دل میں آتے ہی وہ دل نشیں ہوگئے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دل میں آتے ہی وہ دل نشیں ہوگئے
پھول کھلتے ہی بے حد حسیں ہوگئے
سوچوں ان کو مرے دل سے نکلے دعا
یوں ہوا پھر کہ حیراں جبیں ہوگئے
داغِ غم میرے آئے ہٹانے کو وہ
سارے غم اب تو زیرِ زمیں ہوگئے
کانٹے راہوں میں بھی تیرگی ہر طرف
ان کے آتے ہی رستے مبیں ہوگئے
میرے حاسد جو تھے مجھ سے جلنے لگے
بولے تم فیضیؔ کیسے نگیں ہوگئے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





