پہلے مرحلے کی پولنگ کا وقت جوں جوں قریب آرہا ہے انتخابی مہم شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش بھی شروع ہو گئی ہے۔یہ کوشش کسی اور کی جانب سے نہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی کی جانب سے ہو رہی ہے۔سب سے پہلے ارو جیٹلی نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ہندو دہشت گردی کا الزام لگایا تھا جو کہ فیصلے سے غلط ثابت ہوا۔پھر بی جے پی صدر امت شاہ نے بھی یہی بات کہی۔دونوں نے ہندو دہشت گردی کے الزام کے لیے کانگریس کو مورد الزام ٹھہرایا۔اس کے بعد نمبر آیا وزیر اعظم مودی کا۔انھوں نے تو اسے اور آگے بڑھا دیا۔مودی نے صرف ہندو دہشت گردی کے الزام کا حوالہ نہیں دیا بلکہ کانگریس صدر راہل گاندھی کے کیرالہ کے ویاناڈ سے الیکشن لڑنے کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دے دیا۔انھوں نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ہندو دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کی تھی۔پھر مجمع سے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ جب ہندو دہشت گردی کا الزام لگایا گیا تو آپ کو چوٹ پہنچی کہ نہیں پہنچی۔پھر انھوں نے اس حملے کو اور تیز کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ہندو دہشت گردی کا الزام لگا کر ایک پاپ کیا ہے اور عوام اسے معاف نہیں کریں گے۔انھوں نے بات یہیں ختم نہیں کی بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہزاروں سال میں بھی ہندو دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ان کا یہ آخری جملہ دروغ گوئی کی اعلیٰ مثال ہے۔وہ اس فن میں ماہر ہے۔یہاں بھی انھوں نے اسی مہارت کا مظاہرہ کیا۔لیکن ان بی جے پی لیڈروں کی بے ایمانی ملاحظہ فرمائیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے فیصلے میں ہندو ملزموں کے رہا ہو جانے کا تو ذکر کرتے ہیں لیکن این آئی اے جج نے اپنے فیصلے میں جس کرب کا اظہار کیا ہے اسے گول کر جاتے ہیں۔انھوں نے بڑے رنج اور غم و غصے کے ساتھ فیصلے میں لکھا ہے کہ انھیں بے حد تکلیف ہے کہ دہشت گردی کی اتنی بڑی واردات انجام دینے والے ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے سزا پائے بغیر چھوٹ جا رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے استغاثہ یعنی این آئی اے کو خوب کھری کھوٹی سنائی اور کہا کہ اس نے جان بوجھ کر بہترین ثبوت اپنے پاس روک لیے انھیں عدالت میں پیش ہی نہیں کیا۔انھوں نے اور بھی بہت سی قابل غور باتیں کہی ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ سب سے پہلے ہندو دہشت گردی کی اصطلاح اس وقت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے استعمال کی تھی جو کہ اب بی جے پی میں ہیں اور مرکز میں وزیر بھی ہیں۔لیکن ان کا نام سامنے نہیں آنے دیا جاتا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم کے اس دعوے میں کتنی صداقت ہے کہ ہزاروں سالوں میں بھی ہندو دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ہم فی الحال حالیہ واقعات کی روشنی میں بات کریں گے اور کہیں کوئی جانبداری کا الزام نہ لگا دے اس لیے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں دو اپریل کے شمارے میں شائع ایک رپورٹ کا حوالہ دیں گے۔یہ رپورٹ اس کی نمائندہ دیپتی مان تیواری نے تیار کی ہے۔انھوں نے بھی اپنے آپ کوئی بات نہیں کہی ہے بلکہ عدالتی فیصلوں اور تبصروں کی روشنی میں مودی کے دعوے کا جائزہ لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر چہ عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزموں کو بری کر دیا ہے لیکن انھوں نے انتہائی دکھ اور غم و غصے سے یہ فیصلہ لکھا ہے اور این آئی اے کو ثبوت روک لینے پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اس کے بعد اخبار نے کچھ مثالیں پیش کی ہیں جن کے مطابق آٹھ مارچ 2017ءکو این آئی اے کی جے پور عدالت نے آر ایس ایس کے تین پرچارکوں سنیل جوشی،
یہ تو اخبار انڈین ایکسپریس کے ذریعے پیش کیے جانے والے حقائق کی تفصیل تھی۔اب ذرا کچھ اور واقعات پر نظر ڈال لیں۔شمبھو ریگر کون ہے جس نے ایک مسلم ملازم کو ہلاک کرنے کے بعد اس کو نذر آتش کر دیا تھا۔کیا وہ مسلمان ہے اور کسی مسلم تنظیم سے وابستہ ہے۔ملک میں ماب لینچنگ یا ہجومی تشدد کے جو واقعات ہوئے ہیں کیا ان میں ملوث شرپسند مسلمان ہیں یا عیسائی ہیں یا غیر مسلم ہیں۔موجودہ حکومت میں درجنوں افراد کو ہجومی تشدد میں ہلاک کرنے والے کون لوگ ہیں کیا وزیر اعظم اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔ابھی ہولی کے روز گوڑ گاو ¿ں میں ایک مسلم خاندان کو بری طرح پیٹنے اور دہشت گردہ کرنے والے غنڈوں کا تعلق کس سے ہے۔کیا یہ تمام کارروائیاں لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے نہیں کی جا رہی ہیں۔آخر دہشت گردی کسے کہتے ہیں۔کیا صرف ان کارروائیوں کو جن میں مسلم ناموں والے ملوث ہوں یا پھر ان کارروائیوں کو بھی جن میں دوسرے ملوث ہوں۔ایک طرف وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں اور دوسری طرف ”ہندو دہشت گردی“ کو کلین چٹ دیتے ہیں۔آخر اس کا مطلب کیا ہے۔اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ مسلمان کوئی واردات کرے تو دہشت گرد اور ہندو کرے تو دیش بھکت۔اگر ہم صرف موجودہ دور حکومت میں ”ہندو دہشت گردی“ کی مثالیں دیکھنا چاہیں تو ان کا شمار و قطار ممکن نہیں ہوگا۔اس کے باوجود مودی جی کہتے ہیں کہ ہزاروں سالوں کی تاریخ میں ہندو دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا۔کیا اس سے بھی بڑا جھوٹ کوئی ہو سکتا ہے۔محض الیکشن جیتنے کے لیے اتنی دروغ گوئی اچھی نہیں ہے مودی جی!





