابق پورے یوروپ میں کل امیگریشن تقریبا 520،
80 کے دہے میں واقعات کا ایک سلسلہ رونما ہوا جس نے مجھے خدا کی طرف مائل کر دیا جیسا کہ قرآن کہتا ہے 'سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں’۔ان میں سے ایک تھا کرکٹ! جیسا کہ میں کھیل کا ایک طالب علم تھا جس قدر میں اس کھیل کو سمجھتا گیا اسی طرح میرے احساسات میں بھی اضافہ ہوتا گیا کہ جس چیز کو میں محض ایک موقعہ سمجھ رہا تھا وہ حقیقت میں اللہ کی منشا تھی۔یہ ایک ایسا نمونہ تھا جو وقت کے ساتھ مزید واضح ہوتا گیا یہاں تک کہ سلمان رشدی کی کتاب 'شیطانی آیات' آئی اور میں نے اسلام کو سمجھنے کے لیے مزید کوششیں کی۔
مجھ جیسے لوگ جو مغربی دنیا میں رہتے تھے،
چونکہ میں نے شدت سے محسوس کیا تھا کہ اسلام پر ہو رہے حملے غیر منصفانہ ہیں اس لئے میں نے لڑنے کا فیصلہ کیا اور تب مجھے احساس ہوا تھا کہ اس کام کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے میں ان سے تہی دامن ہوں،
میں بہت ہی اختصار کے ساتھ یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ میری نظر میں'حق کی دریافت' کیا ہے! قرآن میں ہمیشہ مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا جاتا ہے: جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کرتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ ایک مسلمان کا دو کام ہے؛
اللہ پر ایمان لانے کا سب سے بڑا اثر میرے اوپر یہ ہوا کہ میں انسانوں کے تمام خوف سے آزاد ہوگیا۔قرآن جب کہتا ہے کہ حیات وممات اور عزت وذلت سب اللہ کے اختیار میں ہے تو وہ انسان کو انسان کی قید سے آزاد کر دیتا ہے لہذا ہمیں دوسرے انسانوں کے سامنے جھکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس کے علاوہ چونکہ یہ دنیا نا پائدار ہے یہاں ہم ابدی زندگی کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔میں نے اپنے بنائے حصاروں کو توڑ ڈالا؛
اسلامی عقیدے کے دوسرے پہلو کی پیروی کرتے ہوئے میں زیادہ بہتر انسان بن گیا ہوں۔اپنی ہی ذات پر توجہ مرکوز رکھنے اور خود کے لئے جینے کے بجائے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالی نے مجھ پر اتنے سارے احسانات کئے تو شکران نعمت کے طور پر مجھے دوسرے نادار اور نعمت الہی سے محروم لوگوں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا چاہئیے۔لہذا میں نے کلاشینکوف اٹھا کر جنونی بننے کے بجائے اسلام کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے یہ عمل سر انجام دیا۔
میں ایک ایسا بردبار اور متحمل انسان بن گیا جو فلاحی کام کرتے ہوئے محروموں کے لئے شفقت محسوس کرتا ہے۔کامیابی کا سہرا اپنے سر لینے کے بجائے میں اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہوں،
ہمارے عوام کے خلاف مغرور ‘براؤن صاحب’ یعنی خان بہادروں کے رویے کے برعکس میں مساوات میں یقین رکھتا ہوں اور ہمارے سماج میں کمزور طبقے کے ساتھ ہورہی نا انصافیوں کا سخت مخالف ہوں۔قرآن کے مطابق ظلم قتل سے بڑھ کر ہے۔درحقیقت اسلام کا سچا مفہوم اب میری سمجھ میں آیا،
اپنے ایمان کے ذریعے میں نے اپنے اندر کی اس طاقت کو دریافت کر لیا ہے جس کا مجھے قطعی علم نہ تھا اور جس نے زندگی میں میری صلاحیتوں کو کار آمد بنایا ہے۔مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہمارا اسلام سیلیکٹیو ہے۔فقط اللہ پر ایمان لانا اور رسومات کی ادائیگی کرتے رہنا کافی نہیں ہے،
ان کی جو چیز مجھے ناپسند ہے وہ ان کا دوہرا معیار ہے۔وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت تو کرتے ہیں لیکن دوسرے ممالک کے شہریوں کو خاطر میں نہ لا کر انہیں اپنے سے کمتر درجے کا انسان سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پر اپنا سارا زہر آلود فضلہ تیسری دنیا میں ڈمپ کرنا،
پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں ان میں ایک مسئلہ دو رجعت پسند گروہوں کے مابین پولرائزیشن کا ہے۔ایک طرف مغرب کا دلدادہ گروپ ہے جو مغربی آنکھوں سے اسلام کو دیکھتا ہے اور موضوع پر اسکا علم ناکافی ہے۔جب بھی معاشرے میں اسلام نافذ کرنے کی کوئی کوشش کرتا ہے تو اسکا رد عمل بہت سخت ہوتا ہے،
کرنے کا کام یہ ہے کہ کسی طرح ان دو انتہا پسندوں کے درمیان بات چیت شروع ہو. مگر گفتگو کا یہ سلسلہ شروع کرنے کے لئے وہ گروپ جس پر ہمارے تعلیمی وسائل کا سب سے بڑا تناسب اس ملک میں خرچ کیا جاتا ہے اسے چاہئیے کہ وہ اسلام کا صحیح ڈھنگ سے مطالعہ کرے۔
لوگ چاہے با عمل مسلمان بن کر رہیں یا خدا پر یقین کرتے رہیں یہ مکمل طور پر ان کی اپنی پسند ہے۔قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ 'مذہب میں کوئی جبر نہیں ہے' تاہم انتہا پسندی سے لڑنے کے لئے خود کو علم ومعرفت کے ہتھیاروں سے مسلح کرنا پڑے گا۔انتہا پسندی پر صرف اپنی ناک موڑ لینے سے مسئلہ کا حل نہیں نکل سکتا۔
قرآن مسلمانوں کو 'درمیانی امت' یعنی امت وسط کے نام سے پکارتا ہے نہ کہ انتہاپسند سے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف پیغام دینے کے لئے کہا گیا تھا اس بات کی فکر کرنے کے لئے نہیں کہ لوگوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا یا نہیں۔لہذا اسلام میں دوسروں پر اپنی رائے تھوپنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔
اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دوسرے مذاہب،
اگر پاکستان کا مغرب پسند طبقہ صحیح معنوں میں اسلام کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو وہ نہ صرف فرقہ وارانہ نفرت اور انتہا پسندی سے لڑنے میں معاون ہوگا بلکہ یہ انہیں سمجھا بھی سکتا ہے کہ اسلام ایک ترقی پسند مذہب ہے۔وہ لوگ مغربی دنیا کو اسلامی نظریات زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کے لئے معاون بھی بن سکتے ہیں۔حال ہی میں پرنس چارلس نے اعتراف کیا کہ مغربی دنیا اسلام سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے جب وہ گروپ جو اسلام کو پیش کرنے کی سب سے اچھی پوزیشن میں ہے وہ اپنا رویہ مغرب سے حاصل کرتا ہے اور اسلام کو پسماندہ سمجھتا ہے۔اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اور اسی لیے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کے لئے رحمت قرار دیا گیا۔





