دارالحکومت دہلی میں دریائے جمنا کے کنارے واقع پرانا قلعہ ہے جس میں شیر منڈل،
مسجد کے جنوبی سمت میں لکڑی کا دروازہ بھی ہے جو کہ بند ہی رہتا ہے اور اس کے ساتھ ہی مشرقی سمت میں سیڑھیاں بھی بنائی گئی ہیں جو قدرے تنگ اور اونچی ہیں۔جبکہ شمال مغربی اور جنوب مغربی کونوں پر مخروطی شکل کی تین درجوں میں مینار جیسی ساخت بنی ہوئی ہے،
اس مسجد میں صرف ایک ہی گنبد ہے جو اس میں انوکھا حسن پیدا کرتا ہے۔یہ درمیانی دروازے کے ایوان نما حصہ کے اوپر رومی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے جس پر دو دائروی کلس بنا ہوا ہے۔اور اس پر نہ تو چاند نصب کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز لیکن حالیہ دنوں میں کسی شر پسند نے اس دائروی کلس کے اوپر ترشول نصب کرکے اس کی حرمت و تقدس کو پامال کرنے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی مذموم سعی کی ہے۔حالانکہ یہ مسجد آثار قدیمہ کی نگرانی میں ہے اور اس کے لیے باقاعدہ گارڈ بھی متعین ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی حرمت و تقدس کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جارہا ہے اور اس میں نماز ادا کرنے کے علاوہ بقیہ تمام اعمال انجام دینے کی خاموش اجازت ہے جس کی جیتی جاگتی مثال اس پر نصب کیا ہوا ترشول ہے جو ان کے ناپاک عزائم کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔علاوہ ازیں دیگر امور سے شناسائی پر سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانان ہند بالخصوص اوقاف کمیٹی نیز مسلمانان دہلی کو اس قسم کی مساجد کی بازیابی کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے اور محکمہ آثار قدیمہ کے ساتھ حکومت ہند سے پر زور مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اس پر جلد از جلد نوٹس لیں اور اس قسم کی ویران مساجد کو ان کے وارثین کے حوالے کریں تاکہ وہ اس کو آباد کرکے اس کی حرمت و تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں پنچ وقتہ نماز کی ادائیگی کرسکیں۔اسی میں تحفظ بھی ہے اور اسی میں بہتری بھی۔
اللہ رب العالمین توفیق دے۔آمین







