برصغیر کی جماعت اہل حدیث اور اس سے وابستہ علماء کی متنوع خدمات سے واقفیت ان کتب سیر و تراجم سے ہوتی ہے جو ہمارے بعض علماء نے جماعت کی تاریخ اور جماعت کے علماء کی حیات و شخصیات پر تحریر فرمائی ہیں۔تمام تر کوششوں کے باوجود ماضی کی تاب ناک تاریخ کو کسی کتاب میں اس وجہ سے سمیٹا نہیں جاسکا کہ درمیان سے کئی ایک کڑیاں گم ہیں اور سلسلہ وار تاریخ موجود نہیں ہے۔مستقبل کے مورخ کو بھرپور مواد فراہم کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہماری ہر نسل اپنے معاصر علماء کی حیات اور خدمات کو قلم بند کرتی جائے۔بنیادی معلومات موجود رہیں گی تو ان کے سہارے تفصیل لکھی جاسکتی ہے۔
میں درخواست کروں گا سلفی جامعات و مدارس کے ان ذہین طلبہ سے جو لکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور جن کے اندر صحافتی ذوق پایا جاتا ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اپنی جامعات اور اپنے مدارس کے اساتذہ کرام کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کردیں۔کوئی ایک طالب بھی یہ خدمت انجام دے سکتا ہے اور کئی ایک ساتھی اجتماعی طور پر بھی اپنے اساتذہ کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔عنوان اس طرح قائم کریں: جامعہ اسلامیہ سنابل،
اسم گرامی مع ولدیت:
تاریخ پیدائش:
مقام پیدائش:
مکتب اور جامعات کے نام جہاں تعلیم پائی:
مکتب کے اساتذہ کرام:
عربی درجات کےاساتذہ کرام:
کس فن سے خصوصی لگاؤ ہے:
کن کتابوں کی تدریس تفویض کی گئی:
دعوت وتبلیغ کی کن ذمہ داریوں سے وابستگی ہے:
تنظیم اور جماعت کا کوئی منصب:
ممتاز تلامذہ کے اسمائے گرامی:
تصنیفی خدمات:
مضامین ومقالات:
رابطے کے پتے: (پوسٹل ایڈریس،
مزید کوئی خاص بات:
میرے مخاطب یہاں صرف جامعات کے ذہین طلبہ ہی نہیں بلکہ وہ اساتذہ کرام بھی ہیں جو کہیں دور دراز کے گاؤں دیہات میں تدریس اور دعوت کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہیں،
مجھے اس بات کا احساس ہے کہ ہمارے بعض محترم اساتذہ کرام اخلاص،
واٹس ایپ استعمال کرنے والے احباب سے درخواست ہے کہ یہ مضمون اپنے اپنے گروپس میں زیادہ سے زیادہ شیئر کردیں تاکہ تمام ریاستوں کے علمائے اہل حدیث تک یہ پیغام پہنچ جائے۔





