جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اے ظالمو، اے جابرو، اے فرعونو

تحریر: شمس الرب خان27 مارچ، 20181,381قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

اے ظالمو،اے جابرو،اے فرعونو!

کیا بگاڑا ہے تمہارا،

ان ننھے منے معصوم بچوں نے،

کہ جلا کر بھسم کردیتے ہو تم،

ان کے روئی جیسے نرم ونازک وجود کو،

کیا بگاڑا ہے تمہارا،

ان کی مسکراتی پیشانیوں نے،

جن پر ماؤں کی ممتا کا بوسہ مرتسم رہتا ہے،

کیا بگاڑا ہے تمہارا،

ان کے پھول جیسے گالوں نے،

جن پر پدرانہ شفقتوں کی شبنمی بوندیں جھلملاتی رہتی ہیں،

کیا بگاڑا ہے تمہارا،

ان کی توتلی زبانوں نے،

جو ہمکتی رہتی ہیں اپنی ماں کے آنچلوں میں،

کیا بگاڑا ہے تمہارا،

ان کے گداز ہاتھوں نے،

جن کا لمس غمزدہ دلوں کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے،

کیا بگاڑا ہے تمہارا،

ان کی معصوم آنکھوں نے،

جن میں رنگ برنگی تتلیوں کا جادو رقص کرتا رہتا ہے،

کیا بگاڑا ہے تمہارا،

ان کے ننھے ننھے پیروں نے،

جن کے سہارے دوڑتے دوڑتے وہ اپنے باپ کی آغوش میں سما جاتے ہیں.....

کیا تم میں انسانیت بالکل بھی نہیں بچی،

سچ بتاؤ.....

کیا تمہیں کچھ بھی درد محسوس نہیں ہوتا،

ان ہنستے کھیلتے بچوں کو مار کر،

کچھ بھی ٹیس نہیں اٹھتی،

کیا تمہارا ضمیر تمہیں کچھ بھی ملامت نہیں کرتا،

کیا تمہارا دل تھوڑی سی دیر کے لئے بھی نہیں مچلتا،

کیا تمہاری روح ذرا بھی بیقرار نہیں ہوتی.....

تف ہے تم پر،

تمہاری مردہ ضمیری پر،

تمہاری سنگ دلی پر،

تمہاری روح فراموشی پر.....

کیا کروگے تم،

جب یہ بچے کھڑے ہوں گے،

اپنے رب کے سامنے،

اور سسکتے ہوئے بیان کریں گے،

تمہارے مظالم کی خونچکاں داستان،

سامنا کر پاؤگے،

ان بچوں کا،

سامنا کر پاؤگے،

اس رب ذو الجلال کا،

جو مالک ہے عرش کا،

زمین و آسمان کا،

پوری کائنات کا،

تاب لا پاؤگے،

اس جبار وقہار کے قہر وغضب کا،

جس کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں،

زمین و آسماں،پہاڑ و بیاباں،بر و بحر،چرند و پرند.....

اے ظالمو،اے جابرو،اے فرعونو!

خدا کے غضب کو مت للکارو،

اس کے جبر و قہر کو دعوت نہ دو،

اس کے خلاف اعلان جنگ نہ کرو،

اے اقتدار کے نشہ میں مدہوش نادانو!

تم سے پہلے بہت سے آئے،

وہ تم سے کئی گنا زیادہ طاقتور تھے،

طاقت کا نشہ انہیں بھی ہوا،

اقتدار کا زعم انہوں نے بھی پالا،

وہ بھی تمہاری طرح خلق خدا پر ظلم کرنے لگے،

بچوں کو ذبح کرنے لگے،

عورتوں کو پا بہ زنجیر کرنے لگے،

آخرکار،ان کے پاپ کا گھڑا بھر گیا،

اور رب کی کبریائی نے جوش مارا،

اور ڈبو دیا انہیں ان کی سرکشی سمیت،

ہلاک کر دیا انہیں ہواؤں کے طوفانوں سے،

مار ڈالا انہیں فرشتوں کی چیخوں سے،

دھنسا دیا انہیں زمین کی پہنائیوں میں.....

اے ظالمو،اے جابرو،اے فرعونو!

باز آ جاؤ اور توبہ کر لو،

بند کردو یہ خونریزی،

اٹھا لو ہاتھ معصوموں کے قتل سے،

رک جاؤ بستیوں کو تاخت وتاراج کرنے سے،

تھام لو خود کو لہلہاتی فصلوں کو برباد کرنے سے.....

بچالو خود کو،

بچوں کے انتقام سے،

ظلم کے خمیازہ سے،

رب کے عذاب سے،

اے ظالمو،اے جابرو،اے فرعونو......

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اے ظالمو، اے جابرو، اے فرعونو - دی فری لانسر | دی فری لانسر