وحشت شوق ہے، دشت شب تنہائی ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وحشت شوق ہے، دشت شب تنہائی ہے
جستجو میرے تمناؤں کی صحرائی ہے
اے دل شوق ٹھہر! پائے تمنا رک جا
اب نہ وہ راہ ہے ان سے نہ شناسائی ہے
حال دل کون سنے، چارہ گری کون کرے
شہر کا شہر یہاں آج تماشائی ہے
نوچنا کرب سے میرا بھی یہ پیراہن دل
یہ بھی انداز وہی تیرا زلیخائی ہے
یہ ترا طرزِ تغافل بھی کہ ہمراہِ حیات
تجھ سے بہتر تو مرے ساتھ کی تنہائی ہے
اپنے خوابوں کو اسیر شب ہجراں کرکے
اپنے ارماں کو قبا ضبط کی پہنائی ہے
آج پھر تجھ کو بھلانے دینے کی کوشش کرکے
آج پھر آنکھ تری یاد میں بھر آئی ہے
پیکر یار میں موہوم سی دنیا گویا
خواب بن کر مری آنکھوں میں اترآئی ہے
نہ کوئی راہِ تمنا نہ کوئی راہ ِ فرار
زندگی مجھ کو خدا جانے کہاں لائی ہے
خود کو ہنگامۂ دنیا سے نہ جوڑو فائز
تم کو کافی تو یہی سورش تنہائی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





