آج تین دنوں کے بعد وہ اپنے شہر غوطہ واپس لوٹ رہا تھا۔بزنس کے لئے بیرون شہر گیا ہوا تھا۔پہلے مہینے میں کئی چکر لگ جاتے تھے،
اس کی بیوی کی آنکھوں میں آنسو ہلکوریں مار رہے تھے۔وہ اسے کبھی شد و مد اور کبھی عاجزی کے ساتھ شہر سے باہر جانے سے روک رہی تھی۔اس کی چھ سالہ بیٹی ٹی وی پر خوفناک مناظر دیکھ کر سہم جاتی ہے اور کہتی ہے:
" ابو،
اس نے اپنی بیٹی کو بانہوں میں سمیٹ کر اسے تسلی دی۔ساتھ ہی اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔اس کی بیٹی نے اسے اپنی بیوی کو منانے کا ایک بہت ہی اچھا خیال دے دیا تھا:
" جانِ من! میرا اس بزنس ٹرپ پر جانا بیحد ضروری ہے،
اس کی بیوی کا دل اب بھی نہیں مان رہا تھا،
*************************************
اس کا بزنس ٹرپ توقع سے زیادہ کامیاب رہا۔اسے خاطر خواہ منافع ہوا تھا۔اب اس کے پاس اتنے پیسے ہو گئے تھے کہ وہ اپنی فیملی کے لئے پاسپورٹ بنوا سکے اور کسی دوسرے ملک میں جا کر بس سکے۔۔۔
شہر میں داخل ہوتے ہی اسے کسی انہونی کا احساس ہو گیا تھا۔بس اڈہ سے اس کے گھر کی دوری تقریبا تین کلومیٹر تھی۔عام دنوں میں یہاں ٹیکسی والوں کی لائن لگی رہتی تھی،
سڑکیں ویران پڑی تھیں۔ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ہاں،
اس کا دل خدشات کی آماجگاہ بن گیا۔۔۔اس کے ذہن و دماغ میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔۔۔اس کے قدموں کی رفتار تیز سے تیز تر ہونے لگی اور آخرکار وہ بدحواس ہو کر دوڑنے لگا۔۔۔ہانپتے ڈانپتے جب وہ اس جگہ پہونچا جہاں اس کا گھر تھا،
*************************************
دوسری صبح وہ پاسپورٹ آفس کے سامنے لائن لگا کر کھڑا تھا۔اپنی باری آنے پر اس نے پاسپورٹ افسر کی جانب تین فارم بڑھائے۔۔۔پاسپورٹ افسر نے تینوں فارم کو دیکھنے کے بعد اسے تیز نگاہوں سےگھورتے ہوئے کہا:
" عدنان صبحی،
اس نے کھوئی کھوئی سی آواز میں کہا:
" لایا ہوں،
یہ کہتے ہوئے اس نے افسر کے سامنے کاؤنٹر پر اپنے ساتھ لائی ہوئی دونوں بوریوں کو الٹ دیا۔۔۔ان بوریوں میں چیتھڑے تھے۔۔۔





