جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اسلام کا "وقتی بیانیہ" ایک جائزہ

تحریر: حافظ عبدالحسیب عمری مدنی24 مارچ، 20191,325قارئین4 تبصرےمطالعے کا وقت: ۸ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

بیانیہ کیا ہے؟

کسی بھی چیز کو کسی مخصوص سانچے میں ڈھالنا اور اسے اپنی ایک تعبیر اور تفسیر دینا دراصل اس چیز کا بیانیہ ہے۔

اہل اسلام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام کی صحیح ترجمانی اور تفہیم کی کوشش کریں۔

تبلیغ اسلام کا یہ بڑا ہی اہم اور انتہائی نازک پہلو ہے کہ اسلام کو ہر زمانہ سے وابستہ (relevant) کرکے دنیا کو یہ پیغام دیں کہ اسلام ہر دور کے مسائل کو حل کرنے کی نہ صرف طاقت رکھتا ہے بلکہ اس میدان کا یہ چیمپئن ہے،اس حد تک کہ یہ خود اسلام کی حقانیت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔اس ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھنا شاید اس قدر مشکل نہ ہو مگر اس کی نزاکت کا ادراک اپنے آپ میں بڑا ہی مشکل کام ہے۔

(وما يلقاها إلا الذين صبروا و ما يلقاها إلا ذو حظ عظيم) ...

حالات کیسے ہی ہوں اور ان کے تقاضے کتنے ہی غیر معمولی یا سنگین ہوں اسلام کا اپنے آپ میں یہ تقاضہ سب پر مقدم ہے کہ کسی مخصوص بیانیہ میں کہیں اسلام کا حقیقی تشخص اور اس کی اصلی تصویر گم ہوکر نہ رہ جائے۔زمان و مکان سے اوپر اس کی آفاقی تعلیمات کہیں محض کسی مخصوص دور کے تقاضوں کا ردعمل اور ان تقاضوں کی روشنی میں دی گئی تعبیر اور تفسیر کا چربہ بن کر نہ رہ جائے کیونکہ جس رب نے اس شریعت اور اس دین کو نازل فرمایا ہے اسی نے جب اس دین و شریعت کو قیامت تک رہنے والا قرار دیا ہے تو اس کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ اس اسلام کے اندر فطری طور پر یہ کمال موجود رہے کہ وہ اپنی سادگی مگر پرکاری سے نئے حالات کا سامنا کرنے اور ان کے تقاضوں کو پورا کرنے پر قادر رہے۔

اس میں بیک وقت انسانی سماج کے مختلف طبقات کا مطلوب بھی رہے اور زمان و مکان کے بدلتے تقاضوں کے مطابق رہنمائی کا سامان بھی میسر رہے اور واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے اندر وہ قوت و طاقت ہے،وہ خود نہ بدل کر بدلتے زمانے،حالات میں انسانیت کی تقدیر سنوارنے اور لوگوں کی تقدیر بدلنے والی تعلیمات اپنے اندر رکھتا ہے۔

اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ وہ آوازیں ہیں جو مکمل اسلام کے بجائے محض قرآن کو ایک ابدی کتاب مانتے ہیں اور پھر نئے زمانے کے مطابق از سر نو تفہیم قرآن یا نئے حالات اور ذہن کے مطابق تشریح اسلام کا راگ الاپتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی بیانیہ کی؛ہر دور کے حالات کے مطابق اسلام کو ماضی کے ساتھ ساتھ انسانیت کے حال اور مستقبل کے غموں کا مداوا ثابت کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہے مگر یہ بھی اہم ہے کہ اسلام کو کچھ مخصوص حالات کے تناظر میں مخصوص بیانیہ کا رنگ دے کر اس کے فطری حسن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی نہ کی جائے۔

تاریخ اسلام میں ایسے کئی ادوار آئے اور کئی بیانیے وجود میں آئے۔منطق و فلسفہ کی یلغار کے دور میں کلامی بیانیہ شاید بعض اہل علم کو وقت کی ایک ضرورت لگا ہوگا مگر اس بیانیہ نے سادہ اور فطری اسلامی عقائد کو کس قدر مشکل بنادیا یہ اہل علم سے مخفی نہیں۔

عصر حاضر میں اسلام کا "جہادی بیانیہ" اور پھر اس کے بعد دہشتگردی کے الزامات کی بوچھاڑ میں اسلام کا "سلمی بیانیہ" دو ایسے اہم واقعات ہیں جن سے جزوی طور پر صحیح اسلام کے دو بہت حد تک باہم متضاد بیانیے وجود میں آئے ہیں۔ان میں سے ہر دو کی زد میں اسلام کی کون کون سی تعلیمات آئی ہیں ان کا اندازہ لگانا اہل علم کے لئے مشکل نہیں۔وقتی طور پر شاید ان میں سے ہر ایک بیانیہ کی تائید میں کچھ آوازیں اٹھیں،ہر ایک بیانیہ کی افادیت ثابت کرنے کے لئے معقول یا غیر معقول عذر بھی تلاش کئے جائیں لیکن اہل علم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی ہمدردی کسی مخصوص بیانیہ سے زیادہ اصل اسلام سے ہونی چاہئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے "اہل علم" کا یہی کردار متعین فرمایا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ہر آنے والی نسل میں سے بہتر لوگ اس علم (دین) کے حاملین بنیں گے۔جو غلو پسندوں کی تحریف،باطل پرستوں کی باطل پرستی اور جاہلوں کی تاویلات کو دین سے الگ اور جدا کرتے رہیں گے۔۔

(رواه البيهقي وصححه الألباني في تخريج المشكاة)

عصر حاضر کا ایک اور بیانیہ بھی بڑا اہم ہے اور اس کے علمبردار بھی کئی ایک ہیں اور ان کے متبعین بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔وہ ہے "عقلانی بیانیہ" یا "جدت پسندانہ بیانیہ" سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی اور معلومات کا سیلاب (جسے عربی میں الانفجار المعرفي اور انگریزی میں (Information or knowledge explosion) سے تعبیر کیا جاتا ہے) نے نئے قسم کے حالات پیدا کئے ہیں ان حالات کے رد عمل میں جو ذہن وجود میں آیا ہے اس کو مطمئن کرنے کے نام پر وجود میں آنے والا یہ بیانیہ بڑے دور رس نتائج مرتب کرنے والا ہے۔۔

کسی بھی مفکر کی متاثر کن فکر کی طرح وقتی طور پر یہ بیانیہ اسلام کو اس جدید ذہن کے نزدیک زمانہ سے پوری طرح ہم آہنگ ( relevant) ثابت کرنے کا دعویدار تو ہے اور بہت ساروں کے نزدیک یہ دعوی مسلم بھی ہے مگر قانون الہی کے مطابق جب حالات بدلیں گے،اور یقینا بدلیں گے-تو یہی بیانیہ مکمل طور پر نئے حالات سے ہم آہنگ نہیں ہو پائے گا اور وہ (irrelevant) ہو کر رہ جائے گا۔المیہ یہ ہوگا کہ اس وقت یہ معاملہ بیانیہ کا نہیں بلکہ اسلام کا بنادیا جائے گا۔کیونکہ حال میں کسی مخصوص بیانیہ کو حقیقی اسلام قرار دینے کا مطلب یہی ہوگا کہ مستقبل میں نئے اور بدلے ہوئے حالات میں بیانیہ نہیں بلکہ حقیقی اسلام ہی (irrelevant) بن جائے گا۔

یہ عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ ایسے ہی بیانیے تجدیدی کارنامہ شمار کئے جاتے ہیں۔تجدید دین دراصل دین کی نئی تعبیر یا نئے بیانیہ کا نام نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس مرور زمانہ کے ساتھ افراد کے ہاتھوں دین کی بدلی ہوئی شکل کو پھر سے اس کی اصل کی طرف لوٹانے اور امت کو دین سے جوڑنے کے باب میں علمی و عملی دونوں سطح پر غیر معمولی کارنامہ انجام دینے کا نام تجدید دین ہے۔اسی لئے تبلیغ اسلام ہو کہ تفہیم اسلام اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسلام کو،اس کی سادہ تعلیمات کو جوں کا توں پیش کرنے کے بعد ہی اس کو نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جائے یا چیلنجز کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔

اس کے برعکس نئے بیانیہ کی حاجت محسوس کرنے والے ذہن خود شکست خوردہ و بیمار ہیں تو وہ کیا کسی ذہن کا علاج کریں گے اور کیا اسلام کی برتری کا فریضہ انجام دیں گے۔نئے حالات کے مارے یہ ذہن خود ایک مسئلہ ہیں یہ مسائل کا حل دینے والے نہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کس قدر معنی خیز ہے

(نضر الله امرأ سمع منا شيئا فبلغه كما سمعه)

اللہ اس بندے کو ترو تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی پھر اس کو ہو بہو ویسے ہی پہونچادیا جیسے اس نے سنا

(رواه الترمذي وابن ماجة وصححه الألباني في تخريج المشكاة )

ماضی میں منطق اور فلسفہ کی یلغار کے مقابلے میں جب ایک طبقہ کلامی بیانیہ کو وجود میں لارہا تھا تب اہل سنت محدثین کرام نے اسی طرز تبلیغ و تفہیم کو اپنائے رکھا۔تبلیغ کا فریضہ بھی انجام دیا اور فلسفہ و منطق کی موشگافیوں کا الگ سے سدباب بھی کیا۔اسلام کو ایک نیا بیانیہ دینے کی کوشش نہ کی۔

قصہ مختصر یہ کہ اسلام کی ابدی و آفاقی تعلیمات کو وقتی بیانیہ سے زیادہ اس کی حقیقی شکل میں پیش کردینا ہی سب سے بہتر بیانیہ ہے۔

اسلام کا وقتی بیانیہ: ایک جائزہ (قسط:۲)

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (4)

ح
حافظ عبدالحسیب
1 اپریل، 2019
آپ نے مزید کھولنے کی بات کی ہے۔۔ میرا خیال ہے بات واضح ہے۔۔۔ میں نے دور حاضر کےجس "نئے بیانیہ " کی بات کی ہے اس میں جدید حالات میں قرآن و سنت سے روشنی لے کر انسانیت نوازی کا فریضہ نباہنے سے فرار کی بات دور دور تک نہیں ہے اور نہ مقصود ہے۔۔۔ لہذا جو بھی جدید ہے شدید و بغیض ہے والی بات بے محل ہے۔۔ اس سلسلے میں تو ہمارا موقف یہی ہے اور ہونا چاہئے کہ مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر۔ ہماری بات یہ ہے کہ اسلام کو اور مسلمات اسلام کو نئے زمانے اور اس سے ہم آہنگ کرنے کے نام پر ایک نئی تعبیر دینے کی بات کی جائے۔۔۔ اسلام کی یا بعض احکام اسلام کی نئی تفسیر کی جائے۔۔ کچھ اس طرح کہ زبان حال سے یہ دعوی بھی ہو کہ وإني وإن كنت الأخير زمانه لآت بما لم تسطعه الأول(أبو العلاء المعري ) اس بیانیہ کا اس طرز فکر کا جو نقصان ہے اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اس میں سلف صالحین کے فہم دین کو نئے حالات میں نا قابل قبول قرار دیا جاتا ہے جبکہ ابن مسعود رضي الله عنه کا فرمان ہے "عليكم بالأمر العتيق" أي القديم.. اس سے بڑھ کا اس دعوے کا لازمی مفہوم یہ بھی ہے کہ اسلام اور احکام اسلام کا کوئی ثابت مفہوم نہیں ہے۔۔ وہ ہر دور میں اپنا معنی و مفہوم بدلتے رہتے ہیں۔۔۔ یہ محض ایک چولا ہے جو ہر دور کے "نئے مسلمہ حقائق" کو پہنا دیا جاتا ہے۔۔۔ و هلم جرا .. مختصر یہ کہ ہم نے نئے بیانیہ کے نام پر جس پر نکیر کی ہے وہ نئے حالات میں اسلامی حقائق و مسلمات کی تفسیر کو بدلنا ہے نہ یہ کہ نئے حالات میں اسلام سے رہنمائی لینا
س
سعد
31 مارچ، 2019
اس نکتہ پہ بات کرنے والا انداز صرف اس لئے اچھا نہیں کہ موضوع ایک بہت ہی پیچیدہ سیاق کی طرف اشارہ کر رہا ہے بلکہ قرآن اور احادیث کی حتی المقدور انفارمیشن سے نئے کوائف سامنے آ سکتے ہیں. چونکہ معرفت کا ایک بہت بڑا، گہرا، اور پیچیدہ تعلق کلام، فلسفہ، شاعری، ادب سے بھی ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح قرآن، احادیث سے ہے. معرفت کا نیا تعلق اور نئی تفہیم ایک گمراہ کن درجہ بندی کے علاوہ ایک توحیدی تصور کی تجسیم یا توحید کی تلاش سے بھی منسلک ہے. ہمارے عہد کو age of information بھی کہتے ہیں جس کا سیدھا مطلب اول درجے میں انفجار العلمي یا معرفۃ الذات بالعنایۃ العقل سے موسوم ہے. چونکہ ہمارے بعض علماء نے عقل کو بذات خود اچھا بتایا ہے، بعض نے عقل کو دوسرے درجے میں اچھا بتایا بعض نے باطنی و تدابیری لحاظ سے اچھا بتایا اور بعض نے خارجی معاملات میں اچھا بتا یا ہے. اسی کے ساتھ ہی عقل الہام اور وحی سے خالی ہو، دل سے کوئی واسطہ نہ رکھےتو 50٪ اچھے واقعات ہونے کے چانسز ہیں بس..، یعنی مابعد الممات بندہ بغلیں جھانکتے پھرے اللہ اتنی زیادہ عقل کیوں دی دنیا کا بھلا کرلیا اپنا نہ کرسکا. مگر اچھے ہونے کے پچاس پرسنٹ چانسز اپنا کام دکھا کر رہیں ہیں. وہ معاشرہ جس کے نمائندوں نے ان سے سب چیزیں چھین لیں اور انہیں اتنا تباہ و برباد کیا کہ بوڑھی اور بچیوں کو زندگی کے نام سے بھی وحشت ہونے لگی. ایسے معاشرہ کے لوگ اپنے نمائندوں کوچھوڑ کر پھر سے شعور کی رو کی روشنی میں اپنے نجات دھندہ کو ڈھونڈ رہے ہیں تو اسے، وحی اور الہام والے سینے سے کیوں نہیں لگاتے؟ انکی رہنمائی کیوں نہیں کرتے؟ کیوں اسلام کو مظلومیت کے خانہ میں رکھ *جو بھی جدید ہے شدید و بغیض ہے* جیسے والے عندیے پہ کان دھر رہے ہیں. اسلام کی جدت کے سامنے تو جدید نے بھی گٹھنے ٹیکے ہیں. ہم انفجار العلمی من القرآن و الحديث کی بات کیوں نہیں کر سکتے؟ کیوں اسے آگے نہیں بڑھا سکتے؟ اسلام جنگل کا دین تو نہیں جو مادیت سے ڈرتا پھرے. اسلام تو مادی دنیا اور مادیت سے بھرپور سماج میں ہی نکھرتا ہے جھونپڑیوں اور الگ تھلگ رہنے والوں میں نہیں.
م
محمد عمر سلفی
26 مارچ، 2019
ماشاء اللہ آپ نے تعلیق کا حق ادا کر دیا
S
Shakeel ahmad
24 مارچ، 2019
ماشاءاللہ لفظ لفظ مین گھرائی کلمہ کلمہ میں علمی تبحر کی طرف اشارہ اور جملہ جملہ میں کاتب کی اسلامی اصولون پر گھری نظر اور پکڑ پردلالت کرتی تحریر مزہ آگیا اللہ آپکو مزید فرصت کے لمحات عطا فرمائے تاکہ آپکے رشحات وشذرات سے ھم مستفید ھوتے رھیں

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اسلام کا "وقتی بیانیہ" ایک جائزہ - دی فری لانسر | دی فری لانسر