جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

درد رکھتا ہوں دل کے اندر تک

کلام: سحر محمود17 مارچ، 20191,937قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
درد رکھتا ہوں دل کے اندر تک
کیوں خبر پہنچے دیدۂ تر تک
ٹھہرو ٹھہرو ہے اتنی جلدی کیا
چھوڑ آؤں گا میں تمھیں گھر تک
تو لگاتا ہے آگ جو باہر
وہ پہنچ جائے گی ترے گھر تک
یہ تو سچ ہے کہ ایک قطرہ ہوں
میرے پاس آتے ہیں سمندر تک
اس نئے عہد کی محبت کا
رستہ جاتا ہے صرف بستر تک
یہ غزل ہے میاں! غزل سنیے
اتنا بھی سوچیے نہ اندر تک
جس کا مسلک فقط محبت ہے
ہے پہنچ اس کی دل کے اندر تک
کیوں نہ ہو پھر سحر خسارے میں
روٹھ جائے اگر مقدر تک
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

A
Abdul Noor Malik
17 مارچ، 2019
شاندار اور پر لطف غزل 💐💐💐 ڈھیروں مبارکباد قبول فرمائیں

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

درد رکھتا ہوں دل کے اندر تک - دی فری لانسر | دی فری لانسر